پاکستان میں مہنگائی سے غربت میں اضافہ‘ معاشی ترقی میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں : آئی ایم ایف

ـ 3 جون ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (ثناءنیوز + مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف ) نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران پاکستان پر غیر ملکی قرضوں کا حجم 64 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گا ۔ جسے کم کرنے کی سخت ضرورت ہے ۔ سیکورٹی اخراجات میں اضافے کے باعث آئندہ مالی سال کے بجٹ پر دباﺅ برقرار رہے گا ۔ گزشتہ روز آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کی معاشی صورت حال کے حوالے سے جاری اےک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے آخر تک پاکستان پر غیر ملکی قرضوں کا حجم 55 ارب 77 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہے جو آئندہ مالی سال کے دوران بڑھ کر 64 ارب 4 کروڑ ڈالر ہو جائے گا ۔ اس دوران حکومت پاکستان اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے آئندہ مالی سال کے دوران آئی ایم ایف کے علاوہ حکومت اور حکومتی ضمانت پر 4 ارب 69 کروڑ ڈالر ‘ اے ڈی بی سے ایک ارب ڈالر سے زائد ‘ عالمی بینک سے 50 کروڑ ڈالر ‘ پیرس کلب سمیت دیگر بائی لیٹرل قرض دینے والے اداروں سے 3 ارب 20 کروڑ ڈالر ‘ آئی ایم ایف سے 3 ارب 21 کروڑ ڈالر ‘ نجی شعبے سے 36 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا قرضہ حاصل کرے گا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان پر غیر ملکی قرضوں کا جی ڈی پی میں تناسب 31 فیصد ہے جو آئندہ مالی سال کے آخر تک بڑھ کر 33.5 فیصد بڑھ جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق ان قرضوں پر شرح سود کی ادائیگی مجموعی بجٹ کا تین چوتھائی حصہ ہے ۔ جو کسی بھی ابھرتی معیشت کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے ۔ رپورٹ کے مطابق حکومتی قرضے پاکستان کی معیشت کے لئے بڑا خطرہ ہے جس کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان سیکورٹی اور سیاسی معاملات سمیت دیگر تنظیمی اصلاحات لا کر مالیاتی نظم و ضبط لانے کے لئے کوشاں ہے ۔ اس وقت سیکورٹی کی صورت حال محصولات اور اخراجات دونوں شعبوں کو متاثر کر رہی ہے کیونکہ ایک طرف محصولات جمع کرنے کی صورت حال سست روی کا شکار ہے تو دوسری جانب دفاعی اخراجات تیزی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں ۔ جس کے باعث مالیاتی خسارے کے حوالے سے پاکستان نے رعایت مانگی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان نے سیاسی اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کے باوجود یکم جولائی 2010 ءسے سیلز ٹیکس کی جگہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس ( ویٹ ) نافذ کرنے کے حوالے سے پیش رفت کی ہے ۔ تاہم اس ضمن میں مزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت نے بجلی کے نرخ میں 6 فی صد اضافے کی یقین دہانی کرادی ہے اور اضافہ جب بھی کیا جائے اطلاق یکم اپریل2010 سے ہی ہوگا۔ آئی ایم ایف ویب سائٹ کے مطابق پاکستان میں طویل مدتی بنیاد پر ترقی کی راہ ہموار کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امن و امان پر اخراجات کے باعث بجٹ پر دباﺅ بڑھ رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ مہنگائی کی شرح کو دیکھتے ہوئے سٹیٹ بینک کو شرح سود میں اضافہ کرناچاہئے کیونکہ مہنگائی غربت میں اضافے اور معاشی ترقی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس کا مسودہ پاکستانی پارلیمنٹ سے منظور ہونے پر آئندہ مالی سال سے نفاذ ممکن بنایاجائے گا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions