اسلام آباد (خبرنگار) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کے لئے وزارت قانون، خارجہ اور انسانی حقوق کو مل کر حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ڈاکٹر عافیہ کو سزا ہی دلوانا تھی تو امریکی وکلاءکو بھاری فیسیں کیوں ادا کی گئیں، کمیٹی کے ارکان نے رہائی کے حوالے سے امریکہ مےں پاکستانی سفیر حسین حقانی کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دے دیا۔ کمیٹی نے امریکی صدر اوباما سے معافی اور پیرول پر رہائی کی درخواست کی حکومتی تجویز مسترد کر دی۔ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس گذشتہ روز چیئرمین ریاض فتیانہ کی صدارت مےں پارلیمنٹ ہاﺅس مےں فوزیہ صدیقی نے بھی خصوصی دعوت پر شرکت کی۔ چیئرمین کمیٹی ریاض فتیانہ نے کہا کہ ملک مےں قانون موجود ہے کہ کسی بھی ملزم کو بیرون ملک حوالے کرنے سے قبل مقامی عدالت مےں مقدمہ چلایا جائے۔ سابقہ دور مےں جو ہونا تھا ہوگیا آئندہ ایسا نہیں ہونا چہئے، ڈاکٹر عافیہ پر مقدمہ پاکستان یا افغانستان مےں چلانا چاہئے تھا۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ مےں امریکہ گیا تھا جہاں حسین حقانی رہائی کے معاملے پر مطمئن نہیں کر سکے ان کی کارکردگی مایوس کن ہے، وزیراعظم، وزیر خارجہ اور حسین حقانی نے قوم کو یقین دہانی کروائی تھی کہ ڈاکٹر عافیہ رہا ہو جائیں گی مگر ایسا نہیں ہوا، ان سے جواب طلب کیا جائے۔ وزارت خارجہ کی ایڈیشنل سیکرٹری امریکی ڈیسک عطیہ محمود نے کہا کہ ہم صرف مالی معاملات اور باہمی تنازعات کو عالمی عدالت مےں لے جاسکتے ہےں، کریمنل کیس نہیں لے جاسکتے۔ جوائنٹ سیکرٹری انسانی حقوق احمد یار نے تجویز دی کہ امریکی صدر سے معافی اور پیرول پر رہائی کی درخواست کی جائے، کمیٹی نے اس سے اتفاق نہیں کیا، ریاض فتیانہ نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ نے کوئی جرم نہیں کیا تو معافی کی درخواست کس لئے، کمیٹی کو وزارت خارجہ کی جانب سے بتایا گیا کہ گوانتاناموبے مےں اب بھی پانچ پاکستانی قید ہےں، ان مےں عمار بلوچ، سیف اللہ پراچہ، محمد احمد غلام ربانی، عبدالرحمن عرف عبدالرحیم اور ماجد خان شامل ہےں، امریکہ ان کی رہائی کے لئے ہمیں لیگل سپورٹ کی اجازت نہیں دے رہا تاہم ہم امریکی عدالت مےں جاسکتے ہےں، کمیٹی نے کہا کہ وزارت خارجہ سفارتی کوششیں نہ کرے بلکہ عدالت مےں بھی جائے۔ اجلاس مےں بلوچستان مےں لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کی ہدایت کی اور ڈیرہ بگٹی مےں سب جیل کے قیام کا سخت نوٹس لیا۔
Post New Comment