سیلاب سے 43 ارب ڈالر کا نقصان ہوا‘ مہنگائی 11 فیصد تک بڑھے گی‘ 2 کروڑ افراد متاثر ہوئے : وزیراعظم گیلانی

ـ 2 ستمبر ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی + نمائندہ خصوصی + ایجنسیاں) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ اندازے کے مطابق سیلاب سے ملکی معیشت کو 43 ارب ڈالرز تک نقصان ہو سکتا ہے۔ مہنگائی کی شرح 9.5 فیصد کے ہدف سے بڑھ کر 15 سے 20 فیصد تک ہو جائے گی۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے کہا ملک میں بدترین سیلاب کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے روزگار اور ہزاروں خاندانوں کی آمدن متاثر ہو سکتی ہے۔ رواں سال ترقی کی شرح کا ہدف 4.5 فیصد تھا جو اب کم ہو کر 2.5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ ملک میں فوڈ سکیورٹی کو بھی خطرہ ہے۔ پہلے ایک سے تین ماہ میں سبزیاں‘ دودھ‘ گوشت اور مصالحہ جات مہنگے ہوں گے جبکہ آئندہ فصلوں کی کٹائی تک گندم‘ چاول اور چینی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گا‘ انہوں نے بتایا بجٹ خسارہ 4.5 فیصد کے ہدف کی بجائے 6 سے 7 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ عالمی برادری نے 95 کروڑ 37 لاکھ ڈالرز امداد کے وعدے کئے‘ حکومت کو موجودہ بحران سے نمٹنے کے لئے ترجیحات ازسرنو مرتب کرنا اور اخراجات کم کرنا ہوں گے۔ ریلیف آپریشن 30 اکتوبر کی بجائے چھ ماہ چلے گا جبکہ عالمی بنک اور اے ڈی بی 30 ستمبر تک نقصانات کا تخمینہ لگا لیں گے جس کے بعد حکومت تمام بیرونی و اندرونی وسائل کو فعال کرتے ہوئے یکم دسمبر سے متاثرین کی مکمل بحالی اور تعمیرنو کا منصوبہ شروع کرے گی۔ انہوں نے کہا حکومت دیامر بھاشا ڈیم سمیت چھوٹے اور درمیانے ڈیمز ترجیحی بنیادوں پر تعمیر کرے گی۔ وزیراعظم نے کہا متاثرین سیلاب کی بحالی کے لئے ایک منظم طریقہ وضع کر لیا گیا ہے سیلاب میں ایک ہزار پل جبکہ 4 ہزار کلو میٹر سے زائد سڑکیں تباہ ہو گئیں‘ لاکھوں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں بھی مکمل طور پر تباہ ہوئیں۔ انہوں نے کہا سیلاب اور بارشوں سے 2 کروڑ افراد متاثر ہوئے جبکہ 12 لاکھ مکانات مسمار ہو گئے۔ پیپکو اور واپڈا کو بھی اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ نمائندہ خصوصی کے مطابق سرمایہ کاری بورڈ کے سربراہ سلیم مانڈوی والا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے سیلاب زدگان کی بحالی کے لئے بین الاقوامی برادری کی حمایت کی تعریف کی۔ سلیم مانڈوی نے وزیراعظم کو اپنے دورہ جاپان اور کوریا کے بارے میں بتایا۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کابینہ اجلاس کی بریفنگ کے دوران بتایا سیلاب سے مہنگائی بڑھے گی اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا‘ صوبوں کو ابھی تک نقد امداد نہیں دی‘ وزیراعظم ریلیف فنڈ میں دو ارب روپے جمع ہو چکے‘ عالمی برادری سے بھی 150 ملین ڈالر موصول ہو گئے ہیں۔ عید سے قبل متاثرین میں نقد امداد کی تقسیم یقینی بنائی جائے گی۔ صوبے متاثرین کی لسٹیں بھجوانے میں سستی کر رہے ہیں۔ سیلاب سے صرف انفراسٹرکچر کو 6 ارب ڈالر کا نقصان ہوا‘ متاثرہ کاشتکاروں کو آئندہ فصل کیلئے کھاد اور بیج فراہم کریں گے‘ گلگت بلتستان میں کوئی چینی فوجی موجود نہیں‘ کرکٹ ٹیم کے خلاف کارروائی تحقیقات مکمل ہونے تک نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے بتایا مون سون کی بارشوں کا نیا سلسلہ آج شروع ہو گا جو کل بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے بتایا کل مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی شریک ہوں گے اور ان کی مشاورت سے امداد کی تقسیم کی حکمت عملی وضع کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا پنجاب اور سندھ میں متاثرہ خاندانوں کی جو فہرستیں ملی ہیں وہ ”نادرا“ سے تصدیق کے بعد انہیں واپس بھجوا دی ہیں جس کے تحت سات لاکھ خاندان پنجاب اور تین لاکھ سندھ میں متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا سیلاب کے بعد ملک میں مہنگائی بڑھے گی اور یہ سترہ فیصد تک بھی جا سکتی ہے لیکن حکومت اسے کم سے کم رکھنے کی کوشش کرے گی۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions