نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کی طلبی‘ حافظ سعید کی رہائی پر احتجاج

ـ 4 جون ، 2009
  • Adjust Font Size

لاہور (خالد محمود خالد + ایجنسیاں) جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی رہائی پر بھارت نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بھارت میں متعین پاکستانی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے پاکستان سے سرکاری طور پر احتجاج کیا اور کہا ہے کہ حافظ سعید کی رہائی ممبئی حملوں کی تحقیقات کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے، تحقیقات کی تکمیل تک پاک بھارت تعلقات میں بہتری کا کوئی امکان نہیں‘ پاکستان نے انتہائی غیر سنجیدہ اقدام کیا، عدالتی فیصلے پر مایوسی ہوئی۔ بھارتی خبررساں ادارے کے مطابق بدھ کو بھارتی سیکرٹری خارجہ شو شنکر مینن نے بھارت میں متعین پاکستانی ہائی کمشنر شاہد ملک کو دفتر خارجہ طلب کیا اور سرکاری طور پر احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی نظربندی کے خاتمے اور رہائی کے حوالے سے بھارت کے شدید تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے احتجاجی مراسلہ پاکستانی ہائی کمشنر کے حوالے کیا۔ سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ ممبئی دہشتگرد حملوں کے نتائج کے حصول تک پاکستان سے مذاکرات یا تعلقات میں بہتری کا کوئی امکان موجود نہیں، ہمیں ممبئی حملوں کی تحقیقات کے حتمی نتائج کا شدت سے انتظار ہے اور ایسے میں کالعدم تنظیم جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ کی رہائی انتہائی افسوس ناک امر ہے کیونکہ جماعۃ الدعوۃ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے دہشتگرد تنظیم قرار دیا اور پابندی عائد کی اور 26 نومبر کو ممبئی میں ہونے والی دہشتگردی کی کارروائی میں لشکر طیبہ کے ساتھ ساتھ جماعۃ الدعوۃ بھی ملوث تھی۔ حافظ سعیدکو ممبئی حملوں کے بعد گھر میں نظربند کیا گیا تھا‘ اُن کی رہائی سے نہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی خواہش کو دھچکہ لگا ہے بلکہ ممبئی حملوں کی تحقیقات کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے، تحقیقات کی تکمیل تک پاک بھارت تعلقات میں بہتری کا کوئی امکان نہیں جبکہ پاکستان نے انتہائی غیر سنجیدہ اقدام کیا، عدالتی فیصلے پر مایوسی ہوئی۔ پاکستانی ہائی کمشنر نے کہا کہ وہ بھارت کے تحفظات کو اپنی حکومت تک پہنچائیں گے لیکن چونکہ حافظ سعید کی رہائی عدالتی فیصلہ ہے اِس لئے ضروری ہے کہ احتیاط سے کام لیا جائے جبکہ ممبئی حملوں کی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پاکستان انتہائی مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے، مطلوبہ معلومات کا انگریزی ترجمہ کے ساتھ موصول ہوتے ہی تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جائیگا۔ اِس سلسلے میں ترجمان دفتر خارجہ عبدالباسط سے بارہا رابطے کی کئی کوششیں کی گئیں لیکن رابطہ نہ ہو سکا۔ ادھر بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی روکنے کے جو وعدے کر رہا ہے وہ حقائق پر مبنی نہیں۔ نئی دہلی میں بھارتی میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعۃ الدعوۃ ایک کالعدم جماعت ہے دنیا بھر میں دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں یہ شامل ہے‘ اس کے باوجود تنظیم کے صدر کو عدالت کے ذریعے رہا کرانا پاکستانی حکومت کو زیب نہیں دیتا۔ حافظ محمد سعید نے ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کی‘ وہ پاکستان میں بیٹھ کر ممبئی میں موجود اپنے ساتھیوں کو ہدایات جاری کرتے ر ہے جس کے بارے میں واضح ثبوت پاکستان کو فراہم کئے جا چکے ہیں‘ امریکہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک کے پاس بھی جماعۃ الدعوۃ کے بارے میں اصل حقائق موجود ہیں۔ ادھر بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ ایک طرف تو امریکہ حافظ سعید کو رہا کرنے کی مخالفت کر رہا ہے اور انہیں دہشت گرد قرار دے رہا ہے جبکہ دوسری طرف وہ پاکستان کو فوجی امداد بھی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ امریکی حکام کو ایک خط لکھ رہے ہیں جس میں پاکستان کو دی جانے والی فوجی امداد کے بارے میں نظرثانی کی اپیل کی جائے گی۔ امریکہ بھارت کو یقین دہانی کرائے کہ پاکستان کو ملنے والی فوجی امداد بھارت کے خلاف استعمال نہیں کی جائے اور صرف دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے استعمال ہو گی۔ کرشنا نے کہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں سفارتی چینلز کے ذریعے کوشش کی جائے گی‘ حافظ محمد سعید کی رہائی کو پریشان کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے تاہم انہوں نے کہا کہ بھارت اس کے ساتھ ساتھ پاکستان سے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے سفارتی چینل کے ذریعے کوشش کرے گا‘ بھارتی وزیر خارجہ نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ ممبئی حملوں کے بعد بھارتی حکومت نے پاکستان کے ساتھ نئی کرکٹ پالیسی اختیار کر رکھی ہے لیکن بھارتی ٹیم انگلینڈ میں پاکستان کے ساتھ ٹونٹی ٹونٹی میچ کھیل رہی ہے۔ وزیر کھیل ایم ایس گل نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج خوشی منانے کا دن ہے اور دونوں ملکوں کو لڑنے کی بجائے کھیلنا چاہئے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions