لاڑکانہ کے قریب سیم کینال میں پڑنے والے شگافوں کو اب تک ُپر نہیں جاسکا جس کے باعث تیرہ دیہات زیرآب آگئے ہیں۔

ـ 1 ستمبر ، 2010
  • Adjust Font Size
لاڑکانہ کے قریب سیم کینال میں پڑنے والے شگافوں کو اب تک ُپر نہیں جاسکا جس کے باعث تیرہ دیہات زیرآب آگئے ہیں۔

خیرپورناتھن شاہ کے قریب ایم این وی ڈرین میں شگاف پڑنے سے قریبی دیہات زیرآب آگئے ہیں ۔ گاجی کھاوڑ میں تین حفاظتی بند بہہ جانے سے پورا علاقہ اور سیم کینال میں پڑنے والے شگاف سے گوٹھ جلبانی سمیت تیرہ دیہات زیرآب آ چکے ہیں۔ سیلابی ریلا ضلع قمبر شہدادکوٹ کے علاقے نصیر آباد اور ضلع لاڑکانہ کے شہروں باڈہ اور وارہ کی جانب بڑھ رہاہے۔ دوسری جانب شہداد کوٹ کے عارضی حفاظتی بند پر سیلاب کا شدید دباؤ ہے۔انتظامیہ کے مطابق شہداد کوٹ شہر آئندہ چوبیس گھنٹوں تک خطرے کی زد میں رہے گا۔ ادھر ٹھٹھہ کی تحصیل سجاول میں گزشتہ تین روز سے چارسے پانچ فٹ پانی کھڑا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے سیلاب میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لیے تاحال کوئی اقدامات نہیں کیے گئے اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔ ٹھٹھہ کی تحصیل جاتی کی یونین کونسل مرد کھوسو میں کئی دیہات زیرآب آگئے ہیں جبکہ ضلع دادو کے ایم وی ڈرین میں تین مقامات میں شگاف سے دو گوٹھ ڈوب گئےہیں ۔ادھر نوابشاہ کے قریب مڈمنگلی ، میکاروڈھورو، لاکھاٹ اور بچل پوربندوں پر پانی کی سطح میں کمی آرہی ہے۔ محکمہ آبپاشی کے مطابق انتہائی حساس قراردیے گئے حفاظتی بندوں میں کٹاؤ جاری ہے جسے روکنے کے لیے عملے کو الرٹ کردیا گیا ہے۔

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions