ویلیو ایڈڈ ٹیکس بل سینٹ میں آتے ہی اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی‘ رضا ربانی کا واک آﺅٹ

ـ 2 مارچ ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (لیڈی رپورٹر+ مانیٹرنگ ڈیسک) سینٹ میں وفاقی ویلیو ایڈڈ ٹیکس بل2010ءپیش کر دیا گیا ہے جبکہ سینٹ کا اجلاس غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا گیا ہے اور سینٹ میں بل کو تاخیر سے پیش کرنے پر ارکان سینٹ نے شدید احتجاج کیا اور بل واپس لینے کا مطالبہ کیا اور سینیٹر رضا ربانی نے احتجاجاً واک آﺅٹ کیا۔ وزیر مملکت برائے خزانہ حنا ربانی کھر نے وفاقی ویلیو ایڈڈ ٹیکس 2010ءکا بل پیش کیا‘ آئین کے مطابق ایوان بالا کا سات دنوں میں اپنی سفارشات قومی اسمبلی کو بھجوانا لازم ہے۔ اس موقع پر سینیٹر میاں رضا ربانی، سینیٹر صفدر عباسی، سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ آئین کے مطابق سات دنوں میں سفارشات نہ دیں تو ایوان بالا ویلیو ایڈڈ ٹےکس کے بارے میں سفارشات سے محروم رہ جائے گا جبکہ سینٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہو رہا ہے حکومت تاخیر سے یہ بل ایوان بالا میں لے کر آئی ‘ ڈپٹی چیئرمین جان محمد جمالی نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بل کو آئندہ اجلاس میں پیش ہو نا ہو گا۔ سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ بیورو کریسی کا سینٹ کے ساتھ رویہ درست نہیں‘ ایوان بالا کی توہین کی جا رہی ہے جب بل قومی اسمبلی میں متعارف کرایا گیا تھا بغیر تاخیر کے یہ بل سینٹ کو کیوں نہیں بھجوایا گیا‘ ویلیو ایڈڈ ٹیکس وسیع ٹیکسوں کا بل ہے سینٹ کی رائے اس میں شامل ہو نا ضروری ہے اہم قانون سازی ہے وزیر مملکت خزانہ اپنی تحریک سے دستبردار ہو جائیں۔ انہوں نے کہا سینٹ کو تاخیر سے بل بھجوانے کی تحقیقات کی جائیں۔ قائد ایوان نیئر حسین بخاری نے تجویز دی کہ بل کو قائمہ کمیٹی خزانہ کے سپرد کر دیا جائے‘ ڈپٹی چیئرمین جان محمد جمالی نے ویلیو ایڈڈ ٹیکس 2010ءکو قائمہ کمیٹی خزانہ کے سپرد کر دیا‘ رضا ربانی نے کہا کہ اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی نہ کیا جائے تاکہ کمیٹی کی سفارشات ایوان میں آ سکیں۔ سینیٹر صفدر عباسی نے بھی ان کے موقف کی حمایت کی۔ ڈپٹی چیئرمین جان محمد جمالی نے کہا کہ قومی اسمبلی نے 24 فروری کو یہ بل سینٹ کو بھجوایا تھا۔ ایوان کے ایجنڈے پر تاخیر سے آیا‘ بل کی مےعاد 3 مارچ تک ہے۔حکومتی اپوزیشن ارکان کے تحفظات پر بل کو قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو ارسال کر دیا گیا۔ رضا ربانی نے کا کہ یہ حکومت کی نااہلی ہے کہ بل آخری روز پیش کیا جا رہا ہے۔ قائد ایوان نیئر بخاری نے کہا بل کے 7روز آئندہ اجلاس شروع ہونے پر شمار ہونگے۔ ڈپٹی چیئرمین سینٹ جان جمالی نے رولنگ دیتے ہوئے کہاکہ بل آخری روز کیوں پیش کیا گیا۔ قائد ایوان اس کی تحقیقات کرائیں۔ بل پیش کرتے ہوئے حنا ربانی کھر نے مطالبہ کیا کہ ویلیوایڈڈ ٹیکس بل کی تجاویز 7روز میں قومی اسمبلی میں بھجوائی جائیں۔ قبل ازیں مسلم لیگ ق کے سینیٹر وسیم سجاد نے صدر زرداری کے پروٹوکول کے دوران رکشے میں بچے کی ولادت پر سینٹ میں تحریک التواءجمع کرا دی۔ وسیم سجاد نے کہاکہ وی وی آئی پی موومنٹ کے دوران اموات ہو جاتی ہیں‘ حکومت ایسے اقدامات اٹھائے کہ عوام کو کم سے کم مشکلات پیش آئیں۔ وقائع نگار کے مطابق قائد ایوان سید نیئر حسین بخاری نے کہا ہے کہ ہم سیاسی شخصیات کی نقل و حرکت کے باعث تمام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایوان بالا کی جانب سے صدر اور وزیراعظم پاکستان کو اس حوالے سے متبادل ذرائع استعمال کرنے بارے آگاہ کروں گا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions