اسلام آباد (وقائع نگار / لیڈی رپورٹر / آئی این پی) سینٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان نے بھارت کے ساتھ پانی کے موجودہ مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی آبی جارحیت پر حکومت واٹر کمشنرز پر انحصار کرنے کے بجائے اعلیٰ سطح پر اس گھمبیر قومی مسئلے کو اٹھائے۔ بھارت نے آبی دہشت گردی فوری طورپر ختم نہ کی تو وہ یہ جان لے کہ پاکستان نے ایٹم بم ”پوجا“ کرنے کیلئے نہیں بنایا اور کروڑوں پاکستانیوں کو پانی کی قلت سے مارنے کی سازش جاری رکھی گئی تو اس کے خوفناک نتائج سے بھارت بھی نہیں بچ سکے گا۔ بھارت کو مسئلہ کشمیر اور پانی کے مسئلے پر پاکستان کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرنا ہونگے جبکہ حکومت اس سلسلے میں سفارتی کوششیں تیز کرے۔ ایوان بالا میں پانی کے مسئلے پر ہونے والی بحث کے دوران پیپلزپارٹی کے میاں رضا ربانی نے کہا کہ ملکی تاریخ میں تاحال کوئی واٹر پالیسی نہیں بنائی گئی جو پانی کی تقسیم کے موجودہ نظام میں پائی جانے والی خامیوں کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے موجودہ نظام میں پائے جانے والے مسائل کا حل ارسا کے بس کی بات نہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ پاکستان پانی سمیت اپنے دیگر وسائل کی حفاظت نہیں کر سکتا تو یہ حکومت کی مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے موجودہ تنازعے کی بڑی وجہ حکومت کی عدم دلچسپی ہے۔ مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر طلحہ محمود نے کہا پاکستان اور بھارت کو پانی کے مسئلہ پر دوطرفہ مذاکرات کرنا ہونگے، انہوں نے کہا بھارت آبی دہشت گردی سے سینکڑوں نہیںبلکہ کروڑوں پاکستانیوں کے قتل کی سازش کر رہا ہے اور اس پر ہمیں فوری توجہ دینا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایٹم بم پوجا کرنے کیلئے نہیں بنایا، بھارت نے اپنی آبی دہشت گردی بند نہ کی تو ہم اکیلے نہیں مریں گے اور بھارت کو پانی کے مسئلے پر ہونے والی ممکنہ جنگ روکنے کیلئے سنجیدہ مذاکرات کرنا ہونگے۔ طلحہ محمود نے کہا اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان دو بڑے مسئلے پانی اور کشمیر ہیں جس پر بھارت بات چیت کرنے کے لئے تیار نہیں ہو رہا جبکہ پاکستان حکومت کو بین الاقوامی سطح پر یہ مسئلہ اٹھانے کیلئے سفارتی کوششیں تیز کرنا ہونگی۔ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنا حق لینے کے لئے حکومت بین الاقوامی رائے عامہ کو ہموار کرے اور عالمی اداروں سے رجوع کیا جائے، سندھ طاس معاہدے میں بہت سی خامیاں تھیں، ایک آمر کے دور میں یہ معاہدہ کیا گیا، مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر محمد علی درانی کی تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر خورشیداحمد نے کہا بہاولپور کا علاقہ محروم بھی ہے اور مظلوم بھی، سینٹ کی کمیٹی اس معاملے کا جائزہ لے۔ وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزیوں کے حوالے سے پاکستانی ماہرین عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ وقت سے پہلے نیلم جہلم ڈیم کی ٹنل کو مکمل کر لیا جائے گا۔ پانی کے تنازعے کے حوالے سے صوبے مشترکہ مفادات کونسل میں جا سکتے ہیں پانی کی قلت کے حوالے سے مسلم لیگ ق کے ارکان پارلیمنٹ کے منہ پرویز مشرف کے دور میں کیوں بند تھے بگلیہار ڈیم کے حوالے سے بھارت کو دو لاکھ ایکڑ فٹ پانی واپس کر نے کا مطالبہ کیا ہے۔
Post New Comment