زرداری ملکی سلامتی گروی رکھنے برطانیہ گئے‘ ڈیم ہوتے تو سیلاب نہ آتا‘ سینٹ میں تقاریر

ـ 4 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (خبرنگار خصوصی+ لیڈی رپورٹر+ ایجنسیاں) سینٹ میں سیلاب اور بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بحث دوسرے روز بھی جاری رہی، ارکان نے مطالبہ کیا کہ متاثرین کی امداد اور بحالی کے لئے حکومت کوششیں تیز کرے، ملک میں ڈیم ہوتے تو سیلاب نہ آتا، صدر زرداری کو سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنا چاہئے تھا، ملکی سلامتی کو گروی رکھنے کے لئے کیوں برطانیہ کے دورے پر گئے؟ ارکان نے کہا کہ حکومت ٹارگٹ کلنگ روکنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ وقفہ سوالات میں وزراءکی عدم موجودگی پر منگل کو بھی شدید احتجاج کیا گیا، بعض ارکان نے کہا کہ اگر وزراءایوان میں نہیں آتے تو انہیں وزیر کیوں بنایا گیا ہے، لوگ سیلاب کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ وزیر ایوان میں آکر جواب دیں۔ ایوان میں مجموعہ ضابطہ فوجداری و ترمیمی آرڈیننس 2010ءاور بین الاقوامی سرمایہ کاری تنازعات آرڈیننس 2010ءپیش کئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق تحریک التواءپر سیمی صدیقی نے کہا کہ قدرتی آفات میں صورتحال کنٹرول کرنے کےلئے کوئی مو¿ثر ادارہ اور انتظام نہیں ہے صدر زرداری ملکی عزت گروی رکھنے کےلئے برطانیہ چلے گئے انہیں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنا چاہیے تھا ان کے ہوٹل کا ایک رات کا کرایہ 7 ہزار پاﺅنڈ ہے۔ فوزیہ فخرالزمان نے کہا کہ غریب بہہ رہے ہیں اور صدر صاحب غیر ملکی سیریں کررہے ہیں متاثرین زلزلہ کی بیرونی امداد سے دبئی میں پلاٹ خریدے گئے، ڈونر ممالک حکومت کو پیسہ مت دیں وہ یا تو براہ راست متاثرین کی مدد کریں یا سماجی تنظیموں کو بھجوائیں۔ ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ پاکستان میں جتنا خون سستا ہے کہیں نہیں ہے قدرتی آفات سے نمٹنا حکومت کی ذمہ داری ہے امدادی رقوم خوردبرد ہوجاتی ہیں۔ بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایک وزیر بھی نہیں گیا۔ وسیم سجاد نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کو روکنے کیلئے اپوزیشن سے کیا چاہتی ہے، بتا دیں بھرپور تعاون کرینگے لیکن ملک میں امن و امان قائم کرنے کیلئے پالیسیاں تشکیل دینا حکومت کا کام ہے۔ کراچی میں جو کچھ ہورہا ہے وہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، ملک کی یکجہتی کہاں چلی گئی ہے، صوبوں پر بھی ذمہ داریاں ڈالیں۔ نیئر حسین بخاری نے کہا کہ حکومت کی طرف سے ملک میں امن قائم کرنے کی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ملکی سلامتی کو کسی صورت داﺅ پر نہیں لگنے دینگے۔ حامد سعید کاظمی نے ایوان بالا کو بتایا کہ حج پالیسی 2010ءکے مطابق ملک بھر سے 593 ٹور آپریٹرز کے لئے کوٹہ مختص کیا گیا ہے‘ ان آپریٹرز میں ارکان پارلیمنٹ اور بااثرسیاسی شخصیات شامل نہیں تاہم پیچھے رہ کر کوئی بااثر شخصیات ان آپریٹرزسے تعاون کر رہی ہوں تو اس کا علم نہیں ہے۔ سعودی عرب میں عمار تیں حاصل کرنے کا اختیار میرے پاس نہیں‘ حج کرائے میں کمی کے حوالے سے وفاقی کابینہ نے قائمہ کمیٹی کی سفارشات کو نظرانداز کیا ہے۔ اس میں وزارت کا کوئی کردار نہیں۔ سینیٹر حاجی عدیل خان نے کہا افسوس اور دکھ ہے کہ ایم کیو ایم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ رضا حیدر کا قتل اے این پی اور اسکے حمائتیوں نے کیا اور ردعمل میں ہمارے کارکنوں کے دفاتر،املاک ، ٹرانسپورٹ ،اور دکانوں پر حملے شروع ہو گئے ہیں۔سلیم سیف اللہ خان نے علاقائی صورتحال کے تناظر میں پاکستان اٹلی تعلقات سے متعلق اجلاس کی رپورٹ پیش کی اور کہا کہ حکومت کے پاس برطانیہ جانے کیلئے فنڈز ہیں لیکن افغانستان، ایران پڑوسی ممالک کے دوروں کیلئے فنڈز نہیں ہیں۔ خارجہ امور کی کمیٹی کو ختم کردیں یا اسے فنڈز دئیے جائیں۔ سنیٹیر سیمی صدیقی نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ حکومت کی جانب سے ہر سوال کا جواب وزیر داخلہ رحمان ملک ہی دیتے ہیں، کیا پوری حکومت کے وہی واحد وزیر ہی ذمہ دار ہیں باقی وزیر کہاں ہیں؟ سینیٹر نیلو فربختیار نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ کی وزیر ایوان میں نہیں آتی ہیں نہ ہی کوئی خاتون وزیر ایوان میں آتی ہے۔ سینٹ کی متفقہ قرارداد کے باوجود حج اخراجات میں کمی نہ کرنے کے خلاف جے یو آئی کے اسماعیل بلیدی نے سینٹ اجلاس سے علامتی واک آﺅٹ کیا۔ ارکان سینٹ نے وزارت امور نوجوانان کی طرف سے مختلف ممالک سے بھیجے جانے والے یوتھ وفد میں وزراءاور بیورو کریٹس کے بچوں کو شامل کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی وزیر، سیاستدان اور امیروں کے بچوں کو یوتھ وفد میں باہر نہ بھیجا جائے۔ جہانگیر بدر نے کہاکہ چین میں بھیجے گئے یوتھ وفد میں شامل تمام 100بچے وزرائ، اراکین پارلیمنٹ اور جاگیرداروں کے تھے جس کی شکایت چین سے بھی آئی۔ وفد میں ایک بھی غریب کا بچہ اور میرٹ والا شامل نہیں تھا تاہم وزرائ، جاگیرداروں اور ارکان اسمبلی کے بچوں کو سیروتفریح کیلئے سرکاری خرچ پر بھیجا گیا۔ عباس آفریدی نے کہاکہ وزرائ، ارکان پارلیمنٹ اور بیورو کریٹس کے بچوں کے سرکاری خرچ پر بیرونی ملک دوروں پر پابندی عائد کر دی جائے۔ وفاقی وزیر امور نوجوانان شاہد حسین بھٹو نے بتایا کہ وزارت نے 393افراد کو بیرون ملک سرکاری دوروں پر بھیجا ہے، چین اور جنوبی کوریا کیلئے وفود بھجوائے گئے، اس پروگرام میں کوٹہ سسٹم نہیں ہے ، تمام علاقوں سے نوجوانوں کو بیرون ملک بھیجا جاتا ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions