امریکہ اسی سال افغانستان سے فوجیں نکال کر پاکستان کو خانہ جنگی میں مبتلا کردے گا : حمید گل

ـ 3 جنوری ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (سپیشل رپورٹر) ممتاز عسکری ماہر اور نامور تجزیہ نگار جنرل (ر) حمید گل نے کہا ہے کہ پاکستان پر طاغوتی قوتوں کی یلغاریں اس کے نظریے یعنی نظریہ اسلام اور اس کے قدرتی وسائل کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔ امریکہ افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہو چکا ہے اور وہ آئندہ سال کی بجائے رواں سال اکتوبر میں ہی افغانستان سے فوجیں نکال لے گا لیکن اس کے ساتھ ہی پاکستان کو خانہ جنگی میں مبتلا کر دے گا‘ پاکستان میں خودکش حملے کرنے والے حقیقی طالبان نہیں بلکہ یہ انہی طاغوتی قوتوں امریکہ‘ اسرائیل اور بھارت کے ایجنٹ ہیں‘ خودکش حملوں کی روک تھام کے لئے قبائلی علاقوں میں متحارب لوگوں سے ڈائیلاگ کئے جائیں۔ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور اس کی فوجی صلاحیت کو کم کرنے کے لئے پاک فوج کو قبائلی علاقوں میں جنگ میں الجھا دیا گیا ہے۔ چند ہزار لوگ کراچی‘ کوئٹہ شاہراہ پر جا کر پرامن طریقے سے بیٹھ جائیں تو افغانستان کے اندر نیٹو فورسز کو ہر قسم کی سپلائی منقطع ہو جائے۔ امریکی ایجنسیاں پاکستان میں ایٹمی ہتھیاروں کی بو سونگھتی پھر رہی ہیں۔ بھارت پاکستان کو محض گیدڑ بھبکیاں دے رہا ہے‘ بلوچسان میں شورش کے ذمے دار امریکہ اور بھارت ہیں۔ وہ ایوان کارکنان تحریک پاکستان لاہور میں ”پاکستان کی موجودہ صورتحال‘ غیر ملکی طا قتوں کا کردار اور مستقبل کی توقعات“ کے موضوع پر خصوصی لیکچر دے رہے تھے۔ خصوصی نشست کی صدارت تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن ممتاز صحافی اورر نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجید نظامی نے کی۔ نشست کا اہتمام نظریہ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا جس میں دانشوروں کی بڑی تعداد کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات اور نوجوانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن پاک‘ نعت رسول مقبول اور قومی ترانے سے ہوا۔ تلاوت کی سعادت قاری امجد علی نے حاصل کی جبکہ معروف نعت خواں الحاج اختر حسین قریشی نے بارگاہ نبوی میں ہدیہ نعت پیش کیا۔ میزبانی کے فرائض نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے سرانجام دئیے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہم اندرونی و بیرونی طور پر یلغار کی زد میں ہیں۔ ہم لڑھکتے ہوئے جا رہے ہیں ہماری منزل کیا ہے اس کا رخ ہماری تخلیق میں دے دیا گیا ہے اور اس کی وجہ سے ہی ہم مشکلات کے گھیرا¶ میں ہیں۔ پاکستان محض ایک خطہ زمین نہیں‘ پاکستان ایک انقلابی عمل کا نام ہے‘ آدھا انقلاب اس وقت آیا جب یہ ملک بنا اور باقی نصف اس وقت مکمل ہو گا جب یہاں پر ایسا نظام لایا جائے گا جس کے لئے یہ ملک قائم ہوا یعنی وہ ضابطہ حیات جس کا ذکر رسول اکرم نے آخری خطبے میں بھی کیا ہے اور جو تمام انسانیت کے لئے باعث رحمت ہے‘ انہوں نے کہا کہ ایک نئے نظام کی محافظ ریاست صرف پاکستان ہے اور اگر پاکستان نے ریاست مدینہ کا ماڈل بننا ہے تو اس کی وجہ سے مشکلات اور یلغاریں کوئی حیرانی کا باعث نہیں اور اس وقت دنیا کا جو نظام چل رہا ہے پاکستان اپنے عظیم نظریات کی وجہ سے اس کا حصہ نہیں بن پا رہا جس کی وجہ سے یہ کش مکش جاری ہے۔ امریکہ کا نظام تباہ ہو رہا ہے اور بالخصوص عسکری نظام کی تباہی کا اشارہ بارک اوباما کی یکم دسمبر کی تقریر میں واضح ہو چکا ہے‘ امریکہ میں اخلاقیات کا دیوالیہ نکل چکا ہے اور اقتصادی طور پر اس کے دوست بھی چھوڑ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلام کے تجربات کر کے اس کو پوری دنیا میں پیش کرنا چاہتا ہے۔ اگر پاکستان اپنے پورے قد سے کھڑا ہو گیا اور اس میں اسلامی نظام کامیاب ہو گیا تو پھر اس کے پھیلا¶ کو روکا نہیں جا سکتا۔ پاکستان ایک جدید تاریخ پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا قیام ایک سنگ میل تھا او اگر یہ 1971ءمیں ٹوٹا تو بھی یہ اس لحاظ سے سنگ میل تھا کہ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بننے کے باوجود بھارت کا حصہ نہیں بنا اور درحقیقت وہ بھی بھارت کے لئے ایک اور پاکستان بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکہ کی شکست واضح ہو چکی ہے اب انہوں نے صرف یہ طے کرنا ہے کہ افغانستان سے کب نکلنا ہے لیکن وہ جانے سے قبل دو مسائل پیدا کر جائیں گے جس طرح برطانیہ یہاں سے نکلتے وقت کشمیر کا مسئلہ چھوڑ گیا تھا‘ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے ہم ترقی نہیں کر سکے۔ اس کی وجہ سے ہم نے تین جنگیں لڑیں اور ممکن ہے کہ چوتھی جنگ بھی لڑنی پڑے۔ بھارتی آرمی چیف جنرل دیپک کپور نے پاکستان کے خلاف جنگ کی دھمکی دے کر انتہائی لغو بات کی ہے لیکن ہم بھارت کی پاکستان پر یلغار کو ہر گز برداشت نہیں کریں گے۔ جنرل دیپک کپور کی محدود جنگ کی تجاویز ان کے اندرونی خوف کا شاخسانہ ہے۔ بھارتی یلغار سے قبل ہی ہمارا بم بھارت پر گرے گا۔ بھارتی بندر امریکی دیو کے کندھے پر چڑھ گیا ہے لیکن یہ دیو خود گر رہا ہے۔ بھارت کے اندر فوج کی پالیسیوں پر تنقید کی جا رہی ہے۔ بھارت میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ جرنیل پالیسی ساز بیان دیں گویا وہاں جمہوریت کمزور ہو رہی ہے۔ بھارت پہلے روس کی گود میں بیٹھا تھا اور اس کے ساتھ مل کر افغانستان پر یلغار کی لیکن روس کے ٹوٹنے کے بعد امریکہ کے جہاز پر سوار ہو گیا لیکن اب امریکہ کا جہاز بھی ڈوب رہا ہے۔ جنرل (ر) حمید گل نے کہا کہ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ پاکستان کے پاس کون سے وسائل ہیں جس کی وجہ سے اسے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان میں ایک اس کا نظریہ ہے جسے نظریہ اسلام یا نظریہ پاکستان کہا جاتا ہے۔ دوسرے نمبر پراس کے پاس اعلیٰ ترین صلاحیتوں کی حامل فوج اور خفیہ ایجنسیاں ہیں۔ پاکستان کے پاس جوہری صلاحیت ہے‘ ہماری جوہری صلاحیت اور میزائل ٹیکنالوجی بھارت سے زیادہ جدید ہے اس لئے ہم ساتویں نہیں بلکہ چھٹی ایٹمی طاقت ہیں۔ پاکستان اپنے محل وقوع کے باعث نہایت اہمیت کا حامل ہے جس کی وجہ سے عالمی طاقتیں اس پر یلغار کرتی ہیں۔ بھارت اور امریکہ کی ساری جارحیت محض دفاع ہے اور امریکہ افغانستان سے جانے سے پہلے ہمیں خانہ جنگی کی بھینٹ چڑھانا چاہتا ہے تاکہ ہم آئندہ آپس میں ہی لڑتے ہوئے مر جائیں۔ امریکہ نے ایران میں خانہ جنگی کرانے کے لئے باقاعدہ بجٹ مختص کیا لیکن اس کے باوجود وہ کامیاب نہیں ہو سکا اور امریکی پابندیوں کے باوجود ایران عنقریب ایٹمی طاقت بن جائے گا۔ اگر امریکہ نے ہم پر یلغار کی ہے تو اسے ہماری اہمیت معلوم ہے۔ قائداعظمؒ نے سٹیٹ بنک کا افتتاح کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آپ اس نظام میں کامیاب ہو گئے تو پھر آپ دنیا پر حکمرانی کرنے کے قابل ہو جائیں گے اور پاکستان اسی نظام کو بروئے کار لانے کے لئے عمل پیرا ہے جو امریکہ کی نظروں میں کھٹک رہا ہے۔ جنرل (ر) حمید گل نے مزید کہا کہ دنیا میں اس وقت تین نظریات موجود ہیں۔ ایک نظریہ مذہب کا ہے‘ عیسائی دنیا تیزی سے اپنا مذہب چھوڑ رہی ہے۔ امریکہ میں بہت سے گرجا گھر مساجد بن چکے ہیں‘ دوسرا بڑا نظریہ قوم پرستی اور تیسرا بڑا نظریہ جمہوریت ہے کہ عوام الناس کے ذریعے فیصلے ہوں گے۔ ان تینوں نظریات کا اشتراک پاکستان کے سوا کسی ملک میں نہیں۔ یہاں مذہب پسندی‘ قوم پرستی اور جمہوری روایات پوری طرح موجود ہیں۔ ہم صرف نرم انقلاب کے ذریعے ہی ان چیزوں کو پاکستان میں حکومتی سطح پر لاگو کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے پاس بے تحاشہ قدرتی وسائل او ر افرادی قوت ہے اور اس کی یہ خوبیاں ہی دشمن کی نظر میں کھٹک رہی ہیں۔ جنرل (ر) حمید گل نے کہا کہ اگر ہم سے خدانخواستہ جوہری صلاحیت چھین لی گئی تو بھی ہم کمزور نہیں ہوں گے کیونکہ ہمارے پاس جہاد کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور ہم اس کے ذریعے اپنا تحفظ کر سکتے ہیں اور دنیا بھر کے مجاہدین کو جو امریکہ سے ٹکرا رہے ہیں انہیں پاکستان کی شکل میں ایک خطہ زمین مل جائے گا۔ بھارت امریکہ اور دیگر طاغوتی قوتیں جہاد سے گھبراتی اور ڈرتی ہیں اور یہ جہاد پاکستان کو کبھی کمزور اور ناکام نہیں ہونے دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک سازش کے تحت فوج کو جنگ میں الجھایا گیا ہے کہ ہمارے بجٹ کا زیادہ حصہ فوج پر خرچ ہو۔ اسی طرح ہمیں قرضوں کی دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے اور ہر پاکستانی 35 ہزار روپے کا مقروض ہے۔ عالمی طاقتوں نے ڈرا دھمکا کر لالچی اور اقتدار کے ہوس لوگوں کو ہم پر حکمران مقر کر دیا۔ عدلیہ بحالی کی جدوجہد میں ہمیں بے حد کامیابی ملی اور سول سوسائٹی اور وکلا نے اسے تقویت بخشی۔ ایک امریکی دانشور نے اپنے ملک کے وکلا کو اس پر شرم دلائی تھی کہ امریکہ میں 10 لاکھ وکیل ہیں لیکن اس کی نسبت پاکستان کے 80 ہزار وکلا نے حکومت کو جھکنے پر مجبور کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہی نظام پاکستان کی ترقی اور استحکام کی ضمانت ہے جس کا تصور علامہ محمد اقبالؒ نے پیش کیا اور جس کے لئے قائداعظمؒ نے کوششیں کیں۔ پاکستان کے اندر خودکش حملے کرانے والے طالبان افغانستان کے طالبان نہیں۔ پاکستانی طالبان کسی اور مقصد کے لئے کام کر رہے ہیں۔ افغان طالبان حقیقی مجاہدین ہیں۔ جس دن حکومت نے اپنی پالیسیاں تبدیل کیں اس دن پاکستانی طالبان ختم ہو جائیں گے۔ اوباما نے افغانستان سے فوجیں نکالنے کا وقت اگلے سال کا دیا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ اکتوبر 2010ءتک ہی فوجیں نکال لے گا۔ ہمیں امریکہ کی واپسی کے بعد کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت ہمیں گہری سازش کے تحت خانہ جنگی میں مبتلا کر دیا جائے گا۔ افغانستان میں نیٹو فورسز کو سپلائی کراچی سے براستہ چمن اور کراچی سے براستہ پشاور طورخم مہیا کی جا رہی ہے۔ اگر حکومت پارلیمنٹ کی قرارداد کی منظوری کے باوجود اس سپلائی کو ختم نہیں کرتی تو ہمیں چاہئے کہ ہم چند ہزار لوگ سڑک پر جا کر بیٹھ جائیں اور آئل ٹینکروں کو گزرنے نہ دیں۔ ڈرون حملوں کی وجہ سے قبائلیوں کے معصوم لوگ مارے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ ہمارے خلاف انتقامی کارروائی کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ حکومت معاہدوں کے ذریعے آئی ہے اور پاکستانی قوم کو تاریکی میں رکھا گیا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ان معاہدوں کو سامنے لائے کہ کس قانون کے تحت امریکہ کو ڈرون حملوں کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پرویز مشرف بدبخت ڈکٹیٹر امریکہ سے ایسے معاہدے کر گیا تھا جس کی رو سے یہاں پر امریکی اسلحہ لے کر آزادانہ گھوم پھر سکتے ہیں اور اب وہ ساہیوال، ڈیرہ غازی خان، سرگودھا وغیرہ میں کتوں کی طرح ہمارے ایٹمی اثاثوں کی بو سونگھتے پھر رہے ہیں لیکن انہیں ان کا ہرگز علم نہیں۔ اگر امریکی قبضے کے باوجود ہمارے پاس دو چار ایٹم بم محفوظ رہے تو ہم اسے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف استعمال کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔ امریکہ کو افغانستان سے واپسی کے لئے پاکستان کی مدد کی ضرورت ہے لیکن ہم اس مدد کو اس بات سے مشروط کر دیں کہ قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے بند کر دیئے جائیں اور اس کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے لوگوں کے جانی اور مالی نقصان کا معاوضہ ادا کیا جائے۔ بالکل اسی طرح جس طرح امریکہ نے لاکربی کیس میں لیبیا سے معاوضہ وصول کیا تھا اور ایک شرط یہ لگائی جائے کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا جائے۔ چین نے اب بھارت کو چیلنج کرنا شروع کر دیا ہے۔ کشمیر کے متعلق چین نے بھارتی پاسپورٹ پر کشمیریوں کو ویزہ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ کشمیری اپنے علیحدہ پاسپورٹ بنوائیں یعنی انہوں نے بھارت کا وجود تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ پاکستان میں طالبانائزیشن کو صرف اسی صورت روکا جا سکتا ہے کہ یہاں پر شریعت نافذ کر دی جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو آنے والا دور بہت زیادہ بھیانک اور خوفناک ہو گا۔ جنرل (ر) حمید گل نے کہا کہ ایک سازش کے تحت جو پاکستانی دانشور بھارت کے ساتھ مل کر یہ تجاویز دے رہے ہیں کہ پاک فوج کو مشرقی سرحد سے مغربی سرحد پر منتقل کر کے طالبان کا راستہ بند کیا جائے تو مجید نظامی اس سازش کا سختی سے نوٹس لیں کیونکہ امن و آشتی کا راگ الاپنے والے درحقیقت بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو ایک اور جنگ میں دھیلکنا چاہتے ہیں۔ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا ہمیں یہ امن و آشتی منظور نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدل و انصاف کا نظام شریعت کی بنیاد پر استوار کیا جائے تو تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ اس موقع پر سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی۔ عزیز ظفر آزاد نے پوچھا کہ جب بھی حالات خراب ہوتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ملک ٹوٹ رہا ہے، اس پر کیسے پابندی لگائی جا سکتی ہے؟ جنرل (ر) حمید گل نے کہا کہ سندھ کارڈ استعمال کرنے کی دھمکی دینے والے کبھی بھی ایسا نہیں کر سکتے۔ بلوچستان میں امریکہ بھارت کے ساتھ کھیل کھیل رہا ہے۔ پاکستان کی ریاست کو ٹوٹنے کا کوئی خطرہ نہیں البتہ یہاں پر خانہ جنگی کا خطرہ ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں جنرل (ر) حمید گل نے کہا کہ جب شریعت نافذ ہو گی تو ہمارا آخری ریفرنس قرآن پاک اور حدیث نبوی ہو گا۔ اس لئے ہمیں شریعت کے نفاذ سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ مختار احمد بٹ نے پوچھا کہ ہمارے حکمران شریعت کیوں نافذ نہیں کرتے؟ جنرل (ر) حمید گل نے بتایا کہ 6 برس قبل ایک سروے میں 86 فیصد لوگوں نے شریعت کے نفاذ کی حمایت کی لیکن اب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت شریعت کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ ہمارے حکمران شریعت کی بجائے کسی اور چیز کے تابع ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں جنرل (ر) حمید گل نے کہا کہ 1992ءمیں بھاروت نے کشمیر کے اندر وولر بیراج پاکستانی دریا پر تعمیر کیا تھا جسے مجاہدین نے تباہ کر دیا تھا لیکن افسوس ہم نے جب سے جہاد کو فراموش کیا ہے تب سے بھارت کو بھی ہمیں آنکھیں دکھانے کا موقع مل گیا ہے۔ اگر ہم مجاہدین کی مدد کریں تو وہ ازخود بھارت کو پاکستانی دریاﺅں پر ڈیم تعمیر کرنے سے روک سکتے ہیں۔ مسز شمیم غفور نیازی نے پوچھا کہ کیا آئین شریعت سے مطابقت نہیں رکھتا؟ جنرل (ر) حمید گل نے کہا کہ آئین میں بہت سی ایسی شقیں ہیں جو شریعت سے متصادم ہیں۔ مثال کے طور پر صدر مملکت کو تحفظ دینے والی شق مکمل طور پر غیر شرعی ا ور غیر قانونی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں جنرل (ر) حمید گل نے کہا کہ اس وقت پاک فوج کا نظام سیکولر ہے کیونکہ جنرل (ر) ضیاءالحق نے پاک فوج کو اسلامی فوج بنا دیا تھا لیکن پرویز مشرف نے آ کر اس چیز کو ختم کر دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی علاقوں میں پاک فوج ایک ڈسپلن کے تحت کام کر رہی ہے اور وہاں شہید ہونے والے جوان ڈسپلن کے شہید ہیں۔ رابعہ انور کے سوال کے جواب میں جنرل (ر) حمید گل نے کہا کہ ہم اندرونی طور پر کمزور ہیں اور اس کی وجہ جمہوری نظام میں موجود خرابیاں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خودکش حملوں کی موجودہ ابتدا فلسطین سے ہوئی جب ایک لڑکی لیلیٰ خالد نے جہاز اغوا کیا۔ پاکستان میں ستمبر 2006ءکے بعد خودکش حملے ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ قبائلی علاقے میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں ایک مدرسے کے 82 بچے شہید ہو گئے تو جنرل (ر) پرویز مشرف نے فوراً کہا کہ یہ حملہ ہم نے کیا ہے لیکن مولوی فقیر محمد نے کہا کہ یہ پاک فوج نہیں کر سکتی بلکہ ایسا امریکیوں نے کیا ہے۔ اس کے بعد ایک ٹریننگ سنٹر میں 45 نوجوانوں کو خودکش حملوں کے نتیجے میں شہید کر دیا گیا جو پہلا خودکش حملہ تھا۔ لال مسجد اور جامع حفصہ پر حملہ امریکی پالیسی کا حصہ تھا۔ صدر بش نے اپنے خطاب میں بھی یہی کہا تھا۔ جنرل (ر) حمید گل نے کہا کہ خودکش حملوں کی روک تھام کیلئے سیاسی ڈائیلاگ کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ مجید نظامی نے کہا کہ ہم نے اقلیت ہونے کے باوجود ہندوستان پر ایک ہزار برس حکومت کی۔ ہندو ایسے لوگ ہیں جن کے لئے سوائے چابک کے کوئی اور حل نہیں۔ ہمارے گھوڑے بھارتی ٹٹوﺅں سے زیادہ اچھے ہیں اور جب کبھی ضرورت پیش آئی تو ہمارے گھوڑے بھارت کو سبق سکھائیں گے۔ بھارت بے شک بڑا ملک ہے اور اس نے ہی بنگلہ دیش بنایا لیکن وہ اس کے باوجود پاکستان سے جنگ کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ وہ ازل سے ہمارا دشمن ہے اور ہمیشہ دشمن رہے گا۔ اس نے ہمیں کبھی دل سے قبول نہیں کیا۔ ہمارے حکمران مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ہی بھارت سے دوستی کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمیں مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر کوئی دوستی قبول نہیں۔ بھارت، امریکہ اور اسرائیل شیطانی اتحاد ثلاثہ ہمیں ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حامد کرزئی کو سیدھا راستہ دکھائے کہ وہ پاکستان کو مسلسل تنگ کر رہے ہیں۔ اس وقت ملک میں جو صورتحال ہے ان حالات میں میری دعا ہے کہ ہم ہر گز یہ الفاظ نہ سنیں کہ میرے عزیز ہم وطنو! اللہ تعالیٰ ہمارے سیاستدانوں کو بھی عقل سلیم عطا فرمائے کہ وہ نظریہ¿ پاکستان کے ذریعے پاکستان کو ایک جدید اسلامی فلاحی مملکت بنائیں۔ مجید نظامی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جنرل (ر) حمید گل کو لمبی عمر عطا فرمائے کیونکہ وہ صحیح معنوں میں مجاہد ہیں۔ مجید نظامی نے جنرل (ر) حمید گل کی اہلیہ کی صحت یابی کیلئے بھی دعا کی۔ قبل ازیں تحریک پاکستان کے کارکن اور نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ جنرل (ر) حمید گل پاکستان کے ساتھ افغان امور کے ماہر ہیں۔ انہوں نے افغانستان میں روس کے خلاف جنگ لڑی اور اس میں فتح سے ہمکنار ہوئے۔ یہ ویژن رکھنے والے دانشور ہیں۔ وہ مرد مومن کا دل رکھتے ہیں اور جو پیش گوئیاں کرتے ہیں، وہ اکثر پوری ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ڈرون حملوں کے پیچھے کیا حکمت عملی کارفرما ہے؟ خودکش حملے کون لوگ کر رہے ہیں؟ ان کا مقصد کیا ہے؟ بلیک واٹر کی پاکستان میں سرگرمیوں کی اجازت کس نے دی اور امریکی اہلکاروں کو گرفتار کر کے پھر چھوڑ کیوں دیا جاتا ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ کیری لوگر میں ایسی ملک دشمن دفعات شامل ہیں جنہیں پڑھ کر خون کھول اٹھتا ہے۔ چند برسوں کے دوران اربوں ڈالر کی امداد حاصل کی گئی لیکن اس کے اثرات کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہے۔ تقریب کے آغاز میں سانحہ¿ کراچی اور دیگر خودکش حملوں میں شہید ہونے والوں کی بلندی درجات کیلئے فاتحہ پڑھی گئی۔ تقریب کے اختتام پر نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے شرکا کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions