لاہور (سٹاف رپورٹر + نیوز ایجنسیاں) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کے ارکان نے لوکل گورنمنٹ میں ترمیمی بل کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے اسے ایجنڈے میں شامل کرنے پر احتجاجاً 10 منٹ تک علامتی واک آﺅٹ کیا۔ سپیکر نے کہا کہ ابھی بل پرکوئی پیش رفت نہیں ہوئی محض ایجنڈا میں شامل کرنے پر واک آﺅٹ سمجھ سے باہر ہے۔ خواتین ارکان نے اسمبلی کے ہاسٹل میں کمروں کی عدم فراہمی پر شدید احتجاج کیا۔ رکن اسمبلی شیخ علاﺅ الدین نے تجویز دی کہ اسمبلی بلڈنگ کے ساتھ نرسنگ ہاسٹل ہے اس کے اوپر 50 کمروں کا فلور بنا کر خواتین ایم پی اے کا ہاسٹل بنایا جا سکتا ہے۔ سپیکر نے اس سے اتفاق کیا پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی نرگس فیض نے پنجاب حکومت اور وزیراعلی پنجاب کی طرف سے صدر آصف زرداری کا استقبال نہ ہونے پر احتجاجاً واک آﺅٹ کردیا تاہم سپیکر کے کہنے پر ساجدہ میر اور کامران مائیکل انہیں منانے گئے اور وزیر قانون انہیں بلا کر ایوان میں لے آئے۔ اجلاس کے دوران اکبر بگٹی کے قتل پر پرویز مشرف کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا گیا ارکان نے مشرف کو پھانسی دو کے نعرے لگائے اجلاس کے دوران سپیکر رانا محمد اقبال اور اپوزیشن کے رکن اسمبلی عامر سلطان چیمہ کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق اپوزیشن نے ایوان کی کارروائی کے ایجنڈے میں بلدیاتی ترامیم کا مسودہ شامل کرنے پر احتجاجاً 10 منٹ کے لئے علامتی واک آ¶ٹ کیا۔ اپوزیشن رکن محسن لغاری نے پوائنٹ آف آرڈر پر کھڑے ہو کر کہا کہ حکومت نے ایک ایسا قانون منظوری کے لئے ایجنڈے پر رکھا ہے جو آئین اور جمہوریت کی میرٹ کے خلاف ہے۔ نکتہ اعتراض پر رکن اسمبلی عبدالرحمن نے دو اہم واقعات کا ذکر کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ فضل کریم اور خوشاب میں ایکسیئن اور ایس ڈی او مواصلات و تعمیرات پر ہونے والے تشدد کی نشاندہی کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی درخواست کی۔ جواب میں صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے ایوان کو بتایا کہ دونوں واقعات کی رپورٹ جمعرات کو ایوان میں پیش کردی جائے گی۔ قبل ازیں پنجاب اسمبلی کا اجلاس سپیکر رانا محمد اقبال کی زیر صدارت ایک گھنٹہ پینتیس منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔ ثناءاللہ مستی خیل نے ایوان کو بتایا کہ آج (بروز بدھ) دوپہر دو بجے پانچویں کلاس اسلامیات کا پرچہ آو¿ٹ ہو چکا ہے۔ وقفہ سوالات کے دوران حنیف عباسی کے سوال پر سپیکر رانا اقبال نے صوبائی وزیر ندیم کامران کو یہ کہہ کر جواب دینے سے روک دیا کہ سوال کا جواب خود دیتا ہوں جس پر انہوں نے ایوان کو بتایا کہ پنجاب اسمبلی سے متصل زیر تعمیر ایم پی اے ہاسٹل 102 کمروں پر مشتمل سویٹ ہیںاور یہ سات منزلہ عمارت ہوگی۔ رفعت سلطانہ ڈار نے ضمنی سوال کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کےلئے علیحدہ ہوسٹل بنایا جائے۔ وزیراعلی شہباز شریف کی اجلاس میں گزشتہ روز موجودگی میں اپوزیشن لیڈر چودھری ظہیر الدین کی تقریر کے دوران وزیراعلی پنجاب کی نشست پرارکان اسمبلی کا تانتا بندھا رہا۔ کوئی رکن درخواست پر دستخط کروا رہا تھا تو کوئی صرف ہاتھ ملانے پر اکتفا کر رہا تھا۔ واک آﺅٹ کرنے سے قبل نرگس فیض نے کہا کہ وزیراعلی نے صدر آصف زرداری کا پنجاب آمد پر استقبال نہیں کیا جس سے ہمارے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ اے پی پی کے مطابق ایوان کو بتایا گیا کہ 102کمروں پر مشتمل 2 منزلہ ایم پی اے ہاسٹل کی حتمی منظوری دیدی گئی ہے۔ اجلاس کے دوران ساجدہ میر‘ فوزیہ بہرام اور دیگر نے خواتین ارکان اسمبلی کے ہاسٹل میں کمروں کی عدم فراہمی پر احتجاج کیا۔ وزیراعلی شہباز شریف کی آمد پرایوان شیر آیا‘ شیر آیا کے نعروں سے گونج اٹھا۔ شہباز شریف نے تقریر کے دوران متفقہ این ایف سی ایوارڈ کی منظوری پر صدر‘ وزیراعظم اور وزرائے اعلی کو خراج تحسین پیش کیا۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس بروز جمعرات صبح 10 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
Post New Comment