سپریم کورٹ نے قائم مقام چیئرمین‘ پراسپکیوٹر جنرل نیب کا تقرر غیر قانونی قرار دیدیا

ـ 2 ستمبر ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+ بی بی سی ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے قائم مقام چیئرمین جاوید قاضی اور پراسیکیوٹر جنرل عرفان قادر کی تعیناتی کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے حکومت کو ایک ماہ کے اندر اندر ان عہدوں پر نئی تعیناتیاں کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے یہ فیصلہ پڑھ کر سنایا‘ عدالت نے اپنے فیصلے میں نیب کے پراسیکیوٹر جنرل عرفان قادر کو فوری طور پر عہدہ چھوڑنے کا حکم بھی دیا۔ یہ فیصلہ بنچ میں شامل جسٹس غلام ربانی نے لکھا ہے اور انہوں نے بھی یہ فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ نیب آرڈیننس میں یا تو نیب کا چیئرمین ہوتا ہے اور یا ڈپٹی چیئرمین۔ عدالت کا کہنا تھا کہ نیب میں قائم مقام چیئرمین کا کوئی عہدہ نہیں ہے۔ بی بی سی کے مطابق ان افراد کی تعیناتی سے متعلق مختلف درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی جن میں سے ایک درخواست بینک آف پنجاب کی طرف سے بھی دائر کی گئی تھی۔ جس میں مﺅقف اختیار کیا گیا تھا کہ نیب کے پراسیکیوٹر جنرل عرفان قادر حارث سٹیل ملز کے ڈائریکٹروں کے وکیل بھی رہے ہیں جنہوں نے بینک آف پنجاب سے 9 ارب روپے سے زائد کا قرضہ لیا تھا۔ بینک آف پنجاب کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ عرفان قادر پر بینک آف پنجاب کے ملزمان سے پیسے لینے کا الزام ہے اور مذکورہ شخص کے نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کے عہدے پر موجود ہونے کی وجہ سے اس مقدمے کی تحقیقات غیر جانبدارانہ نہیں ہو سکتی۔ واضح رہے کہ عرفان قادر پہلے بھی نیب کے پراسیکیوٹر جنرل رہ چکے ہیں جبکہ نیب آرڈیننس کے تحت اس عہدے پر کسی شخص کو دوسری مرتبہ تعینات نہیں کیا جا سکتا۔ عرفان قادر ان ججوں میں شامل تھے جنہوں نے سابق صدر پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اٹھایا۔قبل ازیں عدالت نے اس کیس میں فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions