پشاور/ کراچی (ریڈیو نیوز+ ایجنسیاں) عوامی نیشنل پارٹی سندھ نے کراچی میں بے گناہ پختونوں اور معصوم لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف 3روزہ سوگ اور کل یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے جبکہ حکومت سے علیحدگی کی دھمکی بھی دیدی ہے۔ اے این پی کے سینیٹرز زاہد خان اور حاجی عدیل نے کہا ہے کہ کراچی میں پختونوں کی ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے اور شہر پختونوں کیلئے قتل گاہ بن چکا ہے‘ ہمارے پاس صرف ایک وزارت ہے اسے چھوڑنا ہمارے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہے‘ پختونوں کی نعشیں آتی رہیں تو بھیانک نتائج نکلیں گے۔ ادھر اے این پی سندھ کے صدر اور پختون ایکشن کمیٹی (لویہ جرگہ) کے چیئرمین شاہی سیّد نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے اور کل 4فروری بروز جمعرات یوم سیاہ کے طور پر منانے کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے پر زور اپیل کی ہے کہ4 فروری کو پر امن رہتے ہوئے اپنے گھروں میں رہیں اور کالے جھنڈے لہرا کریوم سیاہ کراچی میں جاری دہشت گردی کے خلاف بطور احتجاج منایا جائے۔ حالیہ واقعات میں اردو بولنے والے اور پشتو بولنے والے دونوں کو صرف اردو بولنے والے ہی علاقوں میں ہلاک کیا گیا۔ حکومت ہلاکتوں کے ذمہ داروں کو منظر عام پر لائے۔ علاوہ ازیں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اے این پی رہنماﺅں نے کہا کہ ہم کافی عرصہ سے صبر کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ تحفظات دور نہ ہوئے تو حکومت سے علیحدگی اختیار کرسکتے ہیں۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ پر سینٹ میں تحریک التواءجمع کرادی گئی ہے۔ کراچی کا امن سب کے مفاد میں ہے لیکن ہمیں نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ کور کمیٹی کے اجلاس میں بلایا نہیں گیا۔ صرف دو جماعتوں کی کور کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا۔ اس میں لوکل باڈیز کے دورے سے فیصلہ قبول نہیں۔ سندھ حکومت فوری طور پر کراچی میں پختونوں کا قتل عام رکوائے اور بدمعاشوں کو سخت سزائیں دے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی پختونوں کیلئے قتل گاہ بن چکا ہے۔ علاوہ ازیں اے این پی نے پچھلے ایک ہفتہ کے دوران کراچی میں پختون آبادی کی منظم ٹارگٹ کلنگ اور ان کی املاک کو تباہ کرنے کی مہم پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت سے اس عمل کو فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
Post New Comment