پاک فوج نے دہشت گردی کے بعد سیلابی صورتحال میں کامیاب ریسکیواورریلیف آپریشن کرکے نہ صرف اپنے آبرومندانہ تشخص کو اجاگرکیا ہے بلکہ ہزاروں انسانوں کو سیلابی ریلوں کی نذرہونے بچایا ہے ۔

ـ 1 ستمبر ، 2010
  • Adjust Font Size
پاک فوج نے دہشت گردی کے بعد سیلابی صورتحال میں کامیاب ریسکیواورریلیف آپریشن کرکے نہ صرف اپنے آبرومندانہ تشخص کو اجاگرکیا ہے بلکہ ہزاروں انسانوں کو سیلابی ریلوں کی نذرہونے بچایا ہے ۔

وطن عزیزکا اہم ترین قومی ادارہ ہونے کے ناطے مسلح افواج نے آزمائش اورمشکل کی ہرگھڑی میں اپنا سماجی کرداراداکرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ مظبوظ ادارے قوموں کے استحکام کے آئینہ دارہوتے ہیں ۔ خیبرپختونخواہ سے سکھراوربلوچستان سے سندھ کے تاریخی مقام ضلع ٹھٹھہ میں بحرہندکے کناروں تک ایک تہائی پاکستان سیلابی تباہ کاریوں کی زدمیں ہے پانی میں گہرے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے دریاؤں کے حفاظتی پشتوں اوربندوں کی حفاظت کے علاوہ افواج کے ساٹھ ہزارجوانوں اورافسران نے سیلاب زدگان کی عملی مدد کرکے اپنے آبرومندانہ تشخص کو اجاگرکیا ہے۔
یہ بات درست ہے کہ ماضی میں جرنیلوں کے اقدامات کی بدولت فوج اورعوام میں مقبولیت کو شدید دھچکا لگا لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ اورسیلاب کی موجودہ صورتحال میں فوج کا اہم اورفعال کردارماضی کی تلخیوں کو کم کرنے میں کارآمد ثابت ہوا ہے۔
پاک فوج اورسول انتظٓامیہ نے باہمی اشتراک سے سندھ میں سپرفلڈ کا مقابلہ کرنے کے لیے جو حکمت عملی وضع کی مسلح افواج کے جانبازوں نے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں ،نظم وضبط اورعسکری تقاضوں کے مطابق اپنا کرداراداکرکے سندھ کو جان واملاک کے کثیرنقصان سے بچایا ۔ سول انتظامیہ کے ساتھ پاک فوج کے منظم ریسکیو،ریلیف آپریشن کا نتیجہ ہے کہ دوسرے صوبوں کے مقابلے میں سندھ میں جانی نقصان نہ ہونے کےبرابرہے

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions