بھاری نقصان کے باوجود عزم متاثر نہیں ہوا‘ دہشت گردی ختم کرکے رہیں گے‘ عالمی برادری اعتماد کرے : آرمی چیف

ـ 2 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size
بھاری نقصان کے باوجود عزم متاثر نہیں ہوا‘ دہشت گردی ختم کرکے رہیں گے‘ عالمی برادری اعتماد کرے : آرمی چیف

راولپنڈی (سٹاف رپورٹر + وقت نیوز + ریڈیو مانیٹرنگ + نیٹ نیوز) چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی برادری کو پاکستان پر اعتماد کرنا چاہئے‘ پاکستان نے اپنے قومی مفاد میں دہشت گردی کے خلاف لڑنے اور اسے ختم کرنے کا عزم کر رکھا ہے‘ برسلز سے واپسی پر راولپنڈی میں غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف نے بتایا کہ دورے کے دوران انہوں نے نیٹو کمانڈرز کو بتایا ہے کہ انہیں پاکستان کی سٹرٹیجک صورتحال کا مکمل طور پر ادراک اور احساس کرنا ہو گا۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان مفادات کے ٹکرا¶‘ تہذیبوں کے سنگم اور تنازعات کی طویل تاریخ کے حامل سٹرٹیجک علاقے میں واقعہ ہے‘ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے لئے کسی ایسی بات کی خواہش نہیں کر سکتے جو وہ پاکستان کے لئے نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان پر کنٹرول حاصل نہیں کرنا چاہتا بلکہ دوستانہ تعلقات کے ساتھ پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کا مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے باعث پاکستان کو بڑے پیمانے پر انسانی اور اقتصادی نقصان برداشت کرنا پڑا لیکن تمام تر نقصانات کے باوجود پاکستانی قوم کے عزم کو نہیں توڑا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ برسلز میں پاکستان کو درپیش حیلنجز‘ خدشات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کو آگاہ کیا ہے اور دہشت گردی کے مسئلہ کے بنیادی نکات پر بات کی۔ جنرل کیانی نے کہا کہ دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کو سمجھنے اور حل کرنے کی ضرورت ہے‘ پاک فوج ا ور پاکستانی عوام کی قربانیوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عزم کو مضبوط کیا‘ افغانستان کے حوالے سے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے‘ وہ افغانستان کے لئے کبھی ایسا کچھ نہیں چاہتے جو وہ پاکستان کے لئے نہ چاہتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ 2009ءمیں وزیرستان میں ہونے والے ملٹری آپریشنز کے باعث افغانستان میں صورتحال بہتر ہوئی۔ آرمی چیف نے آئندہ ہونے والے فوجی آپریشنز کے لئے پانچ رہنما اصول دیتے ہوئے کہا کہ رائے عامہ‘ میڈیا کا تعاون‘ فوج کی صلاحیت‘ ہماری جنگ امریکہ کی جنگ نہیں اور جامع حکمت عملی ہماری پالیسی کے بنیادی نکات ہیں‘ نیٹو حکام سے ملاقاتوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ نیٹو حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ ہماری سٹرٹیجک صورتحال کو مکمل طور پر سمجھیں‘ پاکستان دنیا بھر میں دوسری بڑی مسلم قوم ہے جو مختلف چیلنجز سے نبرد آزما ہے‘ پاکستان میں اس وقت تیس لاکھ افغان مہاجرین موجود ہیں‘ پاکستان میں اس وقت آرمی آپریشنز درمیانے دور سے گذر رہے ہیں جس میں حاصل کئے جانے والے علاقوں کو محفوظ بنایا جا رہا ہے‘ اگر ان علاقوں کو محفوظ نہ بنایا گیا تو دہشت گرد یہاں دوبارہ آ سکتے ہیں‘ جنرل کیانی نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کیا ہے‘ ہم دہشت گردی کے خطرہ سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں اور پوری پاکستان قوم ہمارے ساتھ ہے‘ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے افغان نیشنل آرمی اور افغان نیشنل پولیس کو تربیت دینے کی پیشکش بھی کی ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ انہوں نے نیٹو کمانڈروں کو بتایا کہ ہماری ضروریات کو سمجھیں‘ پاکستان دنیا کا دوسرا بڑا اسلامی ملک ہے جو انتہائی حساس خطے پر واقع ہے ہمارے اپنے مفادات ہیں اور ہم مختلف تہذیبوں کے سنگم پر بیٹھے ہیں جہاں تنازعات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ہم نے 30 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی‘ ہمارے آپریشنز مذکورہ اصولوں پر آگے بڑھ رہے ہیں ہمیں اپنی کامیابیوں کو مستحکم کرنا اور خطے کو محفوظ کر کے وہاں استحکام لانا ہے تاکہ یہاں دوبارہ دہشت گرد قبضہ نہ کر سکیں۔ ہمارے وسائل محدود ہیں انٹیلی جنس صلاحیت بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے محدود مالیاتی وسائل کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ انہوں نے دہشت گردی کی بنیادی وجوہات سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی ہمارا اپنا مفاد ہے اور ہم اس لعنت کو ختم کر کے دم لیں گے‘ جانی و مالی نقصانات کے باوجود پاک فوج اور عوام کے عزم کو متزلزل نہیں کیا جا سکتا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions