متاثرین کا کہنا ہے کہ سیلاب سے ان کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے ، حکومت ہر متاثرہ خاندان کو پانچ لاکھ روپے فراہم کرے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع نوشہرہ کو آفت زدہ قرار دے کرگیس، بجلی اور ٹیلی فون بل معاف کیے جائیں جبکہ تاجر برادری اور کاشت کاروں کے نقصانات کا بھی ازالہ کیا جائے۔ ضلع نوشہرہ کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت نکاسی آب کا کام شروع کردیا ہے۔ سیلاب سے متاثرہ اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان ، چارسدہ ، سوات اور نوشہرہ میں کھانے پینے کی اشیاء کی شدید قلت ہے۔ ناقص پانی کے استعمال اور تعفن کی وجہ سے ہزاروں متاثرین ہیضہ، آشوب چشم اور دیگر جلدی امراض کا شکار ہوگئے ہیں جن کی تعداد مناسب طبی سہولیات میسر نہ ہونے کیوجہ سے بڑھ رہی ہے ۔ دوسری جانب بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقے ڈیرہ الہ یار، صحبت پور، گنداخہ اور ڈیرہ مراد جمالی میں معمولات زندگی بحال ہورہے ہیں ۔ بازار جزوی طور پر کھل گئے ہیں اورلوگوں کی گھروں کو واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم خیمے اور رہائش کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے واپسی پر متاثرین کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان علاقوں میں بھی طبی سہولیات ناکافی ہیں اور لوگوں کوغذائی قلت کا بھی سامنا ہے۔
Post New Comment