پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے افراط زر بڑھے گا‘ کسان 17 ارب کا اضافی بوجھ برداشت کریں گے

ـ 2 دسمبر ، 2009
  • Adjust Font Size

لاہور (کامرس رپورٹر) حکومت کی جانب سے پٹرول‘ ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اضافے سے افراطِ زر میں ایک سے ڈیڑھ فیصد اضافہ ہوگا۔ کسانوں پر 17 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑیگا۔ صنعتی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے اور آج (بدھ) سے 20 کلو آٹے کے تھیلے کی ایکس مل قیمت میں 5 روپے سے 10 روپے‘ 84 کلو میدے کی بوری کی ایکس مل قیمت میں 50 روپے اور سوجی کی 50 کلو بوری کی ایکس مل قیمت میں 25 روپے اضافے کا اعلان متوقع ہے۔ ورلڈ بینک کے سابق نائب صدر اور سابق وزیر خزانہ شاہد حفیظ کاردار نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ایک فیصد کے لگ بھگ افراطِ زر میں اضافہ ہوگا۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونے پر عوام پر یہ اضافہ منتقل کرنا پڑیگا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی قیمتیں تو عوام پر منتقل کردی جاتی ہیں لیکن حکومت نے اپنی ترجیحات میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ غیرترقیاتی اخراجات میں کمی نہیں کی گئی۔ ترقیاتی اخراجات کے نام پر وزیروں اور افسروں کی کوٹھیاں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں لیکن انڈر پاس اور فلائی اوور بنائے جا رہے ہیں۔ دنیا کے ہر ملک میں صدر‘ وزیراعظم سمیت بڑے عہدیدار اپنی آمدن پر ٹیکس ادا کرتے ہیں لیکن پاکستان میں چیف ایگزیکٹو‘ وزیراعظم سمیت کوئی بڑا ٹیکس نہیں دیتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اپنی ترجیحات کو ازسرنو طے کریں اور اپنی مینجمنٹ درست کی جائے۔ وفاق ایوانہائے تجارت و صنعت پاکستان کی ریجنل کمیٹی برائے امپورٹ اینڈ ٹریڈ کے چیئرمین خواجہ خاور رشید نے کہا کہ اوگرا نے غنڈہ گردی کرکے پٹرولیم کے ریٹ میں اس وقت اضافہ کیا جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں نیچے آرہی ہیں جس سے عوام کا استحصال کیا گیا ہے۔ صنعت پہلے ہی شدید مسائل کا شکار ہے۔ ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہوجائیگا جس سے برآمدات میں کمی ہوگی‘ صنعتی یونٹس بند ہونگے اور بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوگا۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کے ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر اجلاس طلب کرلیا گیا ہے اور آج آٹے کے 20 کلو تھیلے کی ایکس مل قیمت میں 5 روپے سے 10 روپے‘ 84 کلو میدے کی بوری کی ایکس مل قیمت میں 50 روپے اور 50 کلو سوجی کی بوری کی ایکس مل قیمت میں 25 روپے اضافہ متوقع ہے۔ سابق وفاقی وزیر زراعت سلطان علی چودھری نے کہا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ زراعت سے زیادتی ہے۔ زراعت میں ٹریکٹر اور ٹیوب ویل ڈیزل سے چلتے ہیں۔ ڈیزل کی قیمت میں اضافے سے گندم کی بوائی پر منفی اثر پڑیگا۔ دریائوں میں پانی کم ہے اور ڈیزل مہنگا ہونے سے کسان ٹیوب ویل سے پانی نہیں لگائینگے جس سے گندم کی پیداوار شدید متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ فیپ کے چیف کوآرڈینیٹر ڈاکٹر طارق بچہ نے کہا کہ پٹرولیم کی قیمتیں بڑھانے کا معاملہ عدالت میں زیرالتواء ہے‘ اسکے باوجود حکومت نے قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے۔ ملک میں گندم کی بوائی ہورہی ہے جسے پانی دینے کیلئے کسان ڈیزل سے ٹیوب ویل نہیں چلا سکیں گے۔ گندم کی پیداوار متاثر ہوگی۔ حکومت کو غذائی ضرورت پوری کرنے کیلئے گندم درآمد کرنی پڑیگی اور منافع غیرملکی کسانوں کو ملے گا۔ ایگری فورم پاکستان کے چیئرمین ابراہیم مغل نے کہا کہ ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے زراعت پر برے اثرات مرتب ہونگے۔ ایک جانب کسانوں کو زرعی اجناس کی مناسب قیمتیں نہیں مل رہی ہیں‘ دوسری جانب زراعی لوازمات کی قیمتوں میں اضافہ نے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے۔ زراعت میں ڈیزل کا سالانہ استعمال 3 ارب لیٹر ہے اور اس اضافے سے ایک محتاط اندازے کے مطابق کسانوں پر 17 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑیگا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions