سیلاب سے تباہی ناقابل بیان ہے‘ مخیر حضرات کو متاثرین کی بحالی میں کردار ادا کرنا ہوگا : شہبازشریف

ـ 1 ستمبر ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (خبرنگار خصوصی) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو تاریخ کے بدترین سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا ہے اور سیلاب سے جو تباہی ہوئی ہے وہ نہ صرف ناقابل بیان ہے بلکہ قوم نے تباہی کے ایسے مناظر اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے، مخیر حضرات کو آگے بڑھکر مصیبت زدہ عوام کا ہاتھ تھامنا ہو گا اور متاثرین کی بحالی کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا، ہم سیلاب کے نقصانات کے ازالے اور متاثرین کی بحالی کیلئے پُرعزم ہیں اور مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے متاثرہ بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم وفاقی حکومت کی طرف سے فنڈز کی فراہمی میں تاخیر کے باوجود متاثرین سیلاب کی بھرپور امداد کرینگے اور انہیں حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑینگے۔ سیلاب سے لاکھوں ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں سیلاب کی نذر ہو گئیں اور کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ پنجاب حکومت متاثرین کی امداد اور بحالی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور سیلاب زدہ علاقوں میں وبائی امراض کی روک تھام پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز جھنگ‘ لیہ‘ مظفر گڑھ اور راجن پور کے مختلف اضلاع کے مختلف مقامات پر سیلاب متاثرین سے خطاب‘ میڈیا سے گفتگو‘ پاکستان میں یوکرائن کے سفیر آئی ہورپاسکو اور پنجاب شوگر ملز کے چیئرمین، تاجروں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ ملاقات میں چیئرمین پنجاب شوگر ملز ایسوسی ایشن جاوید کیانی نے صوبے کی شوگر ملز کی جانب سے سیلاب متاثرین کی امداد اور بحالی کے لئے 10کروڑ 25لاکھ روپے ،صدر ایوان صنعت و تجارت اوکاڑہ ارشد اقبال نے 20لاکھ روپے، آرکیٹیکٹ فیض اللہ قریشی نے5لاکھ اور خادم حسین قصوری نے2لاکھ روپے کا چیک پیش کیا۔ شہبازشریف نے کہاکہ آزمائش کی اس گھڑی میں سیلاب متاثرین کی امداد اور بحالی کے لئے عطیات دینے والوں کا جذبہ قابل ستائش ہے اور اللہ انہیں دکھی انسانیت کی خدمت پر اجر دے گا۔ لاہور میں بیٹھ کر سیلاب کی تباہ کاریوں کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ اس موقع پر سردار ذوالفقار کھوسہ، سینیٹر پرویز رشید، خواجہ سعد رفیق، شیخ علاﺅ الدین اور ہارون اختر بھی موجود تھے۔ علاوہ ازیں شہبازشریف سے پاکستان میں یوکرائن کے سفیر مسٹر آئی ہورپاسکو نے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان میں سلاب کی تباہ کاریوں، متاثرین کی امداد اور بحالی اور دونوں ممالک کے مابین اقتصادی و تجارتی تعلقات بڑھانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ شہبازشریف نے کہاکہ سیلاب کی وجہ سے ملک میں تقریباً 2کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ اربوں روپے مالتی کی فصلات تباہ اور بڑے پیمانے پر گھر منہدم ہو گئے ہیں اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔ پہلے مرحلے میں متاثرین کے ریسکیو اور ریلیف کا عمل جاری ہے اور دوسرے مرحلے میں ریلیف کیمپوں سے متاثرین کو ان کے گھروں میں آباد کرنا اور معاشی طور پر انہیں اپنے پاﺅں پر کھڑا کرکے زندگی کی دوڑ میں دوبارہ شامل کرنا ہے۔ متاثرین کی دوبارہ بحالی اور تباہ ہونے والے گھروں اور انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کے لئے بھی جامع حکمت عملی اپنائی گئی ہے، متاثرین کو طبی سہولتوں کی فراہمی کے لئے کینیڈا اور ترکی نے فیلڈ ہسپتال قائم کئے ہیں اور ان علاقوں میں ایسے ہسپتالوں کی مزید ضرورت ہے، مصیبت کی اس گھڑی میں دوست ممالک کی امداد پر شکرگزار ہیں۔ سیلاب زدگان سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یہ مشکل وقت انشاءاللہ گزر جائے گا اور بے گھر لوگ ایک بار پھر اپنے گھروں میں آباد ہوں گے ۔ متاثرین کو معقول معاوضہ دیا جائے گا اور سیلاب کی وجہ سے قصبوں ، دیہاتوں اور شہروں میں ٹوٹنے والی سڑکیں تباہ ہونے والے سکول ، ڈسپنسریاں اور ہسپتال دوبارہ تعمیر کئے جائیں گے ۔ اس کام کے لئے اربوں روپے درکار ہیں چنانچہ ہم نے یہ وسائل عارضی طور پر پنجاب کے ترقیاتی پروگرام سے حاصل کرنے والا فیصلہ کیا ہے ۔ وفاقی حکومت سے امدادی فنڈز کی وصولی پر ترقیاتی پروگرام میں ہونے والی کمی پوری کر دی جا ئے گی ، صوبے کے ترقیاتی پروگرام اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں لیکن ہماری اولین ترجیح اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی امداد اور بحالی ہے ۔پیشتر ازیں شور کوٹ میں ضلعی اور مقامی انتظامیہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ دریائے چناب کے ساتھ زیر آب آنے والے علاقے میں جو ڈسپنسریاں ، سکول ،ویٹرنری سنٹر اور سڑکیں متاثر ہوئی ہیں ان کی بحالی اور تعمیر کا کام بلا تاخیر مکمل کیا جائے۔وزیراعلیٰ نے لیہ کے دورے کے دوان ڈی سی او کو ہدایت کی کہ وہ واپس جانے والے متاثرین کی فراہمی کے لئے گیس پر چلنے والے مکینیکل تندوروں کا نیٹ ورک فوری طور پر قائم کریں۔ شہبازشریف نے مظفر گڑھ میں سیلاب سے بُری طرح متاثر ہونے والے قصبہ دائرہ دین پناہ کا دورہ کیا اور سیکرٹری صحت کو ہدایت کی کہ جن علاقوں میں سپرے کی ضرورت ہو فوری طور پر کرایا جائے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions