واشنگٹن (اے ایف پی + آن لائن + مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی سی آئی اے کے سربراہ لیون پنیٹا نے کہا کہ ایسی رپورٹس مل رہی ہیں کہ لشکر طیبہ بھارت پر ایک اور حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے امریکی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے بتایا کہ القاعدہ نائن الیون طرز کے حملے کے لئے کوئی اور تکنیک استعمال کرسکتی ہے جس کی نشاندہی کرنا مشکل ہو گا۔ وہ سینٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کو بریفنگ دے رہے تھے جبکہ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر رابرٹ مولر نے کمیٹی کو بتایا کہ القاعدہ کے شدت پسند اب پاکستان کے فاٹا کے علاقوں کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں اور جس سے انہوں نے دیگر خطوں مثلاً عرب کے خطے کی جانب نقل مکانی شروع کر دی ہے اس موقع پر سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل رونالڈ نے کمیٹی کوبتایا کہ پاکستان کے قبائلی علاقے القاعدہ اور دیگر انتہا پسندوں کی تاحال محفوظ پناہ گاہیں ہیں تاہم ان پر حملوں سے ان کی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ پاکستان آرمی نے انسداد دہشت گردی کی ٹریننگ میں اضافہ کا اظہار کیا اور ڈاکٹرائن اس حوالے سے ایڈجسٹمنٹ کی ہے تاہم بھارت اب بھی اس کی ترجیح ہے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس ڈینس بلیئر نے کہا کہ پاکستان میں حملوں کے لیے القاعدہ اور پاکستانی طالبان شدت پسند گروپوں کے درمیان تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ڈینس بلیئر نے کمیٹی کو بتایا کہ القاعدہ امریکہ کو نشانہ بنانا چاہتی ہے اور وہ اپنا ادارہ اس وقت تک ترک نہیں کررے گی جب تک اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کو قتل یا گرفتار نہیں کر لیا جاتا۔ امریکی انٹیلی جنس چیف نے کہا کہ امریکہ پر حملے کے امکانات یقینی ہیں اور ایسا اگلے 3 سے 6 ماہ میں ہو سکتا ہے۔ دریں اثناءڈینس بلیئر نے کہا کہ کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں‘ پاک فوج ایٹم اثاثوں کی سنجیدگی سے حفاظت کر ہی ہے‘ پاک فوج جانتی ہے کہ ایٹمی اثاثوں کے غلط ہاتھوں میں جانے کے کیا تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں۔
Post New Comment