جسٹس اعجازالحسن اور جسٹس سید منصورعلی شاہ پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ نیب کی طرف سے وکیل طالب رضوی عدالت میں پیش ہوئے۔ نوازشریف اور شہبازشریف کے وکیل شاہد حامد نے عدالت کو بتایا کہ شریف برادران کے خلاف بنائے گئے مقدمات سے انہیں بری کردیا گیا ہے، تاہم نیب انہیں اثاثوں کا ریکارڈ واپس دینے میں حیلے بہانے کررہی ہے ۔ سماعت کے دوران نیب کے وکیل طالب رضوی نے موقف اختیار کیا کہ شریف برادران کی طرف سے دئیے گئے بینک چیک اور ان کی کمپنیوں کے حصص کا ریکارڈ تلاش کررہے ہیں جو تاحال مل نہیں سکا۔ جس پرڈویژن بینچ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کو شریف برادران کے قبضے میں لیے گئے اثاثوں کا ریکارڈ نہیں مل رہا تو یہ افسوسناک صورتحال ہے۔ وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے تمام اثاثوں کی فہرست تیار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ فاضل بینچ نے اسلام آباد اور لاہور کے ڈی جی نیب کو شریف برادران کے اثاثوں کے ریکارڈ سمیت عدالت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت تین ستمبر تک ملتوی کردی۔
Post New Comment