افغان کہساروں میں فیصلہ ہو چکا‘ امریکہ روس کی طرح افغانستان اور خطے سے بھاگے گا : حافظ سعید

ـ 2 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (رپورٹ: خواجہ فرخ سعید+ عدنان فاروق) امیر جماعتہ الدعوة پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ کشمیریوں نے ایک لاکھ شہادتوں کا نذرانہ پیش کرکے تحریک آزادی کشمیر کو زندہ رکھا ہے، کشمیری مایوس ہیں نہ ہی ان کے جذبے ماند پڑے ہیں آزادی ان کی منزل ہے، جہاد کشمیر جاری ہے اور کامیابی سے ہمکنار ہو گا، بھارت نے پاکستان کو بنجر کرنے کے لیے ہمارے پانیوں پر باسٹھ ڈیم بنائے انشاءاللہ کشمیر ان ڈیموں سمیت پاکستان کا حصہ بنے گا۔ پانچ فروری کو قوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کر کے یقین دلا دے گی کہ وہ تحریک آزدی کشمیر پر ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹی۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن جنرل پرویز مشرف کو برا کہتی ہیں مگر دونوں جماعتیں اسی پالیسی کو اپنائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کشمیر سمیت تمام داخلی اور خارجی پالسیوں کا ازسر نو جائزہ لیکر انہیں عوامی امنگوں کے مطابق بنائے‘ امریکہ پر واضح کیا جائے کہ اب پاکستان ملکی مفاد کے خلاف کوئی کام نہیں کرے گا، امریکہ روس کی طرح افغانستان اور اس خطے سے بھاگے گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز حمید نظامی ہال میں روزنامہ نوائے وقت، دی نیشن اور وقت نیوز کے زیر اہتمام پروگرام ایشو آف دی ڈے میں ”پاکستان کی داخلہ اور خارجہ پالیسی اور بیرونی مداخلت“ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایڈیٹر ان چیف نوائے وقت گروپ مجید نظامی بھی موجود تھے۔ تلاوت کلام پاک حافظ خالد ولید نے کی نظامت کے فرائض انچارج ایوان وقت/ حمید نظامی ہال خواجہ فرخ سعید نے ادا کیے، پروفیسر حافظ سعید نے مزید کہا کہ پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر وجود میں آیا اور لیکن ہم اپنے معاشی، انتظامی ڈھانچے کو اسلام کے سانچے میں ڈھال ہی نہیں سکے، اس نعرے سے دوری پر کشمیر کو اتنا ہی نقصان پہنچا جتنا پاکستان کو، اسلام سے دوری کی وجہ سے علاقائی اور لسانی عصبیتوں نے فروغ پایا اور بھارت نے ان سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے بھیانک کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی موت سے فائدہ اٹھا کر جو لوگ آئے اب ان سے کام لیا جا رہا ہے ان کی گھوڑوں کی لگامیں باہر ہیں، ہمیں ایسے لوگ چاہئیں جو پاکستان کی آزادی کی حفاظت کریں اور کشمیر کی آزادی کی بنیاد بنیں۔ انہوں نے کہا مایوسیوں اور آزمائشوں کا دور گذر چکا روشن مستقبل دیکھ رہا ہوں امریکہ اور اس کی اتحادی فوجیں خطے سے بدترین شکست کھا کر اس خطے سے لوٹ کر رہیں گی امریکہ نہ خلیج میں رک سکے گا اور نہ کہیں اوراس کو ٹھکانہ ملے گا، روس جب افغانستان سے نکلا تھا تو اسے اور بھی بہت سے خطوں سے نکلنا پڑا تھا اور پھر کمیونزم ختم ہو گیا آج سرخ سویرا کا نام لینے والا کوئی نظر نہیں آتا، انہوں نے کہا کہ افغانستان کے کہساروں میں فیصلہ ہو چکا ہے امریکہ سپر پاور کی حیثیت اب باقی نہیں رہ سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بڑی قوت بن کر ابھر رہا ہے اور ایٹمی پاکستان دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوںمیں قائدانہ کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ بھارت جب دیکھتا ہے کہ امریکہ جارہا ہے تو اس کا خوف سے پتہ پانی ہو رہا ہے کہ اس کا کیا بنے گا، بھارت جان لے اس نے جو کیا اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا، مشرقی پاکستان کا حساب دینا پڑے، کشمیر میں جتنا خون بہایا ایک ایک جان کا حساب دینا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے ایجنٹ جانے والے ہیں ان کے نظام ختم ہونے والے ہیںمتبادل قیادت اسلام سے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ 2010ءکا آخر نہیں بلکہ وسط میں ہی دنیا کو سورج طلوع ہوتا نظر آ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی تھنک ٹینکس اور میڈیا 2020 پاکستان کے ٹوٹنے کی باتیں اور نقشے شائع کرتے ہیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماﺅں کو ان سے کیوں تکلیف نہیں پہنچتی۔ انہوں نے کہا کہ جس جس نے بھی پاکستان توڑنے کی بات کی اللہ رب العزت ان سب کو چن چن کر توڑے گا، انہوں نے کہا کہ دنیا سوچ سکتی تھی کہ ایک سو پانچ امریکی بنک دیوالیہ ہوں گے، امریکہ کو ان کی معیشت نے باندھ رکھا ہے اور جوں جوں معشیت کمزور ہو گی ان کی ریاستیں ٹوٹتی جائیں گی، مگر مسلمانوں کو ان کے نظریہ لا الہ الا اللہ نے باندھ رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جو ہوا کشمیر میں جو ہو رہا ہے فلسطین میں جو قوت اٹھ رہی ہے عالم اسلام کا جو نظریہ بن رہا ہے یہ بہت بڑی تبدیلی ہے دنیا کا مستقبل اسلام ہی سے وابستہ ہے۔ عالم اسلام کی اپنی منڈیاں ہونگی، اپنی فوج ہو گی، اقوام متحدہ ہو گی، اپنا سکہ رائج کر کے ڈالر اور پاﺅنڈ شکست دینی ہے، ہم نے نہ صرف اپنی آزادی کی حفاظت کرنی ہے بلکہ کشمیر اور فلسطین کو بھی آزاد کرانا ہے۔ حافظ سعید نے کہا کہ ڈرون حملے مشرف پالیسی کا ہی نتیجہ صدر اور وزیراعظم ڈرون حملوں کوغلط قرار دیتے ہیں مگر حملے پھر بھی جاری ہیں۔ انہوں نے اس پر افسوس کیا کہ وزیر دفاع کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ڈرون گرانے کی اہلیت نہیں مگر ڈرون طیارے گرائے بھی تو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں امریکہ سے ڈرنا چھوڑ اور اپنے حوصلے بلند کریں کیونکہ امریکہ ڈر رہا ہے اور اپنے حوصلے ہار چکا ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions