افغان پالیسی....امریکہ یقین دلائے‘ پاکستان پر منفی اثرات مرتب نہیں ہونگے : دفتر خارجہ

حوالہ : اسلام آباد (سٹاف رپورٹر + ثناءنیوز) ـ 3 دسمبر ، 2009
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر + ثناءنیوز) پاکستان نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بات کی یقین دہانی کرائے کہ اس کی نئی افغان پالیسی کے پاکستان پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ دفتر خارجہ نے صدر امریکہ کی جانب سے گزشتہ شب افغانستان کے بارے میں اعلان کردہ نئی پالیسی پر محتاط ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا نئی افغان پالیسی پر عملدرآمد سے قبل اس کے تمام پہلوﺅں کا جائزہ لینا اور مضمرات کا تعین کرنا ضروری ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کا تہیہ کر رکھا ہے اور افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کیلئے اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرتا رہے گا۔ افغانستان کے بارے میں اس نئی حکمت عملی کو بہتر انداز میں سمجھنے کیلئے پاکستان امریکہ کے ساتھ قریبی روابط کا منتظر ہے۔ ویسے بھی مشترکہ مقاصد کے حصول کیلئے اس نوعیت کے قریبی مراسم ضروری ہیں۔ ترجمان کے اس بیان میں امریکہ کی نئی پالیسی کی جزئیات پر کوئی تبصرہ کیاگیا نہ امریکہ کی جانب سے مزید افواج بھجوانے کے اعلان کے بارے میں بات کی گئی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکی صدر کی جانب سے اعلان کردہ نئی پالیسی کا محتاط انداز میں ابتدائی جائزہ لیا ہے۔ پاکستان صدر امریکہ کی جانب سے مشترکہ مفادات‘ دوطرفہ مفادات اور باہمی عزت و احترام پر مبنی اشتراک کی پیشکش کا خیرمقدم کرتا ہے۔ اے این این کے مطابق عبدالباسط نے کہا ہے کہ امریکی صدر بارک اوباما کی افغان پالیسی میں بہت سی باتیں وضاحت طلب ہیں جب تک ابہام دور نہیں ہوتا اس پر انحصار کرنا مشکل ہے، سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ القاعدہ کی پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر نظر نہیں ہے، ہمیں نظر ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہمارا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اس قدر مضبوط ہے کہ ایٹمی اثاثوں کو کسی سے کوئی خطرہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر بارک اوباما کی اعلان کردہ نئی افغان پالیسی میں بہت سی باتوں کی وضاحت ضروری ہے ہم چاہیں گے کہ آنے والے دنوں میں امریکی پالیسی واضح ہو۔ نئی افغان پالیسی کے حوالے سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان مشاورت ہوتی رہی ہے، ہمیں افغانستان میں 30 ہزار اضافی فوجیوں کی تعیناتی کے حوالے سے تحفظات ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ ان امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے نتیجے میں دہشت گرد پاکستان میں داخل نہ ہوں اور افغانستان کی صورتحال مزید خراب نہ ہو ایسا بھی نہیں ہونا چاہیے کہ افغانستان سے مزید مہاجرین پاکستان آئیں اس کے علاوہ افغانستان کی ترقی کے حوالے سے منصوبوں پر بھی روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے۔ بارک اوباما نے فوجی انخلاءکے حوالے سے کوئی واضح ٹائم فریم دیا نہ پہلے سے موجود فوج کے حوالے سے کوئی بات کی گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم معاملات کو سلجھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے، القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن یا دیگر قیادت کا کسی کو علم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہے؟ اگر پاکستان میں موجودگی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو یہ معلومات ہمارے ساتھ شیئر کی جانی چاہیے ، میڈیا پر بیانات اور خدشات کا اظہار کرنا مناسب نہیں ہے۔ ثناءنےوز کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کو افغانستان میں مزید امریکی فوجیوں کی تعیناتی پر کچھ تحفظات ہیں۔ یہ بات انہوں نے برلن میں نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ سے ڈرون حملے روکنے کیلئے کہا ہے۔ پاکستان نے افغانستان میں نیٹو فوج بڑھانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دہشت گردی کو شکست دینا پاکستان اور بھارت دونوں کے مفاد میں ہے۔ بھارت بھی اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی مدد کرے۔
پاکستان / ردعمل

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions