میچ فکسنگ : شواہد ناکافی ہو سکتے ہیں‘ رک پیری ۔۔ کارروائی کا امکان نہیں‘ ہائی کمشن

ـ 2 ستمبر ، 2010
  • Adjust Font Size

لندن/لاہور (آصف محمود سے+سپورٹس رپورٹر+ایجنسیاں) برطانوی اینٹی کرپشن کمشن کے چیف رک پیری نے کہا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کیخلاف سپاٹ فکسنگ کے الزام کی ویڈیو دیکھ کر لگتا ہے ٹھوس شواہد موجود ہیں لیکن ایسا نہیں اور شواہد ناکافی ثابت ہو سکتے ہیں ”کرک انفو“ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا مظہر مجید کیخلاف باقاعدہ مقدمہ قائم کرنے کیلئے پولیس کے پاس کافی ثبوت نہیں ہیں۔نیٹ نیوز کے مطابق لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن نے کرکٹرز کیخلاف کسی کارروائی کا امکان رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ نے میچ فکسنگ سکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث پاکستانی کھلاڑیوں سے صرف تفتیش کی ہے، اب تک کوئی چارج نہیں لگایا، ہائی کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ ٹیم کو واپس بلایا جا رہا ہے یا مشتبہ کھلاڑیوں کے خلاف کوئی کارروائی کی جا رہی ہے۔ بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ کسٹمز نے خاتون سمیت جن تین افراد کو گرفتار کیا ان پر منی لانڈرنگ کا الزام ہے اور معاملے کا حالیہ کرکٹ بحران سے کوئی تعلق نہیں۔مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹو ہارون لوگارٹ نے کہا ہے پاکستان ٹیم کے خلاف میچ فکسنگ کا معاملہ برطانوی ہفت روزہ کی سازش ہے تاکہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو بدنام کیا جاسکے۔ ایک غیرملکی ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا آئی سی سی کے اینٹی کرپشن کمشن اور سکیورٹی پر تنقید بے بنیاد ہے آئی سی سی کا یہ یونٹ ایک خاص طریقہ کار کے تحت کام کرتا ہے اور گرفتار کرنے، پکڑنے یا نقصان پہنچانے کے اختیارات نہیں رکھتا۔لندن سے آصف محمود کی رپورٹ کے مطابق سکاٹ لینڈ یارڈ الزامات کے حوالے سے اپنی تفتیش کل پیش کرے گا۔ ان الزامات پر پوری دنیا میں اور خصوصاً برطانیہ میں رہنے والے 10 لاکھ پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک گئے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے فرد جرم عائد کرنے سے قبل تحقیقات میں 3 ماہ لگ سکتے ہیں اور میچ فکسنگ کے حوالے سے جن 3 کھلاڑیوں کے نام سامنے آرہے ہیں انہیں برطانیہ نہ چھوڑنے کا پابند کیا جاسکتا ہے۔ برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کا کہنا ہے اس واقعہ سے سیلاب زدگان کیلئے کی جانیوالی امدادی سرگرمیوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے پی سی بی کو تینوں کھلاڑیوں کو T20 اور ون ڈے میچوں سے علیحدہ کر دینا چاہئے تھا۔ خدشہ ہے پی سی بی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتا رہا تو پاکستان کو آئی سی سی ریٹنگ سے ایک سال کیلئے معطل کیا جاسکتا ہے۔سپورٹس رپورٹر کے مطابق رکن قومی اسمبلی و قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے چیئرمین اقبال محمد علی نے اچانک یوٹرن لے لیا۔ تین روز تک پاکستان کرکٹ بورڈ اور قومی کھلاڑیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد لندن میں چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ سے رابطہ کرتے ہوئے ان کو اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے۔ریڈیو نیوز کے مطابق چیئرمین پی سی بی اور 3 پاکستانی کھلاڑیوں کی پاکستان ہائی کمشن واجد شمس الحسن سے ملاقات آج بروز جمعرات تک ملتوی ہوگئی ہے۔ ٹیم منیجر یاور سعید نے صحافیوں کو بتایا کپتان سلمان بٹ، باﺅلرز محمد آصف اور محمد عامر آج لندن میں واجد شمس الحسن سے ملاقات کرینگے۔ اس موقع پر چیئرمین پی سی بی بھی موجود ہونگے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفصل رضوی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا برطانوی پولیس نے تاحال کھلاڑیوں پر عائد الزامات کی تفصل پی سی بی کو فراہم نہیں کی، انکوائری رپورٹ آنے تک کسی کھلاڑی کو قصور وار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ کسی کھلاڑی کو بچانے اور نہ ہی پھنسوانے کی کوشش کی جائیگی، کسی کھلاڑی سے پاسپورٹ نہیں لئے اور نہ ہی انہیں سفر کرنے سے روکا ہے۔ واقعہ کی تہہ تک پہنچنے کیلئے برطانوی پولیس سے چوبیس گھنٹے تعاون کر رہے ہیں۔ سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کی تحقیقات جاری ہے اور حالات بھی کلیئر نہیں ہوئے۔ پاکستانی کوچ وقار یونس کا کہنا ہے ان کی کوشش ہو گی کہ وہ آئندہ میچز میں پرفارمنس کا مظاہرہ کریں۔ این این آئی کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل پاکستانی کرکٹ ٹیم کے 3 کھلاڑیوں پر مبینہ الزامات کے بارے میں (آج) جمعرات کو اپنی رپورٹ جاری کرے گی۔ آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ہارون لور گاٹ معاملے کا جائزہ لینے کیلئے لندن پہنچ چکے ہیں۔ آئی سی سی نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ کسی بھی کھلاڑی کے خلاف واضح ثبوت ملنے تک کوئی کارروائی نہیں ہو گی۔ دریں اثناءمظہر مجید کی ویڈیو کو ماہرین نے مشتبہ قرار دیدیا ہے چونکہ اس پر ریکارڈنگ کی تاریخ ہی نہیں ہے۔ ثناءنیوز کے مطابق سپاٹ فکسنگ سکینڈل اختتامی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقاتی ٹیم کو ابھی تک ٹھوس شواہد نہیں ملے۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے ذرائع کے مطابق برطانوی جریدے نے سکاٹ لینڈ یارڈ کو جو فوٹیج اور ثبوت فراہم کئے وہ قابل اعتبار نہیں۔سکاٹ لینڈ یارڈ کے پاس اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں کہ میچ فکسر مظہر مجید کا پاکستانی فاسٹ باولرز محمد عامر اور محمد آصف کے ساتھ کوئی رابطہ ہے اور کسی ویڈیومیں تاریخ اور وقت بھی نہیں۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کو ویڈیو میں دکھائے گئے ان نوٹوں پر بھی شک ہے کہ آیا وہ دس ہزار برطانوی پاونڈز ہیں بھی یا نہیں۔کھلاڑیوں کا مورال بلند کرنے کیلئے شاہد آفریدی نے ایک حکمت عملی مرتب کر لی ہے جبکہ کوچ وقار یونس اور سینئر کھلاڑیوں نے شاہد آفریدی کومکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions