لاہور (رپورٹنگ ٹیم) صوبائی دارالحکومت لاہور میں حضرت علیؓ کے یوم شہادت کے موقع پر مرکزی جلوس میں آدھے گھنٹے کے دوران یکے بعد دیگرے تین خودکش دھماکوں میں 35 افراد جاں بحق اور 260 کے قریب زخمی ہو گئے‘ زخمیوں میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ دھماکوں کے بعد مشتعل افراد نے پولیس افسروں و اہلکاروں کو مارا پیٹا‘ پولیس‘ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور پرائیویٹ گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کے بعد تھانہ لوئر مال کو بھی آگ لگا دی‘ تھانے کے اندر اور باہر کھڑی درجنوں موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں بھی لپیٹ میں آ گئیں۔ پولیس اہلکار بھاگ نکلے‘ پولیس بھاگ نکلے‘ پولیس نے مظاہرین کومنتشر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کی۔ صورتحال قابو میں نہ آنے پر رینجرز کو طلب کر لیا گیا۔ کالعدم لشکر جھنگوی العالمی نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ تفصیلات کے مطابق حضرت علیؓ کے یوم شہادت کے سلسلہ میں صبح 9بجے حویلی نواب شاہ سے زیارت لے کر جلوس کربلا گامے شاہ کیلئے روانہ ہوا جو حویلی مغلاں،نثار حویلی،کشمیری بازار اور ٹیکسالی سے ہوتے ہوئے شام بجے کے قریب بھاٹی چوک سے ہوتے ہوئے کربلا گامے شاہ پہنچا‘ زیارت ابھی کربلا گامے شاہ کے اندر داخل نہیں ہوئی تھی کہ افطاری کا وقت ہو گیا لہذا جلوس کے ہزاروں شرکا ءبھاٹی چوک سے لے کر گامے شاہ تک سڑک پر ہی بیٹھ کر افطاری کرنے لگے6 بجکر 51منٹ پر اردو بازار کی جانب سے ایک خود کش حملہ آور کربلا گامے شاہ کے بالکل سامنے تھانہ لوئر مال کی نکر پر پہنچا‘ عینی شاہدین کے مطابق اس حملہ آور نے پولیس بیریئر پھلانگ کر جلوس میں جانے کی کوشش کی پولیس اہلکار اسے روکنے لگے تو اس نے بیرئر کے اوپر سے جلوس میں چھلانگ لگا کر دھماکہ کر دیا جس سے وہاں درجنوں افراد زخمی ہوئے اور بھگدڑ مچ گئی‘ امدادی ٹیمیںا ور پولیس ابھی زخمیوں کی مدد کیلیے جارہی تھی کہ اسی دوران اردو بازار کی بھاٹی چوک میں کھلنے والی غزنوی سٹریٹ میں ایک اور خود کش دھماکہ ہوا جس کی زد میں آکر بچوں اور عورتوں کی زیادہ تعداد جاں بحق و زخمی ہوئی‘ امدادی ٹیمیں نعشیں اور زخمیوں کو اٹھا رہی تھیں کہ 7بجکر 12منٹ پر داتا دربار کی جانب سے 13/14سال کی عمر کا ایک خودکش حملہ آور بھاگتا ہوا بھاٹی چوک میں پہنچا اور جلوس کے شرکاءکے درمیان میں جا کر دھماکہ کر دیا۔ اےک خود کش حملہ آور کی ٹانگےں سلےم ماڈل سکول کے قرےب سے ملےں جس نے کالے رنگ کی شلوا ر پہن رکھی تھی ۔عینی شاہدین کے مطابق تےنوں خو د کش حملہ آور ماتمی لباس مےں تھے اور انہوں نے براﺅن سےنڈل پہن رکھے تھے۔ بھگدڑ سے متعدد خواتےن ، مرداور بچے زخمی ہوگئے ، پولےس نے دھماکے کے بعد سول سےکرٹرےٹ کے قرےب سے راستہ بند کردےا ، دھماکوں کے بعد اچانک سےنکڑوں مشتعل افراد تھانہ لوئر مال پہنچ گئے اور انہوں نے اندر داخل ہو کر تھانے کو نذر آتش کردےا جس سے تھانے کے اندر اور باہر کھڑی موٹر سائےکلےں اور گاڑےاں تباہ ہوگئےں ، اسکے بعد مشتعل ہجوم نے کربلا گامے شاہ کے دروازے کے باہر کھڑے پولےس ٹرک اور سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے ٹرک کو نذر آتش کردےا‘ بھاٹی چوک مےں ٹائر جلا کر پولےس کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردےا ، اسی اثناءمےں تھانہ لوئر مال کی چھت اور تھانے کے باہر کھڑے پولےس افسروں اور اہلکاروں نے مشتعل مظاہرےن پر شےلنگ کرنے کے بعد ہوائی فائرنگ کا سلسلہ شروع کردےا جو کئی تقریباً پون گھنٹہ تک جاری رہی، مظاہرےن پولےس کے خلاف مختلف چوکوں مےں ٹولےوں کی صورت مےں نعرے بازی کرتے رہے اور سکیورٹی بےرئےرز کو بھی توڑ ڈالا، بھاٹی چوک ، داتا دربار چوک ، کربلا گامے شاہ اور اس سے ملحقہ علاقے مےدان جنگ کا منظر پےش کرتے رہے، مظاہرین نے شےشے کی بوتلےں برسائےں جس سے متعدد اہلکار زخمی ہوئے درجنوں گاڑےوں ، عمارتوں ، دکانوں اور تھانے کے شےشے توڑ دےئے گئے۔ حکومت نے صورتحال کی خرابی کے پیش نظر فوراً رےنجرز کو طلب کےا جسکے بعد علاقے کو رےنجرز اور پولےس نے مل کر گھےرے مےں لے لےا تاہم مشتعل افراد اور پولیس و رینجرز کے درمیان رات گئے تک آنکھ مچولی جاری رہی۔ مشتعل ہجوم نے پولیس اور ریسکیو 1122کو امدادی کاموں سے روکا‘ فائر بریگیڈ کو آگ بجھانے سے روک دیا اور پتھراﺅ کرکے فائر انجن کو کئی بار پیچھے جانے پر مجبور کر دیا‘ مظاہرین فائرنگ بھی کرتے رہے۔ اطلاعات کے مطابق تیسرے حملہ آور کا سر بھی برآمد ہو گیا۔ ترجمان رینجر نے نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے تصدیق کی کہ رینجرز کی 2کمپنیاں فوراً علاقے میں طلب کرلی گئی ہیں اور رینجرز نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ مشتعل افراد مسلسل پنجاب حکومت اور پولیس کیخلاف نعرے بازی کرتے رہے ان کا مﺅقف تھا کہ پنجاب حکومت کی نااہلی کے باعث یہ سانحہ ہوا ہے لہٰذا صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ اور آئی جی پنجاب کو فارغ کیا جائے۔ پولیس کے مطابق جلوس کی حفاظت کیلئے پولیس کے 25 سو سے زائد اہلکاروں کو تعینات کیا گیا اور سکیورٹی کے سخت انتظامات تھے ہر طرف چیک پوسٹیں‘ واک تھرو گیٹس اور ڈیٹکٹرز نصب کئے گئے تھے اس کے باوجود دہشت گرد مذموم منصوبے میں کامیاب رہے۔ صدر آصف زرداری نے کراچی میں حضرت علیؓ کے یوم شہادت پر ہونے والی فائرنگ اور لاہور کے جلوس میں دھماکوں پر افسوس کا اظہار کیا‘ صدر نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی کہ ملک میں عام کی جان و مالی کے تحفظ کیلئے مضبوط سکیورٹی پلان بنایا جائے اور ان واقعات میں ملوث عناصر کو گرفتار کیا جائے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بم دھماکوں کی شدید مذمت کی اور کہا ہے کہ انہوں نے متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان واقعات کی تحقیقات کرنے اور لوگوں کی سکیورٹی کیلئے چوکس رہنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے لاہور میں دہشت گردی کے واقعہ میں جاں بحق ہونے والوں کے ورثاءکے لئے پانچ لاکھ روپے فی کس اور زخمیوں کے لئے 75ہزار روپے فی کس دینے کا اعلان کیا ہے۔
Post New Comment