کئی شہروں میں 18 گھنٹے لوڈشیڈنگ‘ گرمی کی شدت سے مزید 10 افراد جاں بحق

ـ 4 جون ، 2009
  • Adjust Font Size

اسلام آباد/ لاہور/ ملتان (آن لائن+ نیوز رپورٹر+ نامہ نگاران) وزارت پانی و بجلی کے ترجمان نے ایک بار پھردعویٰ کیا ہے کہ ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال زیرو ہونے کی وجہ سے کہیں بھی لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی۔ وزارت کے جاری اعلامیے کے مطابق تھرمل اور ہائیڈل پاور کی پیداوار 12ہزار 250میگاواٹ ہے اور طلب بھی اسکے برابر ہے۔ دوسری جانب حکومتی اعلانات کے برعکس گذشتہ روز بھی لاہور‘ قلعہ دیدار سنگھ‘ منڈی بہاء الدین اور دیگر شہروں میں بجلی کی بندش کا سلسلہ جاری رہا اور کئی شہروں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 18گھنٹے تک پہنچ گیا جسکی وجہ سے شہری نفسیاتی مریض بن گئے‘ کاروبار ٹھپ ہونے پر بیروزگاری میں بھی اضافہ ہو گیا۔ ادھر گرمی کی شدت کی تاب نہ لاتے ہوئے مزید سرگودھا میں 2افراد‘ سیالکوٹ‘ گکھڑ منڈی میں ایک ایک اوکاڑہ میں ایک بچے سمیت 2 اور ملتان کے گردونواح میں 4افراد دم توڑ گئے جبکہ 10سے زائد بے ہوش ہو گئے جبکہ آن لائن کے مطابق مینجنگ ڈائریکٹر پیپکو طاہر بشارت نے رینٹل پاور پلانٹ کے دورے کے موقع پر کہاکہ بجلی کی رسد و طلب میں فرق پورا کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہے ہیں۔ نیوز رپورٹر کے مطابق بجلی کے نظام میں خسارہ 2100میگاواٹ رہا ہے اور ہر 3گھنٹے بعد بجلی کی بندش 14گھنٹے تک جا پہنچی۔ اس صورتحال پر شہریوں نے شدید احتجاج کیا۔ نامہ نگاران کے مطابق سرگودھا میں بجلی کی بندش کا دورانیہ 15سے 18گھنٹے تک جا پہنچا اور اس دوران پینے کا پانی بھی نایاب ہو گیا۔ علاوہ ازیں لوڈشیڈنگ کے دوران گرمی کی شدت سے سرگودھا کے نواحی چک 87میں زینت بی بی اور سلانوالی میں نصیر احمد‘ سیالکوٹ میں حاجی پورہ کا رہائشی محمد ارشد‘ گکھڑ منڈی میں مقامی تاجر برکت علی‘ اوکاڑہ میں 7سالہ ظہور اور 70سالہ اللہ بخش دم توڑ گئے۔ کھڈیاں خاص میں بھی وقفہ وقفہ سے بجلی کی بندش کا سلسلہ بدستور برقرار ہے۔ قلعہ دیدار سنگھ میں 16سے 18گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ سے کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گئے اور یہاں وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ لاحق ہو گیا ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions