لاہور + نوابشاہ (سٹاف رپورٹر + نامہ نگاران) نواب شاہ کے قریب مال گاڑی کو حادثہ کے 27 گھنٹے بعد ریلوے انتظامیہ اپ سائیڈ ٹریک بحال ہونے کے بعد ٹرینوں کو چلانے میں کامیاب ہو گئی‘ جبکہ پنجاب،سرحد اور بلوچستان سے سندھ جانیوالی ڈاون ٹرینوں کی ٹریفک اگلے 24سے 36 گھنٹوں میںبحال ہونے کا امکان ہے‘ حادثہ کے باعث آئندہ ایک ہفتے تک ٹرینوں کی آمدورفت کا شیڈول متاثر رہنے کا امکان ہے ۔ریلوے حکام نے ابتدائی تحقیقات کے بعد فرائض میں غفلت پر ڈی سی او سکھر محمد علی چاچڑ ، ایک اسسٹنٹ انجینئر ، دو سی ڈبلیو آئی اور ایک پی ڈبلیو آئی سمیت 5افسران و ملازمین کو معطل کر دیا ہے دوسری طرف چیف انجینئر اوپن لائن محمد خالد، سی ایم ای کیرج ملک حیات اور سی او پی ایس امین خالد پر مشتمل ریلوے کی3 رکنی کمیٹی حادثے کے بارے میں موقع پرتحقیقات کر رہی ہے۔ مسافروں نے انتہائی کسمپرسی کی حالت میں رات گزاری۔ حادثے کی وجہ سے لاہور سے کراچی جانیوالی قراقرم ایکسپریس دو گھنٹے کی تاخیر سے شام6بجے اور نائٹ کوچ6گھنٹے کی تاخیر سے رات12بجے کراچی روانہ ہو سکی۔ حادثے نے ریلوے کے ایک صدی پرانے ٹریک کا پول کھول کے رکھ دیا۔ ریلوے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اپ اور ڈاﺅن سائیڈ کی ٹرینیں 5 سے 25 گھنٹے کی ریکارڈ تاخیر کا شکار ہو گئیں۔ کراچی سے آنیوالی عوام ایکسپریس 25گھنٹے، ہزارہ ایکسپریس24گھنٹے، خیبر میل ساڑھے12گھنٹے، قراقرم ایکسپریس ساڑھے10گھنٹے اور علامہ اقبال ایکسپریس ساڑھے9گھنٹے جبکہ ڈاﺅن سائیڈ پر کراچی جانیوالی تیز گام 10گھنٹے، علامہ اقبال ایکسپریس11گھنٹے، کراچی ایکسپریس 9گھنٹے، قراقرم ایکسپریس ساڑھے8گھنٹے، عوام ایکسپریس ساڑھے5گھنٹے اور کوئٹہ ایکسپریس 5گھنٹے کی تاخیر کا شکار ہو گئیں۔ ڈی ایس ریلوے روشن علی منگی نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں بتایا کہ مال گاڑی کا حادثہ تخریب کاری نہیں ہے تحقیقات جاری ہیں جو بھی ملوث پایا گیا اس کیخلاف کارروائی کی جائیگی۔ نامہ نگاران کے مطابق ٹنڈو آدم ریلوے سٹیشن پر عوام ایکسپریس 17 گھنٹے کھڑی رہی‘ مسافروں نے ریلوے انتظامیہ اور سٹیشن ماسٹر کے خلاف نعرے بازی کی اور دھرنا دیا۔ بعض سٹیشنوں پر شہریوں‘ پیپلز پارٹی‘ متحدہ اور دیگر جماعتوں نے مسافروں کو کھانا پیش کیا۔
Post New Comment