تازہ ترین:

طالبان کا داخلہ روکنے کیلئے افغان سرحد پر مزید فوجی تعینات ‘ آپریشن میں 50 شدت پسند جاں بحق

ـ 3 جولائی ، 2009
  • Adjust Font Size
طالبان کا داخلہ روکنے کیلئے افغان سرحد پر مزید فوجی تعینات ‘ آپریشن میں 50 شدت پسند جاں بحق

پشاور+ راولپنڈی (اے ایف پی+ نیٹ نیوز+ ایجنسیاں+ مانیٹرنگ ڈیسک) سکیورٹی فورسز نے کہا ہے کہ زمینی اور فضائی کارروائیوں کے دوران گذشتہ 24 گھنٹوں میں 50 سے زائد شدت پسند جاں بحق ہوگئے ہیں۔ فرنٹیئر کور کے ترجمان میجر فضل خان نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گن شپ ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ سے لشکر اسلام کے 28 شدت پسند مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں یہ آپریشن کیا گیا۔ اے ایف پی کے مطابق آزاد ذرائع سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد کی تصدیق کرنا ممکن نہیں ہے۔ لشکر اسلام نے تاہم کہا ہے کہ اس کے صرف 8 افراد مارے گئے ہیں۔ ترجمان مستری گل نے کہا کہ ہمیں باقی مارے گئے لوگوں کا پتہ نہیں وہ عام شہری ہوسکتے ہیں۔ سوات میں فوجی حکام کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں آپریشن راہ راست کے دوران 23 شدت پسند جاں بحق اور سوات اور دیر سے 5شدت پسند گرفتار کیے گئے‘ 17 شدت پسند شاہ ڈھیری کے علاقہ میں جھڑپوں میں مارے گئے۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ افغان صوبہ ہلمند میں امریکی فوج کے آپریشن کے بعد طالبان کا ممکنہ داخلہ روکنے کیلئے افغانستان کی سرحد پر مزید پاک فوج تعینات کردی گئی ہے۔ پاک فوج طالبان کی آمد روکنے کیلئے مناسب اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پر فوج کی تعیناتی کیلئے دوسرے علاقوں سے فوجیوں کو جمع کیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کانجو کے علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران نلہ میں شدت پسندوں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس سے 5 شدت پسند جاں بحق ہوگئے۔میانا‘ آہنگرو اور بابا زیارت کے علاقے میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے جس میں ایک شدت پسند مارا گیا اور 2 زخمی ہوگئے۔ سکیورٹی فورسز نے میراگئی کے علاقے میں کلیئرنس آپریشن کیا جس میں 2 شدت پسندوں کی پناہ گاہیں مسمار کردی گئیں‘ 8 رائفلیں‘ 66 رائونڈ‘ 4 پستول اور ایک دوربین برآمد ہوئی۔ شاہ ڈھیری میں فائرنگ کے تبادلے میں 17 شدت پسند مارے گئے۔ دیر میں لشکر نے گھر گھر تلاشی جاری رکھی‘ غازی ایج کی سفید مسجد کے قریب آپریشن کیا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے چکدرہ میں آپریشن کے دوران 3 شدت پسند گرفتار کرلیے اور ان سے غیرقانونی ایف ایم ریڈیو‘ ایک بارہ بور رائفل اور ایک تیس بور پستول برآمد کرلیا۔ جنوبی وزیرستان ایجنسی میں شدت پسندوں نے جنڈولہ قلعے پر تین راکٹ فائر کئے تاہم جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق مالاکنڈ کے بے گھر افراد میں دو ٹرک اور دیگر امدادی اشیاء تقسیم کی گئیں۔ آرمی انجینئروں نے تختہ بند بائی پاس پر مرمت کا کام جاری رکھا ہے‘ الپوری اور شانگلہ میں موبائل فون سروس بحال کردی گئی ہے۔ گذشتہ روز 2682 نقد امداد کے کارڈ تقسیم کیے گئے۔ آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل اطہر عباس نے غیرملکی میڈیا کو بتایا کہ جنوبی افغانستان میں امریکی اور افغان فوجیوں کے مشترکہ بڑے آپریشن کے بعد پاک افغان سرحد پر پاک فوج کی بھی تنظیم نو کی گئی۔ مزید فوج سرحد پر لگائی تاکہ کوئی شرپسند پاکستان میں داخل نہ ہوسکے۔ ہم نے سرحد پر پوزیشن مستحکم کی ہے۔ وانا کے احمد زئی وزیر قبائل اورمقامی طالبان کمانڈر مولوی نذیر وزیر نے امن معاہدہ 2007ء بحال کرتے ہوئے اس پر سختی سے عمل درآمد کا اعلان کیا ہے۔ پولیٹیکل انتظامیہ نے امن معاہدہ کی بحالی پر گرفتار 6 قبائلیوں کو رہا کر کے امن جرگہ کے حوالے کردیا۔ وانا میں اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ وانا سید عبدالغفور شاہ کے دفتر میں احمد زئی وزیر قبائل کے 120 امن کمیٹی کے سر کردہ عمائدین اور پولیٹیکل انتظامیہ کے درمیان کامیاب جرگہ ہوا جس میں اعلان کیا گیا کہ سکیورٹی فورسز پر حملے نہیں کریں گے۔ علاقائی ذمہ داری کے تحت احمد زئی وزیر قبائل اپنے علاقے کی حفاظت کرتے ہوئے علاقے میں دیرپا امن کے قیام کیلئے پولیٹیکل انتظامیہ سے بھرپور تعاون کریں گے۔ بعدازاں میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ملک غازی محمد، ملک صورت خان اور دیگر عمائدین نے کہا کہ انہوں نے مقامی طالبا ن کمانڈر ملا نذیر وزیر کے ساتھ بھی کامیاب مذاکرات کیے ہیں۔ ملا نذیر وزیر نے احمد زئی وزیر قبائل کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے احمد زئی وزیر قبائل کے ساتھ امن معاہدہ وانا 2007ء برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ بعد میں پولیٹیکل انتظامیہ اور احمد زئی وزیر قبائل کے 120 رکنی امن کمیٹی کے درمیان کامیاب مذاکرات ہوئے اور احمد زئی وزیر قبائل نے پولیٹیکل انتظامیہ کے ساتھ وانا میں دیرپا امن کے قیام کیلئے بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ وانا سید عبد الغفور شاہ سے جب اس سلسلے میں رابطہ قائم کیا تو انہوں نے امن معاہدہ کو بر قراررکھنے کی تصدیق کی۔ سوات میں زندگی کی رونقیں بتدریج بحال ہو رہی ہیں عوام نے جس جذبے اور والہانہ انداز میں پاک آرمی کے ساتھ تعاون کیا ہے اس کی ثمرات آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر محمد ایوب اشاڑی نے مٹہ ہسپتال میں مریضوں کی عیادت کے دوران لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سوات میں کانجو ٹائون شپ سے 5 شدت پسندوں کی نعشیں برآمد ہوئی ہیں۔ ادھر اپر دیر کے علاقے میں جھڑپ کے دوران قومی لشکر کے 3 رضاکار جاں بحق جبکہ 3 شدت پسند جاں بحق ہو گئے۔ قومی لشکر اور شدت پسندوں کے درمیان اپر دیر کے علاقے ڈوگ درہ میں جھڑپ ہوئی۔ فائرنگ کے تبادلے میں قومی لشکر کے 3 رضاکار اور 3 شدت پسند مارے گئے جن میں ضلعی امیر نعیم اللہ بھی شامل ہے۔ کارروائی میں 4 رضا کار زخمی ہو گئے۔ قومی لشکر نے نعیم اللہ سمیت شدت پسندوں کے 3 گھروں کو آگ لگا دی اور دو مورچوں پر قبضہ کر لیا۔ ادھر سوات کی تحصیل کبل کے علاقے کالا کلے میں نامعلوم ملزموں نے فائرنگ کرکے 2 افراد کو قتل کردیا۔ سوات کے علاقوں خوازہ خیلہ‘ مدین‘ دریش‘ دریش خیلہ اور بدرہ میں شام 6 بجے تک کرفیو میں نرمی رہے گی۔ ضلع شانگلہ میں بھی شام 6 بجے تک کرفیو میں وقفے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ لوئر دیر کی تحصیل میدان اور ادین زئی میں شام 8 بجے تک کرفیو میں نرمی رہے گی۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions