پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کا تنازعہ سنگین ہوتا جا رہا ہے : رچرڈ ہالبروک

ـ 4 مارچ ، 2010
  • Adjust Font Size

واشنگٹن (ثناءنیوز + جی این آئی) پاکستان اور افغانستان کیلئے امریکی خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کا تنازعہ سنگین صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری سے خطے میں امن واستحکام ہو گا۔ واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ دورہ جنوبی ایشیا کے دوران پاکستان اور بھارت کے عوام نے پانی کے امور پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی نہیں کریگا لیکن مذاکرات کیلئے دونوں ممالک کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری سے خطے میں امن و استحکام قائم ہو گا۔ انہوں نے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی طرف سے حالیہ عرصہ میں طالبان رہنماوں کی گرفتاری کے حوالہ سے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے اقتصادی، آبی اور توانائی کے سنگین مسائل کے باوجود طالبان کے خلاف موثر کارروائیوں پر پاکستان کی جمہوری حکومت اور پاک فوج کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ رچرڈ ہالبروک نے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی طرف سے افغان طالبان رہنماوں کی گرفتاری کو افغانستان میں اپنے اثرورسوخ کو ثابت کرنے اور افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے مغربی پروپیگنڈے کو سازش کہانیاں کہہ کر مسترد کر دیا۔ رچرڈ ہالبروک نے اس موقع پر مزید کہا کہ گذشتہ سال کے دوران پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں کافی بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی دفتر خارجہ میں ایک واٹر ریسورسز ٹاسک فورس بھی قائم کی گئی ہے جو پاکستان کو درپش آبی مسائل کے حل میں مدد دینے کے طریقے تلاش کر رہی ہے۔ رچرڈ ہالبروک نے مزید کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں انتہا پسند نظریات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے‘ انہوں نے کہا کہ طالبان پر سرحدوں پر دونوں جانب سے دباو بڑھانے سے خطے میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج نے جنوبی وزیرستان میں اور اتحادی فوج نے مرجا میں طالبان کے خلاف کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ رچرڈ ہالبروک کا کہنا تھا کہ تاجکستان میں پانی کے وسیع ذخائر ہیں جن سے پاکستان اور افغانستان میں پانی کی کمی کو دور کیا جا سکتا ہے۔ امریکہ کے نمائندہ خصوصی رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ کیری لوگر بل پر پیدا ہونے والی غلط فہمیاں دور ہو گئیں۔ اب حکومت پاکستان سے بہتر تعلقات ہیں‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کا کردار شاندار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ انتہا پسندی کا معاملہ ”ایشو“ اب ان کے لئے باعث تشویش نہیں رہا۔ دریں اثناءامریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالث کا کردار ادا نہیں کر رہے تاہم دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہے گی۔ صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے محکمہ خارجہ کے ترجمان فلپ کراولی نے کہا کہ پاکستان اور بھارت پڑوسی اور مشترکہ سٹریٹجک محل وقوع کے حامل ہیں اس لئے امریکہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ فلپ کراولی نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں امریکہ کے اہم اتحادی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت ان کے اپنے طویل مدتی مفاد میں ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions