گوجرانوالہ + سیالکوٹ (نمائندہ خصوصی + نامہ نگار) سیالکوٹ میں پولیس کی موجودگی میں دیہاتےوں کے ہاتھوں دو نوجوان بھائیوں کی ہلاکت کے ملزم سابق ڈی پی او سیالکوٹ اور پانچ اہلکاروں کو انسداد دہشت گردی گوجرانوالہ ڈویژن کی خصوصی عدالت نمبر دو میں پیش کیا گیا جہاں فاضل جج رانا نثار احمد نے تمام ملزمان کو سات روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ بھیجنے کے احکامات جاری کردیئے جس کے بعد انہیں ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ منتقل کر دیا گیا۔ گذشتہ صبح سابق ڈی پی او وقار چوہان اور پولیس اہلکاروں محمد یاسین، محمد بشیر، ناظر حسین، محمد اکرم اور محمد نصیر کو کڑے پہرے میں عدالت میں پیش کیا گیا پولیس اہلکاروں کو پولیس وین میں لایا گیا ان کے منہ کپڑوں سے ڈھکے اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں جبکہ سابق ڈی پی او کو پروٹوکول کے ساتھ ججز کیلئے استعمال کئے جانے والے سیالکوٹ روڈ لنک دروازے سے عدالت تک پہنچایا گیا، ان کا چہرہ ڈھانپا گیا نہ ہتھکڑی لگائی گئی۔ پولیس کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی کہ ملزم اہلکاروں سے کسی قسم کی برآمدگی درکار نہیں ہے جس پر فاضل جج نے تمام ملزمان کا سات روزہ جوڈیشل ریمانڈ دیتے ہوئے ڈسٹرکٹ سیالکوٹ جیل منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس موقع پر وقار چوہان نے فاضل جج سے درخواست کی کہ وہ پیشہ ور ملزم نہیں وہ سی ایس پی آفیسر اور سابق ڈی پی او ہے لہٰذا اسے جیل میں بی کلاس پروٹوکول دیا جائے‘ جس پر فاضل جج نے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ مطالبہ جیل حکام سے کریں تو بہتر ہو گا۔ ادھر صدر سیالکوٹ پولیس نے اس مقدمہ میں لاپروائی برتنے والے پولیس کانسٹیبل رضوان کو گرفتار کر کے سول جج کی عدالت میں پیش کیا جس پر عدالت نے اسے چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ دریں اثناءایڈیشنل سیشن جج سیالکوٹ ظفر اقبال تارڑ نے سانحہ سیالکوٹ میں غفلت برتنے کے مقدمہ میں ملوث سب انسپکٹر گلزار خان، اسسٹنٹ سب انسپکٹر طارق ریاض اور کانسٹیبل کی عبوری ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرتے ہوئے سماعت کے لئے 3 ستمبر کی تاریخ مقرر کی۔
Post New Comment