سوات‘ شمالی وزیرستان : جھڑپوں میں کمانڈر مولوی عالم سمیت 6 شدت پسند2 اہلکار جاں بحق ۔۔۔ اورکزئی ایجنسی : فورسز کا آپریشن ‘ 2 سکھ بازیاب

ـ 2 مارچ ، 2010
  • Adjust Font Size

سوات (ریڈیو نیوز+ ایجنسیاں) سوات کی تحصیل بحرین کے علاقے مدین میں دو اہم کمانڈروں مولوی عالم بنوڑی اور مولانا شمس الحق سمیت پانچ شدت پسند جاں بحق ہوگئے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق گذشتہ صبح 4 بجکر 20 منٹ پر سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں تمام مطلوب پانچ شدت پسند مارے گئے۔ شدت پسندوں کے قبضے سے اسلحہ‘ جہادی لٹریچر اور سی ڈیز بھی برآمد کی گئیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں کمانڈر محمد عالم بنوڑی اور مولانا شمس الحق کے ساتھی محمد مسافر‘ شیر زمان اور عبد اللہ بھی شامل ہیں۔ محمد عالم بنوڑی انتہائی اہم شدت پسند کمانڈر بتائے جاتے تھے۔ حکومت نے ان کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر کی گئی۔ محمد عالم بنوڑی کا ضلع شانگلہ کے علاقے لیلونئی سے تعلق تھا اور وہ طالبان تحریک میں 2007ءمیں شامل ہوئے وہ طالبان تحریک میں شامل ہونے سے پہلے تحصیل خوازہ خیلہ کے پرائمری سکول میں پڑھاتے تھے۔ گذشتہ سال مارچ میں جب شدت پسندوں نے ضلع بونیر کا رخ کیا تو محمد عالم بنوڑی کو ضلع بونیر کا کمانڈر مقرر کیا گیا تھا جبکہ دوسری جانب مولانا شمس الحق کا تعلق سوات کی تحصیل مٹہ کے علاقے سخرہ سے تھا۔ محمد عالم کوشدت پسندوں کے غیر قانونی ایف ایم ریڈیو پر شعلہ بیان تقاریر کے ذریعے رائے عامہ کو متاثر کرنے میں بھی ماہر سمجھا جاتا تھا اور انہیں ملا ریڈیو کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وہ مولانا فضل اللہ کے نائب اور انکے اور شاہ دوراں کے بعد سوات میں سب سے اہم کمانڈر سمجھے جاتے تھے۔ مولانا شمس الحق عرف گڈ مُلا بھی سوات طالبان کے آپریشنل کمانڈر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ علاوہ ازیں سکیورٹی فورسز نے خیبر ایجنسی کی تحصیل وادی تیراہ سے اغوا کئے گئے دو سکھ بازیاب کرا لئے۔ تین سکھوں کو تین کروڑ روپے تاوان کیلئے اغوا کیا گیا تھا اور اغوا کاروں نے تاوان کی عدم ادائیگی پر تین میں سے ایک سکھ کو قتل کردیا تھا۔ فورسز کے آپریشن کے دوران بازیاب ہونے والے سکھ گوروندر سنگھ کو گھر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ اسکا ساتھی سرجیت سنگھ سی ایم ایچ پشاور میں زیرعلاج ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق سرجیت سنگھ کو پیٹھ پر زخم آئے ہیں تاہم اسکی حالت خطرے سے باہر ہے۔ سرجیت سنگھ کے بھائی اور گوروندر سنگھ کے چچا پرتاب سنگھ نے کہا کہ وہ دونوں سکھوں کی بحفاظت بازیابی پر حکومت کے شکر گزار ہیں۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ مغوی سکھوں کو اورکزئی ایجنسی کے علاقے فیروز خیل میں سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی کے بعد بازیاب کیا۔ انہوں نے کہاکہ کارروائی میں متعدد شدت پسند مارے گئے ہیں تاہم انہوں نے ان کی تعداد نہیں بتائی۔ شمالی وزیرستان میں نامعلوم شدت پسندوں کی فائرنگ سے دو سکیورٹی اہلکار جاں بحق جبکہ جوابی کارروائی میں ایک شدت پسند مارا گیا اور دو زخمی ہو گئے۔ واقعہ کے بعد میرانشاہ اور دیگر ملحقہ علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا جس کی وجہ سے تین سکولوں کے 1500کے قریب بچے سکول کی عمارتوں میں پھنس گئے جن کو بعد میں بحفاظت نکال لیا گیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق نامعلوم شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا‘ اندھادھند فائرنگ سے دو سکیورٹی اہلکار جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوا جبکہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں ایک شدت پسند جاں بحق دو زخمی ہو گئے۔ واقعہ کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ مہمند ایجنسی میں ایک سرکاری اہلکار کے مطابق رات تحصیل صافی کے علاقے لکڑو میں نامعلوم شدت پسندوں نے بنیادی صحت کے ایک مرکز میں بارودی مواد نصب کرکے دو دھماکے کئے جس کے نتیجے میں مرکزی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ انہوں نے کہاکہ مرکز میں موجود فرنیچر اور دوسرا سامان بھی ضائع ہوا ہے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ گذشتہ صبح لکڑو ہی کے علاقے میں درجنوں مسلح شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر راکٹوں اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا اور سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی میں بھاری اسلحے کا استعمال کیا لیکن دونوں طرف سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ البتہ فائرنگ کے دوران حسن خیل کے علاقے میں اجمل خان کے گھر پر ایک گولہ گرا ہے جس کے نتیجے میں ایک سالہ بچی جاں بحق ہو گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے لکڑو کے مختلف علاقوں غازی آباد اور حسن خیل میں گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی ہے لیکن کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لکڑو کے علاقے شواہ فرش میں گشت کے دوران سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں ایف سی کا ایک اہلکار زخمی ہو گیا اور گاڑی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اورکزئی ایجنسی میں طالبان نے اپنے ہی ساتھی جنگجوﺅں کو مورچہ چھوڑنے پر گولیاں مارکر زخمی کر دیا۔ محسود قبائل کے عمائدین اور علماءکا جرگہ ٹانک میں ہوا۔ پولیٹیکل ایجنٹ سید شہاب علی شاہ نے بتایا کہ جرگہ 10 مارچ کو طلب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محسود قبائل طالبان کو پناہ نہ دیں۔ حکومت محسود قبائل کو مکمل سکیورٹی فراہم کریگی اور نقصانات کا ازالہ کیا جائیگا۔ ادھر مینگورہ پولیس نے 40افغان مہاجرین اور 30مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions