سرینگر + واشنگٹن (این این آئی) صدر پاکستان آصف علی زرداری نے انکشاف کیا ہے کہ مسئلہ کشمےر کے حل کےلئے سنجےدہ سرگرمےوں کا آغاز ہو گےا ہے‘ آنے والے مہےنوں کے دوران پاکستان آنے والی بھارتی قےادت کے ساتھ اس معاملے پرحتمی لائحہ عمل تیار ہو جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمےر کے حل کےلئے جنگ کوئی آپشن نہےں ہے اور نہ ہی پاکستان بھارت کا دشمن ہے۔ جو حل کشمیریوں کو قابل قبول ہو گا وہی سب سے باوقار حل ہو گا۔ بھارت اور پاکستان کشمےر سے لاکھ اپنا دامن چھڑا لےں لےکن ےہ تنازعہ اب ہمارے گلے کی ہڈ ی بن چکا ہے اس لئے اس کا حل نکالنا ہی ہوگا۔ بھارتی قےادت بشمول وزےر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو ےہ پےغام دےنا چاہتا ہوں کہ ہم لاکھ کوششےں بھی کر لےں اس مسئلے کو اب سرد خانے مےں ڈالا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے نظر اندازکےا جا سکتا ہے لہذا جتنی جلدی ہوسکے حقےقت کا ادراک کرتے ہوئے دونوں ممالک کی قےادت کو کسی ٹھوس نتےجے پر پہنچنا ہوگا۔ کشمیر کا مسئلہ ہو یا پانی کا، پاکستان کی موجودہ جمہوری حکومت بھارت کو کسی بھی معاملے پر بالادستی کرنے کی اجازت نہےں دےگی۔ امریکی جریدے سے انٹروےو کی مزید تفصیل کے مطابق زرداری نے کہا کہ وہ بھارت کے خلاف کبھی نہےں رہے لےکن ماےوس ضرور ہےں کےونکہ جب بھی پاکستان کی جانب سے بھارت کے ساتھ مسائل کو حل کرنے کےلئے مذاکرات کی پہل ہوئی بھارت کی جانب سے اسے کمزوری سمجھا گےا۔ پاکستان کسی بھی انداز سے کمزور نہےں۔ اس بات مےں کوئی شک نہےں کہ بھارت اور پاکستان کے درمےان تنازعات ہےں جنہےں حل کرنا ہی ہے۔ اس ضمن مےں انہوں نے کشمےر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمےر اےک زندہ جاوےد حقےقت ہے جسے حل کئے بنا برصغےر مےں امن کی ضمانت نہےں دی جا سکتی۔ کشمےرےوں کی تحرےک کی حماےت کا اعادہ کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہاکہ پاکستان کشمےرےوں کی جدوجہد کی شروع سے حماےت کرتا آےا ہے‘ جب تک ےہ جدوجہد جاری رہے گی تب تک پاکستان کی جانب سے کشمےرےوں کی سےاسی ،اخلاقی اور سفارتی مدد جاری رہے گی۔ کشمےری حق خودارادےت کا مطالبہ کر رہے ہےں اور اقوام متحدہ مےں ان کا کےس حل ہونا چاہئے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اور راستے بھی ہےں جن کے ذرےعے سے ہم کسی نتےجے پر پہنچ سکتے ہےں‘ حقےقت مےں بھارت مسئلہ کشمےر کے حل مےں سب سے بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔ بھارت کی قےادت آنے والے مہےنوں مےں پاکستان کا دورہ کر رہی ہے اور وہاں مسئلہ کشمےر‘ آبی تنازعے اور سےاچن و سرکرےک پر ٹھوس بات چےت ہو گی‘ امےد ہے کہ کچھ نہ کچھ نکل کر آئےگا۔ جب ان سے پوچھا گےا کہ پاکستان اب بھارت کے ساتھ کشمےر کے بجائے آبی تنازعات مےں الجھ گےا ہے تو زرداری نے کہا کہ پاکستان کےلئے سب سے بڑی ترجےح مسئلہ کشمےر کا حل ہے لےکن بھارت نے پانی کی سپلائی کے حوالے سے بھی جو طرےق کار اختےار کر لےا ہے وہ سندھ طاس معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے لہٰذا پاکستان کو اس ضمن مےں نہ صرف تشوےش ہے بلکہ وہ پانی کے معاملے پر بھارت کی بالادستی کو کسی صورت قبول کرنے کےلئے تےار نہےں۔ سابقہ حکومتوں نے کشمےر اور دےگر معاملات پر جو پالیسی اپنائی اس سے جہاں کشمےر کاز کو نقصان پہنچا وہاں پانی کے معاملے پر بھی پاکستان کو نقصان پہنچا ہے لےکن اب کسی بھی طرح سے پاکستان کی موجودہ جمہوری حکومت بھارت کو کسی بھی معاملے پر بالادستی کی اجازت نہےں دےگی۔ بھارت اور پاکستان کے درمےان اےسے عناصر موجود ہے جو دونوں ممالک کے درمےان غلط فہمےاں پےدا کررہے ہےں اور امن کے ماحول مےں رکاوٹیں پےدا کر رہے ہےں لےکن ان کا اپنا مفاد ہے۔ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے اس لئے دہشت گردی کے معاملے پر پاکستان کو کوئی بھی ملک چاہے وہ ہمساےہ ملک ہی کےوں نہ ہو ےرغمال نہےں بنا سکتا اور نہ ہی اس ضمن مےں پاکستان کو دباو مےں لا سکتا ہے۔ ہم نے بہت قربانےاں دی ہےں اور دہشت گردی کی وجہ سے انہوں نے ذاتی طور بھی بہت کچھ کھوےا‘ دہشت گردی کے معاملے پر ان کی جانب سے سمجھوتہ نہےں ہو سکتا۔ ممبئی حملوں کی آڑ مےں بھارت نے بات چےت کے عمل کو ےرغمال بناےا لےکن ہم کسی بھی قےمت پر امن مذاکرات کو ےرغمال بننے نہےں دےنگے بلکہ بھارت کے ساتھ ہر حال مےں پڑوسےوں کی طرح رہنے کو ترجےح دیں گے۔
Post New Comment