لاہور + ہارون آباد (سٹاف رپورٹر + نامہ نگار) سینئر صوبائی وزیر راجہ ریاض نے کہا ہے کہ اگر پنجاب میں 60-40 کے تناسب سے پیپلز پارٹی کو نوکریوں میں کوٹہ ملا تو صوبے کی مخلوط حکومت ختم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپوزیشن میں بیٹھنے کو تیار ہیں اور اگر ایسا ہوا تو روزانہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کر کے حکومت کی خرابیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کریں گے۔ پی پی 111 میں مسلم لیگ (ن) کی حمایت کی اس لئے شہباز شریف بھی پی پی 284 میں ہماری حمایت کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔راجہ ریاض نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ پنجاب میں زیادہ سے زیادہ عملی تعاون کیا ہے لیکن پی پی پنجاب کی پارلیمانی پارٹی میں اس الحاق کے حوالے سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں کیونکہ صوبے میں پی پی کے وزرا اور ارکان اسمبلی کی شنوائی نہیں ہو رہی چناچہ دونوں جماعتوں کے درمیان طے شدہ معاہدے پر عمل درآمد نہایت ضروری ہے دوسری صورت میں ہمارے پاس حکومت سے علیحدگی کے سوا کوئی آپشن نہیں ہو گا۔ ہارون آباد سے نامہ نگار کے مطابق صوبائی پارلیمانی سیکرٹری صحت چودھری شوکت محمود بسرا ایم پی اے کی رہائش گاہ پر وفاقی وزیر انسانی حقوق سید ممتاز عالم گیلانی اور ایم پی اے کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راجہ ریاض نے کہا کہ پنجاب میں مفاہمت کی پالیسی کے تحت اتحادی حکومت میں شامل ہیں۔ انہوں نے وزرا کی الیکشن مہم حلقہ پی پی 284 میں شرکت پر کہا کہ ہمارا حکومتی مشینری استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ انہوں نے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ وہ سابق ایم پی اے روف خالد کی ضمانت کے بارے میں ازخود نوٹس لیں کیونکہ سیاسی مقدمہ میں ضمانت کو الیکشن کے بعد تک لے جانا ہمارے ساتھ سیاسی ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا وزیر آبپاشی ہونے کے ناطے پنجاب کے ہر کاشتکار کو پانی فراہم کرنے کا عزم ہے‘ کوئی ہمارا حصہ نہیں لے سکتا‘ جنوبی پنجاب کے کاشتکاروں کو گندم کے لئے کم از کم دو مرتبہ بھرپور پانی ملے گا۔
Post New Comment