تازہ ترین:

راولپنڈی : حساس ادارے کی بس پر خودکش حملہ ‘ 29 زخمی

ـ 3 جولائی ، 2009
  • Adjust Font Size

راولپنڈی/ پشاور (اپنے سٹاف رپورٹر سے+ ریڈیو نیوز+ بیورو رپورٹ+ ایجنسیاں) راولپنڈی کے پوش علاقے چوہڑ چوک میں حساس ادارے کی بس پر خودکش حملے میں حملہ آور ہلاک جبکہ 29 افراد زخمی ہوگئے‘ 5 زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ پشاور میں شدت پسندوں نے پولیس وین پر ریموٹ کنٹرول سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 2 اہلکار جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کی سہ پہر 4 بجکر 19منٹ پر حساس ادارے کی بس آر پی ٹی 9535 سرکاری ملازمین کو اسلام آباد سے لے کر راولپنڈی سے ہوتے ہوئے مندرہ جارہی تھی کہ موٹرسائیکل پر سوار خودکش حملہ آور نے خود کو چوہڑ چوک پر سرکاری بس کے ساتھ ٹکرا دیا جس سے زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکے سے اس بس کے ساتھ کھڑی 8 دیگر گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں۔ قریبی دکانوں اور عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ حملہ کے فوری بعد ریجنل پولیس آفیسر ناصر خان درانی نے 6 افراد جاں بحق اور 29 سے زائد زخمی ہونے کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دی تاہم 2 گھنٹے گزرنے کے بعد بتایا کہ حملے میں صرف خودکش حملہ آور ہی ہلاک ہوا ہے اور اس کے علاوہ حساس ادارے کے کسی بھی فرد کے جاں بحق ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے جبکہ واقعہ میں 29 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ واقعہ کے فوری بعد حساس اداروں نے علاقے کو تحویل میں لیتے ہوئے تحقیقات شروع کردی جبکہ جائے وقوعہ سے خودکش حملہ آور کا دھڑ اور ٹانگیں بھی حساس اداروں نے اپنی تحویل میں لے لیں۔ خودکش حملے کے حوالے سے میڈیا کو غلط معلومات فراہم کرنے کے 2 گھنٹے کے بعد ریجنل پولیس آفیسر راولپنڈی ناصر خان درانی نے معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی جانب سے میڈیا کو پہلے دی جانے والی اطلاعات غلط تھیں کیونکہ ابتدائی طور پر انہیں جتنی ہلاکتوںاور واقعہ کی نوعیت کے حوالے سے بریف کیا گیا تھا وہی تفصیلات انہوں نے میڈیا کے سامنے پیش کیں تاہم اب ہسپتال انتظامیہ اور ریسکیو 1122 سے بات چیت کے بعد حساس ادارے کی بس پر ہونے والے خودکش حملے میں صرف خودکش حملہ آور ہلاک ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بس پر 25 سے 30 لوگ سوار تھے۔ چوہڑ چوک پر پہنچی تو اشارہ بند ہونے کے باعث خودکش حملہ آور نے اس بس کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو حساس تنصیبات پر حملے کرنے کی دھمکیاں پہلے سے ہی موصول ہو رہی تھیں جس کی وجہ سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور اسی وجہ سے خودکش حملہ آور ان تنصیبات کو نشانہ بنانے میں ناکام رہا جس باعث اس نے اس بس کو نشانہ بنایا تاہم بس اونچی ہونے کے باعث ہلاکتیں نہیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ کرائم سین کو محفوظ کرنے سمیت جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ حملہ آور کے اعضاء ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے لاہور بھیجے جائیں گے۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ لوگ خوف کے مارے گھروں سے نکل آئے۔ خودکش حملہ کی تحقیقات کیلئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنا دی گئی۔ بم ڈسپوزل سکواڈ نے جائے سانحہ سے خودکش حملہ میں استعمال ہونے والے دھماکہ خیز مواد کے نمونے‘ موٹرسائیکل کے ٹکڑے اور خودکش حملہ آور کے جسم کے لوتھڑے قبضے میں لے لئے۔ پولیس کے مطابق 10 کلو وزنی ایکسپلوسو استعمال کیا گیا۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس سے جائے واقعہ کے اردگرد کا 3 کلومیٹر کا علاقہ زلزلہ کی طرح لرز اٹھا۔ ریجنل پولیس افسر نے بتایا کہ یہ خودکش حملہ مالاکنڈ کے علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کا ردعمل ہے۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ ہر موٹرسائیکل اور گاڑی کو علیحدہ علیحدہ چیک کرنا ممکن نہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور کی عمر 20سے 22 سال اور اس کی ہلکی داڑھی تھی۔ بعض نیوز ایجنسیوں کے مطابق 20 سے 27 سال کے درمیان تھی۔ صدر‘ وزیراعظم اور رحمن ملک نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ آصف زرداری اور یوسف گیلانی نے کہا کہ ایسی دہشت گردانہ کارروائیاں حکومت کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتیں۔ حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کا عزم کررکھا ہے۔ لاہور سے خبرنگار خصوصی اور خصوصی رپورٹر کے مطابق نوازشریف‘ شہباز شریف‘ گورنر پنجاب‘ چودھری شجاعت‘ پرویزالٰہی‘ منور حسن‘ قاضی حسین احمد‘ لیاقت بلوچ‘ ڈاکٹر محمد زبیر‘ قاری زوار بہادر‘ مونس الٰہی‘ وجاہت حسین‘ اعجاز ہاشمی‘ شبیر ہاشمی‘ الطاف حسین اور دیگر رہنمائوں نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ملک دشمن عناصر کی کارروائی قرار دیا۔ ایک ٹی وی رپورٹ کے مطابق راولپنڈی میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد ابتدائی تحقیقات میں ملنے والے شواہد کے مطابق حملے میں استعمال ہونے والی موٹرسائیکل کسی ایک کمپنی کی نہیں بلکہ اسے مختلف کمپنیوں کے سپیئرپارٹس جوڑ کر خود ساختہ طور پر تیار کیا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق موٹرسائیکل کا انجن، باڈی اور دیگر پرزہ جات مختلف کمپنیوں کے ہیں اور یہ موٹرسائیکل تحقیقاتی اداروں کو دھوکہ دینے کیلئے تیار کی گئی ہے۔ پشاور سے بیورو رپورٹ کے مطابق گنجان آباد علاقہ بیری باغ میں موبائل وین حسب معمول گشت پر تھی۔ اس دوران نامعلوم شدت پسندوں کی جانب سے سڑک کے کنارے نصب کردہ ریموٹ کنٹرول بم ایک زوردار دھماکہ سے پھٹ گیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے گھاس منڈی میں قصاب کی دکان پر نامعلوم سمت سے دستی بم پھینکا گیا جس سے قیوم اور فضل الرحمن جاں بحق ہوگئے جبکہ 5 افراد زخمی ہوگئے۔ ادھر پولی ٹیکنیکل کالج کے قریب دہشت گردی کے واقعے میں فائرنگ سے آٹے کی چکی کا مالک قتل کردیا گیا۔ مقتول کا تعلق کالعدم تنظیم سے بتایا جاتا ہے۔ مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق پولیس نے لکی مروت میں خودکش حملہ آور کو گرفتار کرلیا۔ خودکش حملہ آور کی بارود سے بھری گاڑی بھی قبضے میں لے لی گئی۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions