سیلاب سے 60 لاکھ بچے سکولوں سے محروم ہو گئے‘ یونیسکو غیر روایتی تعلیمی مراکز قائم کرے : وزیراعظم گیلانی

ـ 1 ستمبر ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ ریڈیو نیوز + ایجنسیاں) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 60 لاکھ بچے سکولوں سے محروم ہو گئے‘ یونیسکو بچوں کی تعلیم کیلئے غیر روایتی تعلیمی مراکز قائم کرے۔ پاکستان بین الاقوامی برادری کی طرف سے مدد کو سراہتا ہے تاہم آئندہ بحالی کے مرحلہ میں تیزی سے اعانت فراہم کرنے کی ضرورت ہے ورنہ سیلاب زدگان میں مایوسی پیدا ہوگی‘ متاثرہ عوام کو بہت جلد اپنے گھروں کی تعمیر کے لئے معاوضہ کی ضرورت ہوگی اور حکومت کو ایسی موثر اور شفاف حکمت عملی اختیار کرنا چاہیئے ہوگی جو اس نے مالاکنڈ کے بے گھر افراد کو مکانات کی تعمیر کے لئے اختیار کی تھی‘ وزیراعظم نے یہ بات ترقیاتی تعاون کے وزیر سوان پنڈ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی‘ جنہوں نے وزیراعظم سے ملاقات کی تھی‘ وزیراعظم سے وزیر صحت مخدوم شہاب الدین اور یونیسکو کی ڈی جی ارینا بوکووا نے ملاقاتیں کیں‘ وزیراعظم نے کہا کہ یہ بات حوصلہ افزاءہے کہ سیلاب زدگان کی مدد کے لئے ساری قوم اٹھ کھڑی ہوئی ہے تباہی بے پناہ ہے تاہم عوام کا حوصلہ اس سے بڑھ کر ہے وزیراعظم نے ڈنمارک کی طرف سے سیلاب زدگان کی امداد کے فیصلے کو سراہا‘ ڈنمارک کے وزیر نے کہا کہ انہوں نے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا ہے اور وہ اس امر کے قائل ہیں کہ کوئی ملک تنہا اس تباہی سے نہیں نمٹ سکتا‘ ڈنمارک پاکستان کی مدد کے لئے سب کچھ کرے گا‘ ڈنمارک نے پاکستان کے لئے 10 ملین ڈالر کی امداد دی تھی یونیسکو سیلاب زدہ علاقوں میں 60 لاکھ بچوں کے لئے غیر رسمی سکول قائم کرے‘ جبکہ کیمپوں میں اساتذہ کو تربیت دی جائے‘ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے پاکستان میں 11 ہزار سکول تباہ ہو گئے یونیسکو کی ڈی جی نے پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی وزیر صحت سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں صحت کی سہولتوں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے کہا وبائی امراض اور ناقص پانی سے ہونیوالی بیماریوں سے بچاﺅ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے یونیسکو کے سربراہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تعلیم کے شعبے کیلئے بھی عالمی سطح پر امداد کی اپیل جاری کی جائے تاکہ بچوں کا سال ضائع نہ ہو‘ اس پر ڈی جی یونیسکو نے یقین دہانی کرائی۔ امداد کی اپیل جاری کریںگے‘ ثقافتی ورثے کے نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے ماہرین کی ٹیم پاکستان بھیجی جائے گی۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions