عدالتی فیصلے پر عمل نہ کرنے سے غیر جمہوری قوتوں کیلئے راستہ بنے گا‘ ذمہ دار پیپلز پارٹی ہوگی : اقبال ظفر جھگڑا

ـ 1 ستمبر ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (سلمان غنی) مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنماءاقبال ظفر جھگڑا نے کہا ہے کہ سرحد کے عوام پختونخواہ کے حق میں تھے اور نہ کالا باغ ڈیم کےخلاف، بڑے ڈیمز کی مخالفت کرنیوالوں کے سیاسی عزائم ہیں۔ فیصلے ملکی مفاد میں ہونے چاہئیں۔ 18 ویں ترمیم کے مقاصد پورے نہ ہوسکے نہ استحکام آیا نہ عوام کی حالت زار بدلی۔ بیڈ گورننس اپنی جگہ لیکن مارشل لاءکا کوئی جواز نہیں۔ جمہوریت ہی مسائل کا حل ہے۔ عوام کی امیدیں، توقعات، حکومت سے پوری نہ ہوسکیں۔ مڈٹرم انتخابات جمہوری آپشن ہے۔ اس کیلئے عوام کو میدان میں آنا پڑیگا۔ این آر او پر عدالتی فیصلہ پر عملدرآمد بھی عدالت عظمیٰ کی ذمہ داری ہے۔ حکومت نے ضد نہ چھوڑی تو اپنے پاﺅں پر خود کلہاڑی مارنے کی مرتکب ہوگی۔ فیصلہ پر عملدرآمد کیلئے آئینی اداروں کو بروئے کار لانا پڑیگا۔ امریکی دباﺅ سے نجات کیلئے ”ڈومور“ کے سامنے ”نو مور“ کہنے والی قیادت چاہئے۔ یہ فریضہ بھی ایٹمی دھماکوں پر آنے والے عالمی ردعمل کو ٹھکرانے والے نوازشریف ہی نبھائیں گے۔ وہی امریکہ کے سامنے کھڑے ہونگے۔ وہ وقت نیوز کے پروگرام ”اگلا قدم“ میں اظہار خیال کررہے تھے۔ پروگرام کے پروڈیوسر میاں شاہد ندیم اور اسسٹنٹ پروفیسر وقار قریشی تھے۔ اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے قومی جذبہ کی ضرورت تھی۔ حکومت خود اس پر اثرانداز ہوئی۔ قومی کمیشن پر حکومتی ردعمل اسکی بدنیتی کا ثبوت ہے۔ قومی کمیشن بنا ہوتا تو آج صورتحال یکسر مختلف ہوتی۔ دنیا بھاگ کر ہماری مدد کو آتی۔ آج حکومت کے آگے شفافیت اور گورننس کا سوال کھڑا ہے۔ سیلاب پر حکومتی کردار خیبر پی کے میں بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ صوبوں کو کردار دئیے بغیر معاملات آگے نہیں بڑھیں گے۔ ہم فرینڈلی اپوزیشن نہیں، ہم نے عوام کی آواز ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ 13 وزارتیں قربان کرکے میدان میں آکر کھڑے ہونیوالوں کو فرینڈلی اپوزیشن کے طعنے زیب نہیں دیتے۔ این آر او اور کیری لوگر بل پر ہمارا موقف اور کردار دنیا جانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پی کے کے نام پر مسلم لیگ (ن) کو ٹارگٹ کرنا درست نہیں۔ صدر زرداری اور اے این پی کے درمیان پہلے سے طے تھا۔ ہزارہ صوبہ کے مسئلہ کو (ق) لیگ کے سیاستدانوں نے غلط استعمال کیا۔ اتنے مُصر تھے تو اپنے دور میں کیوں نہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کوئی تبدیلی نہ لاسکی، قوم کی توقعات پوری نہ ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین نے مارشل لاءاقدامات کا ذکر کیوں کیا، یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ یہ کیسی سیاسی جماعت اور قیادت ہے جو مارشل لاءکی بات کرتی ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ حکومت اپنے پانچ سال پورے کرے۔ بدقسمتی سے عوام مسائل کی آگ میں جل رہے ہیں۔ مڈٹرم انتخابات کا مطالبہ ہم نے نہیں کرنا، عوام چاہتے ہیں تو باہر نکلیں۔ اسمبلی کے اندر سے تبدیلی پیپلز پارٹی میں ہوسکتی ہے۔ انہوں نےکہا کہ پارلیمنٹ کو جو کردار ادا کرنا چاہئے تھا وہ اب تک سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ این آر او پر عدالتی فیصلہ پر عملدرآمد نہ کرکے حکومت اپنے پاﺅں پر کلہاڑی مارےگی۔ غیرجمہوری قوتوں کیلئے راستہ کھلے گا۔ حکومت ہوش کے ناخن لے، غیرجمہوری تبدیلی ہوگی تو ذمہ دار پیپلز پارٹی ہوگی۔ دہشت گردی کا سول مسئلہ ہے۔ دہشت گردی پر پارلیمنٹ کی قرارداد میں حل موجود تھا۔ ڈرون حملوں کا خاتمہ، مذاکرات کا راستہ اور آزاد خارجہ پالیسی دہشت گردی سے نجات دلا سکتی ہے۔ ”ڈو مور“ کی پالسیی کا توڑ ”نو مور“ کہنے والی قیادت ہے۔ تاریخ بتائیگی کہ نوازشریف ہی امریکہ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ ایٹمی دھماکہ پر ان کی جرات تاریخی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وسائل اور امدادیں متاثرین تک پہنچنی چاہئیں۔ یہ کام صوبے ہی کرسکتے ہیں۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions