تازہ ترین:

چیف جسٹس ہائیکورٹ کے حکم پر پولیس دفاتر کے باہر رکاوٹیں ختم‘ تمام سڑکیں کھول دی گئیں

ـ 3 جولائی ، 2009
  • Adjust Font Size

لاہور (وقائع نگار خصوصی+ نمائندہ خصوصی+ بی بی سی ) لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف نے ازخود نوٹس کیس کو نمٹاتے ہوئے پولیس دفاتر کے سامنے رکاوٹیں ہٹانے اور سکیورٹی کے نام پر بند کی گئی سڑکیں کھولنے کا حکم دیا ہے جبکہ لاہور پولیس نے سڑکیں ٹریفک کیلئے کھول دی ہیں۔ چیف جسٹس نے قرار دیا کہ عوام الناس کو سہولیات کی فراہمی اولین ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔ محکمہ پولیس نے متعلقہ دفاتر اور حساس مقامات پر واقع دفاتر کیلئے حفاظتی اقدامات تو ضرور ہونے چاہیے لیکن اس میں عوام کی سہولت کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ گذشتہ روز آئی جی پنجاب پولیس طارق سلیم نے عدالت کویقین دہانی کروائی کہ لاہور میں لوگوں کو ان سٹرکوں پر ہر قسم کی سہولیات کی فراہمی کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے جنہیں حفاظتی نکتہ نظر سے بند کر دیا گیا تھا۔ گذشتہ روز ازخود نوٹس کیس پر چیمبر میں سماعت ہوئی اور عدالت کے روبرو پیش ہونے والے افراد میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب رضا فاروق‘ ایڈیشنل آئی جی حنیف کٹھانہ‘ آئی جی طارق سلیم ڈوگر‘ سی سی پی او پرویز راٹھور اور اے آئی جی لیگل چودھری احسن کے علاوہ رٹ درخواست پر جونیجو ایڈووکیٹ اور چودھری اسحاق کھوکھر بھی پیش ہوئے۔ قبل از یں دونوں درخواست گزاروں کی طرف سے کہا گیا کہ انہیں چیمبر میں سماعت پر کوئی اعتراض نہیں۔ بی بی سی کے مطابق سماعت کے دوران آئی جی نے عدالت کے سامنے تین تجاویز رکھیں۔ انہوں نے کہا چونکہ پولیس کو دہشت گردی سے شدید خطرہ ہے اس لیے ان سڑکوں کو بند رہنے دیا جائے یا ان کو جزوی طور پر بند رکھنے کی اجازت دی جائے یا تیسری صورت میں ان سڑکوں کو بڑی گاڑیوں جیسے وین‘ چھوٹے بڑے ٹرک وغیرہ کو گزرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ عدالت عالیہ نے اس پر حکم دیا کہ سکیورٹی کا مکمل بندوبست کیا جائے لیکن سڑکوں کو تمام ٹریفک کیلئے کھلا ہونا چاہیے۔ عدالت کا مؤقف تھا کہ سکیورٹی کے نام پر عوام کو مشکلات میں نہ ڈالا جائے۔ دریں اثناء پولیس نے جگہ جگہ کھڑی کی گئی رکاوٹیں ہٹا کر سڑکیں ٹریفک کیلئے کھول دی ہیں۔ واضح رہے کہ 27 مئی کو ریسکیو 15 پر حملے کے بعد پولیس نے خودساختہ رکاوٹیں کھڑی کرکے آئی جی آفس‘ سی سی پی او آفس‘ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن اور دیگر حساس دفاتر کے سامنے سے گزرنے والی اور ملحقہ سڑکیں بند کرکے شہریوں کی زندگی اجیرن کردی تھی۔ سکیورٹی کے نام پر پولیس کی ہٹ دھرمی سے کاروباری لوگوں کو کروڑوں روپے کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا اور پولیس کے مسلح اہلکار سکیورٹی کے نام پر شہریوں سے ’’بدمعاشی‘‘ کرتے بھی نظر آئے۔ گذشتہ روز ہائیکورٹ کے احکامات موصول ہوتے ہی پولیس میں بھگدڑ مچ گئی اور آناً فاناً پولیس نے تمام سڑکوں پر کھڑی کی گئی رکاوٹیں ہٹا کر ٹریفک کیلئے کھول دیں‘ سڑکیں کھلنے پر تاجروں اور عام شہریوں نے چیف جسٹس ہائیکورٹ کے فیصلے پر انتہائی خوشی کا اظہار کیا ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions