لندن (نیٹ نیوز) پاکستانی کرکٹرز پر میچ فکسنگ کے الزامات نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ روزنامہ میل کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ سارا ڈرامہ بھارتی خفیہ ایجنسی را نے تیار کیا اور اس میں آئی سی سی کے صدر بھارتی نژاد شرد پوار‘ برطانوی صحافی‘ را کے لئے کام کرنے والے مظہر مجید اور برطانوی صحافی کے ساتھ لندن میں بھارتی ہائی کمشنر اور سکاٹ لینڈ یارڈ نے اہم کردار ادا کیا۔ ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق اس سارے ڈرامے کا مقصد پاکستانی کرکٹ ٹیم پر 3 سے 5 سال کے لئے پابندی عائد کرنا تھا۔ رپورٹ کے مطابق سلمان بٹ بکی اور صحافی کے ساتھ تصویر کمپیوٹر پر تیار کردہ ہے اور یہ پروگرام ہر اخبار کے دفتر میں موجود ہوتا ہے۔ اسی طرح بکی کی برطانوی پاونڈز کے ساتھ ویڈیو بھی ایک تخلیق ہے۔ ڈیلی میل کے مطابق مظہر مجید را کا اہم رکن ہے اور چند برس قبل تک وہ ممبئی میں سنیما گھروں کے باہر ٹکٹ بلیک کیا کرتا تھا جہاں سے را نے اسے پسند کیا اور پھر اسے را کے سپیشل یونٹ (ایس او ڈی) میں باقاعدہ ٹریننگ دی گئی اور پھر اسے ممبئی‘ دہلی‘ کیپ ٹاون اور دبئی کے بکیوں سے ملوایا گیا۔ 2007ءمیں را نے مظہر مجید کی بھارتی کرکٹ ٹیم کے سٹار کھلاڑیوں سچن ٹنڈولکر‘ ہربجن سنگھ اور راہول ڈریوڈ سے ملاقات کرائی تاکہ وہ دوسری عالمی ٹیموں سے اسے ملوا سکیں۔ ستمبر 2009ءمیں ایک بھارتی تاجر نے کیمپ ٹاون‘ جنوبی افریقہ میں پاکستانی اور بھارتی کھلاڑیوں کے اعزاز میں عشائیہ دیا اور یہاں اس بکی کو پہلی مرتبہ پاکستانی کھلاڑیوں سے ملوایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں بھارتی ہائی کمشن اور را نے برطانوی صحافیوں سے ملاقاتیں کیں اور آخرکار وہ ایک صحافی کو اس ڈرامے کے لئے تیار کرنے پر کامیاب ہو گئے۔ اسی دوران بھارتی ہائی کمشن نے سکاٹ لینڈ یارڈ کو اس بارے میں آگاہ کیا کہ پاکستانی کھلاڑی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں‘ آئی سی سی کے سربراہ پہلے ہی بھارتیوں کے لئے کام کر رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق بکی مظہر مجید کی جلد ضمانت کے لئے بھارتی ہائی کمشن اور را نے سپورٹ کیا۔ را نے لاہور کی ایک اداکارہ سے بھی رابطہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق برطانوی صحافی کو اس ڈرامے کے لئے 50 ہزار پاونڈ ادا کئے گئے۔
Post New Comment