لاہور + گوجرانوالہ + وزیرآباد (خصوصی نامہ نگار + نمائندہ خصوصی + نمائندہ نوائے وقت) امیر جماعت اسلامی منور حسن نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی ریاستی دہشت گردی میں روز بروز اضافے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکمران احتجاج کرتے ہیں نہ ہی عالمی امن کے ٹھیکیدار اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ڈھونگ رچانے والے مغربی ممالک نوٹس لیتے ہیں کیونکہ مرنے والے مسلمان ہیں اور ان کے نزدیک مسلمانوں کے کوئی انسانی حقوق نہیں۔ گذشتہ شام جماعت اسلامی وزیرآباد کی دعوت افطار سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے منور حسن نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا واحد حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت ہے اور پاکستان ایک فریق کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے تباہی اس سے کہیں زیادہ ہے جو میڈیا میں آئی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں جائیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ تن پر موجود کپڑوں کے علاوہ لوگوں کے پاس کچھ نہیں بچا۔ مرکزی و صوبائی حکومتوں نے ہر مرحلے پر مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے‘ ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جن وزیروں اور جاگیرداروں نے اپنی زمینیں بچانے کےلئے شہر ڈبو دیئے، انہیں کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر امداد کی تقسیم اور بحالی کے عمل کی نگرانی کےلئے قومی کمشن تشکیل دیا جائے ورنہ فرانس جیسا انقلاب آئےگا۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک چوروں، لٹیروں اور رسہ گیروں کی گرفت میں ہے۔ لاکھوں افراد کو پانی کے رحم و کرم پر چھوڑ کر دنیا بھر سے آنے والے امداد کی بندر بانٹ کی جارہی ہے۔ سعودی عرب کی اڑھائی ٹن کھجوریں غائب کر دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ امانتوں میں خیانتیں کرنے والے حکمران اللہ کے غضب کو بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی کرکٹ ٹیم کےخلاف انگریز سازش کر رہا ہے۔ الزام ثابت ہونے سے پہلے ہی ہمارے حکمرانوں کا جواءتسلیم کر لینا ثابت کرتا ہے کہ ہمارے حکمران غیرملکی آقاﺅں کے پٹھو ہیں۔ تقریب سے قدرت بٹ، مشتاق بٹ، عبیداللہ گوہر، صابر بٹ نے بھی خطاب کیا۔
Post New Comment