پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی سطح بتدریج کم ہورہی ہے تاہم ان علاقوں میں گیسٹرو اور ملیریا نے وبائی امراض کی شکل اختیارکرلی ہے ۔ ڈائریکٹرہیلتھ سروسز پنجاب ڈاکٹرتنویرکے مطابق ضلع راجن پورمیں گیسٹرو کے مریضوں کی تعداد سولہ ہزارسے زائد ہوچکی ہے جبکہ اب تک اس ضلع میں پینتیس افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ محکمہ صحت کی ٹیمیں ریلیف کیمپوں اورمتاثرہ علاقوں میں گیسٹرو کے مریضوں کو ویکسینیشن دے رہی ہیں ۔ ان علاقوں میں بچے زیادہ متاثر ہورہے ہیں ۔ دوسری جانب جامپور، کوٹ مٹھن اور روجھان شہر میں کھڑے سیلابی پانی کو پمپوں کی مدد سے نکالا جارہا ہے جبکہ بیشتر علاقوں میں متاثرین نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے گھروں کی تعمیرومرمت کا کام شروع کردیا ہے ۔ رحیم یار خان کے علاقوں چاچڑاں شریف ، لنجی وار، رکن پور، کوٹ سبزل میں سیلاب متاثرین تاحال امداد سے محروم ہیں ۔ متاثرین کو خیموں ، خوراک ، ادویات اورصاف پانی کی اشد ضرورت ہے ۔ ناقص پانی پینے سے چاچڑاں شریف ، بیٹ بھٹواورترنڈہ محمد پناہ میں پانچ افراد جاں بحق ہوگئے ۔ میانوالی کی تحصیل عیسٰی خیل کے علاقوں ساندہ والا، کچہ عالم خان والااور ڈیرہ نمبرداراں والا میں سیلابی پانی تاحال آبادیوں میں موجود ہے جس سے ہر روز گیسٹرو، ملیریا اور ہیضہ کے مریضوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔ بھکر کی تحصیل دریاخان اور کلورکوٹ جبکہ لیہ کی تحصیل کروڑ لعل عیسن میں موبائل میڈیکل یونٹس متاثرہ علاقوں میں نہیں پہنچ سکے جس کی وجہ سے پانچ ہزار سے زائد مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے ۔ پنجاب حکومت کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ٹیمیں تشکیل دے کر سروے کا کام تیس ستمبر تک مکمل کرنے کا ہدف دے دیا گیا ہے ۔
Post New Comment