لاہور (ریڈیو مانیٹرنگ) نوائے وقت گروپ کے ایڈیٹر انچیف مجید نظامی نے کہا ہے کہ فوج پاکستان کو محفوظ رکھنے کے لئے پوری کوشش اور اپنا حق ادا کر رہی ہے۔ نجی ٹی وی سے انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ امریکہ اور اہل مغرب ہماری ایٹمی صلاحیت ختم کر دینا چاہتے ہیں لیکن وہ ایسا کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ امریکہ اور اسرائیل کی بھی یہی خواہش ہے کیونکہ اسرائیل سمجھتا ہے کہ جب تک پاکستان کے پاس ایٹمی صلاحیت موجود ہے وہ ایک میزائل جو تین میل کا فاصلہ طے کر سکتا ہے اسکی صلاحیت بڑھاکر اُسے چھ ہزار میل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ امریکہ کو بھی یہی ڈر ہے کہ ایک زمانہ ایسا آ سکتا ہے کہ پاکستان کا ایٹمی ہتھیار بردار میزائل کہیں امریکہ نہ پہنچ جائے۔ بھارت ہماری زد میں ہے‘ بالکل اسی طرح جس طرح ہم اس کی زد میں ہیں‘ چونکہ ہم بھی بھارت کی زد میں ہیں اسی لئے ہمیں بھارت سے زیادہ اور بہتر ہتھیار رکھنے ہوں گے۔ جہاں تک ایٹمی صلاحیت کا تعلق ہے یہ صرف ایٹمی ہتھیار بنانے تک ہی محدود نہیں ہے یہ ہماری اپنی معاشی ترقی ہے۔ انڈسٹری کے لئے بھی اس قوت کو استعمال کر سکتے ہیں تاہم میں نہیں سمجھتا کہ ایٹمی قوت اس طرح استعمال ہو رہی ہے جس طرح استعمال ہونا چاہئے‘ کیونکہ ہمارے ہاں 62سال میں سے تقریباً 35برس جرنیلوں کی حکومت رہی ہے‘ فوجی حکومت کی بجائے میں جرنیلوں کا نام لیتا ہوں فوجی تو عام آدمی ہیں خودساختہ فیلڈ مارشل ان جرنیلوں میں شامل تھے اس کے بعد یحییٰ خان آئے‘ جنرل ضیاء الحق آئے‘ جنرل پرویز مشرف آئے‘ میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس لئے بھی ترقی نہیں کی کیونکہ آپ دونوں کام نہیں کر سکتے کہ آپ فوج بھی چلائیں اور ملک بھی۔ انہوں نے کہاکہ ایٹمی صلاحیت کا مسئلہ کشمیر سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ ہم نے ایٹمی میدان میں جو کچھ کرنا تھا کر لیا۔ ایٹمی کمشن ڈاکٹر قدیر کے آنے سے پہلے بھی موجود تھا اور اس کے چیئرمین منیر احمد خان تھے اس سے پہلے بھی لوگ آتے رہے ۔ ڈاکٹر اشفاق تھے‘ کئی دوسرے بھی تھے‘ ایٹمی صلاحیت اور قوت کو ابھی تک ہم نے ہتھیار کے حوالے سے استعمال کیا ہے ہم نے ابھی اس طاقت کو معاشی طور پر یا صنعتی ترقی کے لئے استعمال نہیں کیا جو کرنا چاہئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں سول حکومتیں کم آئی ہیں اگر آئی بھی ہیں تو وہ ان کے زیر سایہ آئی ہیں جو پہلے ڈکٹیٹر تھے۔ انہوں نے کہاکہ جو یہ کہتے ہیں کہ اگر پاکستان اس وقت ایٹمی دھماکے نہ کرتا تو دنیا بھر سے پاکستان کو امداد ملتی اور ملک ترقی کرتا بالکل غلط ہے اگر ہمارے پاس ایٹمی قوت اور صلاحیت نہ ہوتی۔ بھٹو نے ڈاکٹر قدیر کو نہ بلوایا ہوتا‘ نوازشریف نے دھماکے نہ کئے ہوتے تو ہم خدانخواستہ آج بھارت کے غلام ہوتے۔ ایٹمی قوت آج ہماری آزادی کی علامت اور ضمانت ہے یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے‘ ہم پر خاص کرم ہے۔ عراق پر امریکہ نے الزام لگایا تھا کہ اس کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں جو ان کے پاس نہیں نکلے جہاں تک بھارت کا تعلق ہے ہمارا اور بھارت کا معاملہ بالکل مختلف ہے یہ غالباً دنیا کی واحد مثال ہے کہ ایک ملک تقسیم ہوا جس پر ہم نے ایک ہزار سال حکومت کی تھی۔ اس ملک کی اکثریت کو یہ قبول نہیں وہاں ہم اپنا نظام خود بنائیں اور ملک کو خود چلائیں وہ اسے دوبارہ اکھنڈ بھارت بنانا چاہتے ہیں یہی بھارت کا نصب العین ہے۔ خواہ نہرو ہو، پٹیل یا شاستری ہو انکا نصب العین صرف اور صرف پاکستان کو ختم کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم آج ایٹمی قوت ہیں‘ ہمارے پاس ایک ایسا گھوڑا ہے جو انہیں جواب دے سکتا ہے۔ اس سوال پر کہ ہمارے لیڈر کہہ رہے ہیں کہ ہمیں مشرقی سرحدوں پر اب کوئی خطرہ نہیں ہے۔ مجید نظامی نے کہاکہ وہ تو چاہتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے جب تک کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں ہوتا بھارت اس مسئلے کا اصل فریق ہے وہ خود اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے کر گیا تھا‘ معاہدہ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں استصواب رائے ہو گی‘ کشمیریوں سے پوچھا جائے گا کہ آپ نے پاکستان کے ساتھ رہنا ہے یا بھارت کے ساتھ‘ کشمیر پر بھارت نے زبردستی قبضہ کیا اور بزور بازو ابھی تک وہاں بیٹھا ہے روزانہ دو سو کشمیریوں کا ناشتہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات سے کونسی بہتری آ سکتی ہے کہتے ہیں کہ تجارت ہو سکتی ہے حالانکہ ہمارا کپڑابھی ان سے بہتر ہے‘ گندم ہم ان سے زیادہ پیدا کر رہے ہیں اب ہم برآمد کرنے والے ہیں لیکن اگر یہ پانی ختم ہو گیا جو بھارت ختم کرنے پر تلا بیٹھا ہے تو پھر ہم گندم پیدا نہیں کر سکتے اسی لئے میں کہتا ہوں کہ ہم بھارت کے ساتھ اس بات کا فیصلہ کریں کہ وہ انسان کا بچہ بنے۔ بھارت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے انہیں کہنا چاہئے کہ تم جو ڈیم بنا رہے ہو انہیں بند کرو تم ہمیں ریگستان بنانا چاہتے ہو‘ یہ ہمیں ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایران کے ساتھ امریکہ کے تعلقات شاہ ایران کے زمانے میں بہت اچھے تھے لیکن آج بہت مختلف ہو چکے ہیں‘ انقلاب خمینی کے بعد وہ بہت مختلف ہو چکا ہے وہ شیعہ ایران ہے اور میں معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ ہم سنی پاکستان ہیں۔ ہم اس طرح سے مضبوط لوگ نہیں جس طرح سے شیعہ ہیں وہ زیادہ ہمت رکھتے ہیں وہ زیادہ رسک لینے کیلئے تیار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنا پورا وقت خود کو مستحکم کرنے میں لگایا ہے اس لئے ایران کا وہ کچھ نہیں بگاڑ سکے۔ حالانکہ امام خمینی کا انقلاب صرف شاہ کے خلاف ہی نہیں بلکہ ایران کے خلاف بھی تھا۔ آج امریکہ بھارت اور اسرائیل کے ساتھ مل کر یہ سب کچھ کر رہا ہے کہ ہم ایٹمی قوت نہ رہیں۔ اس لئے وہ بار بار یہ کہتا ہے کہ ہمارے ایٹمی اثاثے محفوظ نہیں۔ گذشتہ روز نوازشریف نے کہا تھا، ہمارے کمانڈر انچیف بھی کہتے ہیں کہ جو ہتھیار بناتے ہیں وہ اسکی حفاظت کرنا بھی جانتے ہیں۔ ملک کے بعض علاقوں میں جاری آپریشن کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میں سمجھتا ہوں کہ آپریشن کے علاوہ بھی چارہ تھا ہم نے آج بھی اخبار میں لکھا ہے کہ یہ جو مولانا حضرات کانفرنس میں جمع ہوئے ہیں انہیں آپ صوفی محمد کے پاس بھیجئے جو معاہدہ پہلے ہو چکا ہے اسے دوبارہ زندہ کیجئے اور انہیں کہئے کہ آپ بھی پاکستانی ہیں‘ ہم بھی پاکستانی ہمیں مل جل کر ایک جرگہ کے ذریعے فیصلہ کرنا چاہئے نہ کہ آپ بندوق کے ذریعے فیصلہ کریں یا ہم بندوق کے ذریعے فیصلہ کریں‘ آپ ہمارے بھائی ہیں ہم آپ کے بھائی ہیں سوات بڑا پُرامن علاقہ تھا۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں دوسرا راستہ استعمال کرنا چاہئے تھا اور اب بھی ایسا کیا جا سکتا ہے۔ ہم اس وقت لاہور میں بیٹھے ہیں اور صوفی محمد کسی پہاڑ پر یا کسی غار میں بیٹھے ہیں جیسے اکبر بگٹی بیٹھے تھے جو لوگ اسلام آباد کے ایوان صدر یا ایوان وزیراعظم میں بیٹھے ہوئے ہیں ان سے وہ لوگ بالکل مختلف ہیں فاٹا کے لوگ بالکل مختلف ہیں انکا کلچر مختلف ہے ان کے ساتھ ان کے کلچر کے مطابق بات کی جائے تب ہی ہم کامیاب ہوں گے۔ یہ ضروری نہیں کہ جو لوگ دھماکے کر رہے ہیں یا خودکش دھماکے کر رہے ہیں وہ صوفی محمد کے آدمی ہی ہوں یا طالبان ہوں یہ ہو سکتا ہے کہ وہ افغانی بھی نہ ہوں ہو سکتا ہے کہ یہ سواتی بھی نہ ہوں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ بھارتی ہوں۔ بھارتیوں کے لئے داڑھی بڑھانا ‘ تربیت حاصل کرنا اور پھر پاکستانی علاقے میں داخل ہونا کوئی مشکل نہیں۔ گذشتہ دنوں ہمارے دفتر کے سامنے جو کچھ ہوا اس میں کچھ لوگ اپنا کام کرکے اطمینان کے ساتھ موٹر سائیکلوں پر چلے گئے اور کچھ گاڑی میں بیٹھ کر بھاگ گئے۔ اسی طرح لبرٹی چوک میں سری لنکا ٹیم پر حملے کے وقت ہوا سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب ایک کیمرہ ان لوگوں کی تصویریں لے سکتا ہے انہیں اِدھر اُدھر جاتا دکھا سکتا ہے تو ایک پولیس والے یا فوجی کی گولی ان تک کیوں نہیں پہنچ سکتی‘ حکومت کہہ رہی ہے کہ آخری دہشت گرد تک آپریشن جاری رہے گا جبکہ وہ کہہ رہے ہیں کہ آپ لاہور‘ ملتان اور اسلام آباد خالی کر دیں ہم نے یہاں دھماکے کرنے ہیں۔ اس سوال پر کہ کیا آپریشن کے بعد کے حالات کو حل کرنے کے لئے حکومت کے پاس کوئی ایجنڈا ہے تو مجید نظامی نے کہا کہ اس وقت پیپلزپارٹی کی حکومت ہے کچھ دیگر پارٹیاں بھی حکومت کے ساتھ ہیں‘ مسلم لیگ (ن) کہتی ہے کہ ہم حکومت میں تو شامل نہیں ہوں گے لیکن حکومت کو غیرمستحکم نہیں کریں گے ہم حکومت کے ساتھ چلیں گے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت ہونے کے باوجود ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ حکومت اے ٹیم کے پاس ہے‘ بی ٹیم کے پاس یا سی ٹیم کے پاس‘ بحیثیت قوم یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمیں معلوم نہیں کہ آئندہ کیا فیصلے ہونے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ان کے خیال میں آپریشن والی پالیسی ٹھیک نہیں۔ صوفی محمد کو بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ اس سوال پر کہ اگر اس وقت میاں نوازشریف کی حکومت ہو تو کیا پالیسیاں مختلف ہوں گی۔ مجید نظامی نے کہاکہ میاں نوازشریف یقیناً آصف زرداری سے مختلف ہیں۔ انکا خاندان اسلامی روایات پر عمل کرنے کا عادی ہے ان کے گھر نماز‘ روزہ ہے وہ مسجد میں جاتے ہیں‘ مسجدیں بناتے ہیں دونوں کا کلچر مختلف ہے ظاہر ہے جب کلچر مختلف ہو تو اپروچ بھی مختلف ہوتی ہے نوازشریف اگر وزیراعظم ہوتے تو ان کی اپروچ یقیناً مختلف ہوتی۔ یہ نہ ہوتی جو اس وقت ہے حالانکہ گیلانی صاحب بھی پیر اور ملتان کے گدی نشین ہیں لیکن اصل قوت زرداری کے ہاتھ میں ہے۔ اس سوال پر کہ کیا دہشت گردوں اور شدت پسندوں سے بالاخر مذاکرات میں مسئلے کا حل ہے تو مجید نظامی نے کہاکہ یقیناً مذاکرات ہی حل ہو سکتے ہیں اور ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہاکہ ملی ٹینٹ کو ہم نے گالی بناکر نام دے دیا ہے ہم سب ملی ٹینٹ ہیں آپ بھی ملی ٹینٹ ہیں میں بھی ملی ٹینٹ ہوں۔
Post New Comment