کنٹرول حاصل کر لیں گے ‘ عسکریت پسندوں کو مکمل شکست دینے میں 2 ماہ لگ سکتے ہیں : فوجی ترجمان

ـ 4 جون ، 2009
  • Adjust Font Size

لوئر دیر (ریڈیو نیوز + مانیٹرنگ نیوز + ایجنسیاں) سکیورٹی فورسز نے بونیر کے علاقوں سلطان واس اور پیر بابا کے علاقے کو شدید مزاحمت اور طویل لڑائی کے بعد کلیئر کرا لیا‘ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ بڑے شہروں اور قصبوں کو تین دن میں طالبان سے خالی کرا لیں گے تاہم عسکریت پسندوں کو مکمل شکست دینے میں مزید 2 ماہ لگ سکتے ہیں‘ شنکیاری کے مین بازار میں ٹائم بم کے دھماکے سے 4 دکانیں اور ایک گاڑی تباہ ہو گئی‘ شدت پسند جامع مسجد میں دھماکہ کرنا چاہتے تھے مگر اہل محلہ نے ان کی کوشش ناکام بنا دی اور وہ بم کو بازار میں رکھ کر فرار ہو گئے جبکہ سرحد کے سینئر وزیر بشیر احمد بلور نے کہا ہے کہ بونیر کے 80 اور سوات میں 70 فیصد حالات کنٹرول میں ہیں۔ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی۔ افراسیاب خٹک نے کہا ہے کہ مالاکنڈ میں متاثرین کے روپ میں بہت سے شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جبکہ 30 سے زائد عسکریت پسندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ میدان میں پرائمری سکول کو آگ لگا دی گئی ہے۔ آئی ایس پی آر سے جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق 24 گھنٹوں میں آپریشن راہ راست میں 7 عسکریت پسند اور ایک سکیورٹی اہلکار جاںبحق اور 2 زخمی ہوئے جبکہ سرچ آپریشن کے دوران 75 شدت پسندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ میجر جنرل اطہر عباس نے غیر ملکی خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جن علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری ہے وہاں طالبان کو مکمل شکست دینے میں دو ماہ لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان ایسے دشمن ہیں جو دھوکہ دیکر میدان جنگ سے روپوش ہو جاتے ہیں لہٰذا ان کا مکمل صفایا کرنے میں وقت لگے گا جبکہ فوج کو ایک سال یہاں رہنا ہو گا۔ ادھر جی او سی سوات میجر جنرل اعجاز اعوان نے کہا ہے کہ 17 جون کے بعد متاثرین مالاکنڈ واپس آسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوجی لحاظ سے تو انہیں کل ہی واپس لایا جا سکتا ہے تاہم ضروریات زندگی کی بحالی کا مسئلہ ہے اور 17 جون تک مینگورہ اور گردونواح کے علاقوں میں بجلی‘ پانی اور گیس کی فراہمی بحال کر دی جائے گی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت کامیاب ہونگے جب شدت پسندوں کی لیڈر شپ ختم کر دیں گے۔ بونیر کے آپریشن انچارج بریگیڈئر فیاض قمر نے کہا ہے کہ فورسز نے بونیر کے علاقہ پیر بابا کو کلیئر کر دیا ہے اور شدت پسندوں سے برآمد ہونے والا اسلحہ اور گولہ بارود امریکی اور روسی ساختہ ہے۔ ادھر اے این پی کے رہنما افسراسیاب خٹک نے کہا ہے کہ دو ہفتوں میں سوات کو مکمل طور پر کلیئر کرا لیا جائے گا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق شدت پسند پسپا ہو رہے ہیں جبکہ مینگورہ میں چارباغ کے علاقے کو شدت پسندوں نے کلیئر قرار دیا گیا ہے۔ شانگلہ میں بھی سکیورٹی فورسز نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے گلی باغ اور ڈکورک کے علاقوں کو محفوظ کرتے ہوئے اپنی چیک پوسٹیں قائم کر دی ہیں جبکہ کالام کی جانب پوزیشن مستحکم کر رہی ہیں۔ شانگلہ میں چیک پوسٹ پر حملے میں تین شدت پسند اور ایک جوان جاںبحق ہوئے۔ لوئر دیر میں سکیورٹی فورسز نے آپریشن کرتے ہوئے گل آباد سے سیورا اور کیپیاری سے آسبند کے علاقوں کو شدت پسندوں سے خالی قرار دیا ہے جبکہ بونیر کے علاقے پیر بابا اور بھائی کلے کا کنٹرول بھی کامیابی کے ساتھ حاصل کر لیا گیا ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions