اسلام آباد (سہیل عبدالناصر) افغانستان اور پاکستان کیلئے امریکہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک نے تقرری کے بعد جس سرعت سے پاکستان میں اپنا اثرورسوخ پیدا کیا اور جس انداز میں وہ پاکستان کے اندرونی معاملات پر اثرانداز ہو رہے ہیں اس کی بدولت انہیں پاکستان کیلئے امریکہ کا نیا واسرائے قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک دہائی قبل رابرٹ اوکلے وہ آخری امریکی سفارتی نمائندے تھے جنہیں ان کے تحکمانہ رویہ اور اثر انداز ہونے کی صلاحیت کی وجہ سے امریکی وائسرائے کہا جاتا تھا۔ رچرڈ ہالبروک کے بارے میں پائے جانے والے مذکورہ بالا تاثر کے بارے میں نوائے وقت کے استفسار پر متعدد حکومتی شخصیات نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ امریکی خصوصی نمائندے نے نہ صرف نہایت مہارت و محنت سے پاکستان کے معاملات کو سمجھا بلکہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں‘ سیاسی قائدین‘ بیورو کریسی‘ ملٹری و انٹیلی جنس اسٹیبلشمنٹ‘ سول سوسائٹی اور میڈیا میں مضبوط روابط استوار کئے جس کی بدولت اب پاکستان کے بارے میں ان کی آراء کو واشنگٹن میں اولین اہمیت دی جاتی ہے۔ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ ہالبروک اب اتنے پُراعتماد ہو چکے ہیں کہ وہ پاکستان میں اپنی ملاقاتوں کے دوران داخلی سیاسی معاملات پر بھی اکثر اوقات کھل کر اور بسااوقات بین السطور مشورے دینے لگے ہیں۔ سالہا سال سے امریکی سنٹرل کمان اور پاکستان کا جی ایچ کیو دونوں ملکوں کے درمیان رابطے کا سب سے قابل اعتماد ذریعہ تھے۔ اوباما انتظامیہ نے اس رابطے کو مزید ترقی دے کے اپنے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مائیکل مولن کو اہم ترین رابطہ کار مقرر کیا لیکن عملاً ہالبروک اب پاکستان کے ساتھ امریکہ کے اعلیٰ ترین رابطہ کار بن گئے ہیں۔ پاکستان میں ان کے رابطوں اور ملاقاتوں کا دائرہ سیاسی و حکومتی حلقوں سے لے کر چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ تک پھیلا ہوا ہے۔ اس اعتبار سے انہیں ایڈمرل مائیکل مولن پر یہ برتری بھی حاصل ہے کہ ان کے تعلقات صرف پاکستان کی عسکری قیادت تک محدود نہیں۔ ہالبروک کو ایک کامیابی یہ بھی حاصل ہوئی ہے کہ پاکستان میں ان کی تقرری اور اس کے فوراً بعد کشمیر کو ان کے دائرہ اختیار میں شامل نہ ہونے سے جس ابتدائی ناپسندیدگی نے جنم لیا تھا وہ اب حکومتی حلقوں کی حد تک پسندیدگی میں بدل چکی ہے۔
وائسرائے
Post New Comment