سندھ میں سیلاب سے مزید تباہی‘ گیسٹرو سے 8 افراد جاں بحق

ـ 2 ستمبر ، 2010
  • Adjust Font Size

ٹھٹھہ + لاڑکانہ (مانیٹرنگ نیوز+ایجنسیاں) سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ گاجی کھاوڑ میں تین حفاظتی بند بہہ جانے سے پورا علاقہ اور سیم کینال میں شگاف پڑنے سے 25 دیہات زیر آب آ گئے۔ آبی ریلا باڈہ اور وارہ خیرپور جوناتھن شہر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ تحصیل شاہ بندر کے 70 سے زائد دیہات پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں گیسٹرو نے وبائی صورتحال اختیار کرلی ہے سندھ میں گیسٹرو سے مزید بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق ہوگئے۔جاتی میں 4 بچے ریلے میں بہہ گئے۔کراچی کے ریلیف کیمپوں میں متاثرین کی تعداد 60 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ ٹھٹھہ میں بھوکے پیاسے سینکڑوں افراد نے مظاہرہ کیا اور کراچی روڈ کو 3 گھنٹے بلاک کئے رکھا۔ میانوالی کا خیبر پی کے سے زمینی رابطہ 35 روز بعد بحال کردیا گیا۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ملیریا شدت سے پھیل رہا ہے جس کے خاتمہ کیلئے ہنگامی اقدامات کرنا ہونگے۔ تفصیلات کے مطابق خیرپور ناتھن شاہ کے قریب ایم این وی ڈرین میں دو شگاف پڑنے سے مزید دیہات زیر آب آ گئے۔ جوہی کیلئے خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وارہ شہر کو بچانے کیلئے نصیر شاخ کے پشتوں کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ شہری ایکشن کمیٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ شہر کو ڈبونے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کے خلاف ہڑتال کی جا رہی ہے۔ زمزم آئل فیلڈ کو بچانے کیلئے انتظامیہ نے اپنی مدد آپ کے تحت آئل فیلڈ کے گرد حفاظتی بند بنا لیا ہے۔ ٹھٹھہ میں مظاہرہ کرنیوالوں نے کہا کہ ہمیں دو روز سے خوراک اور پانی نہیں ملا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان مارٹن نسر نے بتایا کہ ایک ماہ کے دوران 37 لاکھ لوگوں کا علاج کیا جو ڈائریا، سانس، جلد کی بیماریوں اور ملیریا میں مبتلا تھے۔ متاثرہ علاقوں میں ایک ہزار سے زائد ہسپتالوں میں سے 4 سو تباہ ہو چکے ہیں۔ پاک فوج کے ترجمان نے بتایا کہ فوج مختلف علاقوں میں پھنسے ہوئے 25 سو افراد کو نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 182500 کیوسک ہے۔ ٹھٹھہ کے علاقے چوہڑجمالی میں خاتون سمیت دو افراد کندھ کوٹ میں ایک شخص تنگوائی میں تین اور سانگھڑ کے ریلیف کیمپ میں گیسٹرو سے دو بچے جاں بحق ہوئے۔ فلڈ ریلیف کمشن کے اعداد و شمار کے مطابق ابتک 1707 افراد جاں بحق اور 44 لاکھ چھبیس ہزار ایکڑ رقبہ پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ 3 لاکھ 20 ہزار مکان تباہ، 2 لاکھ 20 ہزار مویشی ہلاک ہوئے ہیں۔ میانوالی سے نامہ نگار کے مطابق جناح بیراج میں ڈالے جانیوالے 3 شگافوں کو پر کرکے ٹریفک بحال کردی گئی ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions