سانحہ سیالکوٹ: سابق ڈی پی او وقار چوہان باقاعدہ گرفتار‘ آج خصوصی عدالت پیش کیا جائیگا

ـ 1 ستمبر ، 2010
  • Adjust Font Size

سیالکوٹ + اسلام آباد (نامہ نگار + ریڈیو نیوز + وقت نیوز + ایجنسیاں) سابق ڈی پی او سیالکوٹ وقار چوہان سمیت 6 اہلکاروں کو سانحہ سیالکوٹ کے الزام میں باقاعدہ طور پر گرفتار کر لیا گیا جن کو آج انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت گوجرانوالہ میں ریمانڈ پر پیش کیا جائیگا جبکہ ڈی پی او بلال صدیق کمیانہ نے بتایا کہ بلال صدےق کمیانہ نے اپنے دفتر میں میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ سابق ڈی پی او سیالکوٹ وقار احمد چوہان اور دیگر پانچ پولیس کانسٹےبلوں محمد یاسین، بشیر احمد ، ناظر حسےن ، نصےر احمد اور محمد اکرم کو ہلاک ہونے والے دونوں سگے بھائیوں مغےث سجاد او رمنیب سجاد کے چچا مدعی مقدمہ ضرار بٹ سے شناخت کرکے نامزد کیا ہے جس کے بعد ان کی گرفتارےوں کا مقدمہ کے ریکارڈ میں اندراج کرکے باقاعدہ تفتےش شروع کردی گئی ہے۔ سانحہ سیالکوٹ کے سلسلہ میں غفلت ولاپرواہی کے الزام میںمقدمہ کے تفتےشی سب انسپکٹر شہنشاہ بخاری اور گرفتار ایس ایچ او انسپکٹر راناا لیاس کو حراست سے فرار کروانے والے سب انسپکٹر عبدالرشید کو بھی گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ مقدمہ میں مطلوب سابق ایس ایچ او انسپکٹررانا محمد الیاس سمیت دےگر مفرور چار پولیس اہلکاروں سمیت پانچ ملزمان کی گرفتارےوں کیلئے چھاپے جاری ہیں جبکہ سپریم کورٹ 2 بھائیوں کے قتل کیخلاف ازخود نوٹس کی سماعت آج بدھ کے روز کریگی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ کریگا‘ علاوہ ازیں علاقہ مجسٹرےٹ وسول جج سیالکوٹ قیصر حسےن مرل نے سانحہ سیالکوٹ کے تفتےشی آفےسر سمیت چار پولیس اہلکاروں کوچودہ جوڈیشل ریمانڈ پر ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ بھجوادیا ہے ۔ ایس ایچ او تھانہ صدر انسپکٹر رانا ذوالفقار علی کی سربراہی میں پولیس کی بھاری نفری نے گرفتار سب انسپکٹر شہنشاہ بخاری ، اے ایس آئی سرفراز ، پولیس کانسٹےبل محمد نواز اورپولیس کانسٹےبل محمد یاسر کو فاضل جج کی عدالت میںپیش کیا جہاں عدالت نے ان ملزمان کو چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ بھجوانے کا حکم دیدیا۔ ادھر مقدمہ میں گرفتار17ملزمان سے پوچھ گچھ جاری ہے اور دونوں بھائیوں کی ہلاکت کیلئے استعمال ہونے والے ڈنڈے اورلاٹھےاں پولیس نے ملزمان کی نشاندہی پر برآمد کرلی ہیں۔ ایڈیشنل آئی جی مشتاق سکھےرا کی سربراہی میںسانحہ سیالکوٹ کی تحقےقات کرنےوالی پنجاب حکومت کی پانچ رکنی ٹےم نے سابق ڈی پی او سیالکوٹ وقار احمد چوہان اور سابق ایس ایچ او انسپکٹر رانا الیاس سمیت دس پولیس ملازمین کو نعشوں کی بے حرمتی کا قصور وار قرار دیدیا ہے اور ان پولیس افسران واہلکاروں کے خلاف تعزرات پاکستان کی دفعہ297کے تحت کارروائی عمل میںلائی جائے گی۔ قانونی ماہرین کے مطابق زیر دفعہ 297 قابل ضمانت جرم ہے اور اس کی سزا ایک سال قید مقرر ہے اور اس وجہ سے سابق ڈی پی او سیالکوٹ وقاراحمد چوہان کی ضمانت ہوسکتی ہے۔ علاوہ ازیں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق آج (بدھ کو) اپنے اہم اجلاس میں سانحہ سیالکوٹ کا جائزہ لے گی اس ضمن میں سیالکوٹ کے ڈی پی او اور ڈی سی او کو طلب کیا گیا ہے۔ این این آئی کے مطابق تشدد سے مارے جانے والے دو بھائیوں مغیث اور حافظ منیب کے والدین نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی طرف سے مالی امداد کے طور پر بھجوائے گئے پانچ ، پانچ لاکھ روپے کے دو چیک شکریہ کے ساتھ واپس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں پیسے نہیں انصاف چاہئے، یہ رقم ہماری بجائے سیلاب زدگان کی مدد کیلئے خرچ کی جائے۔ ذرائع کے مطابق میاں شہباز شریف نے سیالکوٹ سے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی خواجہ محمد آصف کے ذریعے دونوں بھائیوں کے والدین کو 5-5 لاکھ روپے کے چیک مالی امداد کے طور پر بھجوائے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions