سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد جنوبی پنجاب کے اضلاع رحیم یارخان، مظفر گڑھ ، راجن پورسمیت دوسرے علاقوں میں امدادی سرگرمیاں اورریلیف کا کام جاری ہے۔ پنجاب حکومت ، این جی اوز، فلاحی ادارے اورمخیر حضرات اپنے سیلاب زدہ بھائیوں کی مدد میں پیش پیش ہیں تاہم بعض دوردراز مقامات پر ابھی تک کوئی امداد نہیں پہنچ پائی ۔ رحیم یارخان کی تحصیل خانپور، چاچڑاں شریف اوردیگرسیلاب زدہ علاقوں میں خیموں ، خوراک اور ادویات کی قلت ہے۔ وبائی امراض کے باعث خواتین میں مسائل بڑھ رہے ہیں جبکہ سیلاب کے بعد سیم تیزی سے پھیل رہا ہے، اب تک رحیم یار خان کے چالس سے زائد علاقے سیم سے متاثرہوچکے ہیں ۔ ادھر رابطہ عالمی اسلامی کے انٹرنیشنل اسلامک ریلیف فنڈز کی جانب سے متاثرین کیلئے بجھوائے جانیوالے امدادی سامان کے نو ٹرکوں کو مظفرگڑھ کے علاقے محمود کوٹ میں لوٹ لیا گیا ۔ اسلامک ریلیف فنڈز کے ڈائریکٹر جنرل محمد عبدہ تمیم نے کہا کہ وہ اس واقعہ سے دلبرداشتہ نہیں ہوئے بلکہ وہ اسلامی اخوت کے جذبہ کے تحت اپنے پاکستانی بھائیوں کو امدادی سامان پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ دوسری جانب راجن پورمیں عاقل پورکے مقام پرسیم نالے میں آج صبح ایک بڑا شگاف پڑنے کا انکشاف پڑگیا تاہم محکمہ انہارکے عملہ اورمقامی افراد نے اسے بروقت پُر کردیا جس سے راجن پورکے زیرآب آنے کا خطرہ ٹل گیا ۔ ضلع راجن پور کے سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے تباہ حال گھروں کی تعمیر ومرمت کا کام شروع کردیا ہے جبکہ وزیراعلٰی پنجاب کی جانب سے متاثرین میں عید گفٹ بھی تقسیم کیے جارہے ہیں ۔
Post New Comment