لاہور (اپنے نمائندے سے+ریڈیو نیوز+ ایجنسیاں) نیب پنجاب نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کے قریبی عزیز سابق ایم پی اے سہیل ضیا بٹ کو لاہور سے گرفتار کر لیا ہے۔ وہ فیروز پور روڈ سے گزر رہے تھے کہ نیب حکام نے ان کی گاڑی روک کر انہیں گرفتار کرلیا۔ نیب حکام کے مطابق سہیل ضیاءبٹ نے کوآپریٹو سوسائٹیوں کے سکینڈل میں تقریباً 7 کروڑ روپے کی خورد برد کی اور وہ 2001 سے اشتہاری تھے ان کو آج احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا وہ ایم این اے عمر سہیل ضیا بٹ کے والد ہیں۔ این این آئی کے مطابق سہیل ضیا کی گرفتاری کے بعد ان کے صاحبزادے عمر سہیل ضیاءاور لیگی کارکنوں نے چمبہ ہاﺅس کے باہر نیب حکام کے خلاف احتجاج شروع کر دیا اور مطالبہ کیا کہ ان کو رہا کیا جائے اس دوران نیب حکام اور پولیس سے تلخ کلامی بھی ہوئی تاہم ایک اعلیٰ شخصیت کے فون کرنے پر عمر سہیل کو اپنے والد سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے کہا ہے نیب نے گرفتاری کے متعلق پنجاب حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا اور جس طرح انہیں گرفتار کیا گیا وہ طریقہ بھی درست نہیں ہم حقائق معلوم ہونے کے بعد وفاقی حکومت سے باقاعدہ رابطہ کرینگے۔ عمر سہیل ضیا کا کہنا ہے میرے والد پر جو بھی الزامات لگائے گئے ہیں وہ درست نہیں ہم گرفتاریوں سے خوفزدہ نہیں۔ ثناءنیوز کے مطابق ایسے ہی ایک کیس میں رحمن ملک کو تین سال کی سزا سنائی گئی تھی جسے صدر زرداری معاف کر چکے ہیں۔کامرس رپورٹر کے مطابق گرفتاری کیخلاف شہر کی تاجر برادری نے شدید احتجاج کیا ہے۔ مسلم لیگ ن ٹریڈرز ونگ لاہور عہدیداروں نے اسے سازش قرار دیتے ہوئے کہا پیپلز پارٹی محاذ آرائی پر اتر آئی ہے۔ ادھر وفاقی وزیر اطلاعات فخرالزمان کائرہ نے کابینہ اجلاس کی بریفنگ کے دوران کہا سہیل ضیا بٹ کی گرفتاری انتقامی کارروائی نہیں۔
Post New Comment