اسلام آباد (اے ایف پی) پاکستان میں 3 برسوں کے دوران ہونیوالے بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں تقریباً 3500 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق جولائی 2007ءسے لیکر اب تک ہونیوالے بڑے دھماکوں میں 19جولائی کو ناردرن ایریاز میں خودکش حملے کے نتیجہ میں 20 اہلکاروں سمیت 54 افراد جاں بحق ہو گئے تھے جبکہ 18اکتوبر کو بے نظیر بھٹو شہید کی 8 برس بعد وطن واپس کراچی میں ان کے جلوس پر بم سے حملہ کیا گیا جس میں محترمہ محفوظ رہیں تاہم 139لوگ جاں بحق ہو گئے۔ بعدازاں 27 دسمبر کو راولپنڈی میں ہونیوالے دوسرے حملے اور فائرنگ کے نتیجہ میں محترمہ بے نظیر شہید ہو گئیں۔ 2008ءمیں 21اگست کو واہ کینٹ میں 2خودکش دھماکوں کے نتیجہ میں 64 افراد‘ 20 ستمبر کو اسلام آباد میرٹ ہوٹل پر خودکش حملہ کے نتیجہ میں تقریباً 60 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ اسی طرح 28اکتوبر 2009ءمیں خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی پشاور کی معروف مارکیٹ میں دھماکے سے اڑا دی جس کے نتیجہ میں خواتین او ربچوں سمیت 125افراد دہشت گردی کا شکار ہو گئے۔ 7/8دسمبر کو لاہور میں 4دھماکوں کے نتیجہ میں کم از کم 66افراد جاں بحق ہو گئے۔ جنوری 2010ءمیں حسن خیل گاﺅں میں والی بال کے میچ کے دوران خودکش بمبار نے بارود سے بھری گاڑی کا دھماکہ کر دیا جس سے 101افراد مارے گئے۔ 12مارچ کو لاہور میں سکیوٹی فورسز کو 2مقامات پر خودکش حملوں سے نشانہ بنایا گیا جس سے اہلکاروں سمیت 57افراد جاں بحق ہو ئے۔ 28مئی کو لاہور میں ہی احمدیوں کی 2عبادتگاہوں کو دہشتگردوں نے اپنا ٹارگٹ بنایا جس کے نتیجہ میں 82افراد مارے گئے۔ یکم جولائی کو پھر لاہور پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا اور داتا دربار پر خودکش حملوں کے نتیجہ میں 43افراد خالق حقیقی سے جا ملے۔ رپورٹ کے مطابق رواں برس 9جولائی کو مہمند ڈسٹرکٹ کی مارکیٹ میں خودکش حملہ میں 65‘ 23اگست کو وزیرستان کے علاقے وانا کی مسجد میں ہونیوالے خودکش حملہ سے 20افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ گذشتہ روز ایک بار پھر لاہور میں ہونیوالے خودکش حملہ نے کئی قیمتی جانیں چھین لیں۔
Post New Comment