سپریم کورٹ نے پراسیکیوٹر جنرل نیب کی تقرری کو کالعدم قراردیتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ چیئرمین نیب کا تقررایک ماہ کے اندر کیا جائے۔

ـ 1 ستمبر ، 2010
  • Adjust Font Size
سپریم کورٹ نے پراسیکیوٹر جنرل نیب کی تقرری کو کالعدم قراردیتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ چیئرمین نیب کا تقررایک ماہ کے اندر کیا جائے۔

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس غلام ربانی اورجسٹس خلیل الرحمان رمدے پرمشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بینک آف پنجاب فراڈ کیس کی سماعت کے دوران چیئرمین نیب کی تقرری کے حوالے سے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا ۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے آج فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ چیئرمین کا عہدہ ایک آئینی حیثیت رکھتا ہے اور نیب کا کوئی دوسرا عہدیدار بطور قائم مقام چیئرمین نیب فرائض سرانجام نہیں دے سکتا۔ لٰہذا حکومت اس آئینی عہدے کو تیس دن کے اندر پُر کرے۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں پراسیکیوٹر جنرل نیب عرفان قادر کی تقرری کوبھی غیرقانونی قرار دیا ہے۔

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions