لاہور (نامہ نگار) مزنگ کے علاقہ میں سحری کے وقت باپ کو تین بیٹیوں سمیت جسم کے مختلف حصوں پر چھریوں کے وار اور گلے کاٹ کر قتل کردیا گیا۔ ہلاک ہونیوالوں میں عبدالرحمن اسکی 31 سالہ وکیل بیٹی رضوانہ، 28 سالہ غزالہ اور 25 سالہ کنول شامل ہیں۔ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ قتل کی یہ لرزہ خیز واردات عبدالرحمن کے بیٹے عرفان نے کی ہے جو کہ فرار ہے۔ تفصیلات کے مطابق مزنگ کے علاقہ طارق سٹریٹ گلی نمبر 54 کا رہائشی عبدالرحمن، وارث روڈ پر گاڑیوں کے ایک شو روم میں بطور چوکیدار ملازمت کرتا تھا۔ عبدالرحمن چار بیٹیوں عظمیٰ، رضوانہ، غزالہ، کنول اور بیٹے عرفان کے ساتھ رہائش پذیر تھا جبکہ اس کی بیوی وفات پا چکی تھی۔ ڈیڑھ ماہ قبل عبدالرحمن نے اپنی بڑی بیٹی عظمیٰ کی شادی اس کی خالہ کے بیٹے سے کردی تھی جو کہ اپنے سسرال میں رہ رہی تھی۔ گزشتہ روز سحری کے وقت عبدالرحمن اور اس کی تینوں بیٹیوں رضوانہ، غزالہ اور کنول کو گھر کے اندر جسم کے مختلف حصوں پر چھریوں کے وار اور گلے کاٹ کر قتل کردیاگیا۔ گھر کی بالائی منزل پر عبدالرحمن اور اسکی چھوٹی بیٹی کنول کی خون میں لت پت نعش کمرے کے باہر صحن میں پڑی تھی جبکہ رضوانہ اور غزالہ کی نعش ایک کمرے میں چارپائی کے پاس نیچے فرش پر پڑی تھی۔ کمرے اور صحن میں ہر طرف خون بکھرا پڑا تھا گھر سے عبدالرحمن کا 24 سالہ بیٹا عرفان جو الیکٹریشن کا کام کرتا تھا وہ غائب تھا۔ پولیس کے مطابق شبہ ہے کہ یہ واردات عرفان نے کی ہے۔ عرفان نے اپنے قریبی رہائشی رضی نامی کزن کو موبائل سے فون کیا تھا کہ اس کا ہاتھ چھری لگنے سے زخمی ہوگیا ہے۔ رضی نے عرفان کو موٹر سائیکل پر سروسز ہسپتال پہنچایا۔ پولیس کے مطابق رضی نے بتایا ہے کہ عرفان نے کہا کہ میں پٹی کروا کر آجاتا ہوں۔ رضی گھر آیا تو وہاں چاروں نعشیں پڑی تھیں۔ پولیس کے مطابق عرفان ہسپتال سے پٹی کرا کر غائب ہوگیا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ عرفان چاروں کو چھری سے قتل کرنے کے دوران ان کی مزاحمت کرنے پر خود کو چھری لگنے سے ہاتھ پر زخم آ گیا ہو گا۔ علاوہ ازیں ذرائع کا کہنا ہے کہ عرفان پولیس حراست میں ہے۔ پولیس کے مطابق چاروں کو قتل کرنے سے قبل نشہ آور یا زہریلی شے کھلائی گئی تھی یا نہیں یہ حقائق کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹ آنے کے بعد سامنے آئیں گے۔
Post New Comment