ہائیکورٹ نے فیس بک پر پابندی ختم کردی‘ دوبارہ مذموم حرکت ہوئی تو پھر لگا دیں گے : جسٹس اعجاز چودھری

ـ 1 جون ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس اعجاز احمد چودھری نے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف دائر درخواست پر فیس بک پر عائد پابندی اٹھاتے ہوئے قرار دیا ہے کہ فیس بک پر دوبارہ خاکے دکھائے جاتے ہیں تو پھر پابندی لگا دیں گے اور عدالت کے روبرو توہین عدالت کی رٹ درخواست دائر کی جا سکتی ہے اور مزید سماعت 15 جون تک ملتوی کر دی۔ جسٹس اعجاز احمد نے قرار دیا حکومت یہ تمام کام خود دیکھ لے تو عدالتوں کو مداخلت کی ضرورت نہ پڑے۔ سعودی عرب اور دیگر ممالک میں اس حوالے سے چیک اینڈ بیلنس کا کوئی سسٹم موجود ہے تو یہاں بھی اس طرح کا کام ہونا چاہئے۔ وزرات خارجہ کی طرف سے بتایا گیا کہ حکومت پاکستان کی طرف سے پاکستان میں امریکہ کے سفیر کو احتجاج ریکارڈ کرا دیا ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی توہین رسالت کے حوالے سے کسی سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ٹیلی کیمونیکیشن اتھارٹی کی طرف سے مدثر حسین نے بتایا عدالتی احکامات پر پوری طرح عمل درآمد کرایا گیا ہے اور فیس بک کے مالکان نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ فیس بک پر آئندہ ایسی مذموم حرکت نہیں کی جائے گی۔ عدالت عالیہ نے ابتدائی بحث سننے کے بعد ڈپٹی اٹارنی جنرل اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایات جاری کی ہیں کہ اس رٹ پٹیشن پر تفصیلی جواب 15 جون سے قبل داخل کیا جائے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ حکومت پاکستان کو ہدایات جاری کی جائےں کہ حکومت فوری طور پر اقوام متحدہ اور او آئی سی سے رابطہ قائم کرے اور کوشش کرے کہ آئندہ ایسی حرکت نہ ہو۔ فیس بک کے مالکان کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ درج کیا جائے جو ایس ایچ او سول لائن، ایڈیشنل سیشن جج کے احکامات کے باوجود درج نہیں کر رہا۔ عدالت عالیہ نے بحث سننے کے بعد اور پی ٹی اے اور حکومت پاکستان کی یقین دہانی پر کہ فیس بک پر دوبارہ توہین رسالت کا واقعہ نہیں ہو گا فیس بک پر پابندی اٹھا لی۔ محمد اظہر صدیق نے عدالت کو بتایا کہ فیس بک کے مالکان نے 10 جون کو دوبارہ تاریخ رکھی ہے کہ توبہ نعوذ باﷲ خاکے دکھائے جائیں گے۔ اس پر عدالت عالیہ نے ریمارکس دئیے کہ فیس بک پر دوبارہ خاکے دکھائے جاتے ہیں یا توہین رسالت ہوتی ہے تو آپ لوگ عدالت عالیہ میں توہین عدالت کی کارروائی کیلئے رجوع کر سکتے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق جسٹس اعجاز چودھری نے اپنے فیصلے میں کہا ہم معلومات تک رسائی روکنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے ریمارکس دئیے اگر مغرب میں برقعہ کو اپنی روایات کے خلاف قرار دیکر اس پر پابندی لگائی جا سکتی ہے تو ہم گستاخانہ خاکے دکھانے والی ویب سائٹ پر پابندی عائد کیوں نہیں کر سکتے۔وقائع نگار خصوصی کے مطابق وزرات خارجہ کی طرف سے ڈائریکٹر جنرل امریکہ سہیل خان کی طرف سے عدالت کے روبرو داخل کئے گئے بیان حلفی میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان کی طرف سے امریکہ کے ساتھ عدالتی فیصلے کی روشنی میں احتجاج ریکارڈ کروایا گیا ہے اور انہیں اس حوالے سے سخت ایکشن لینے کا کہا گیا ہے۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ ایسے اقدامات سے دنیا بھر کی مسلم امہ کے جذبات مجروع ہوئے ہیں۔ صدر اوباما کے اسسٹنٹ نے پاکستان کے سفارت کار سے اس حوالے سے میٹنگ بھی کی جنہوں نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ امریکہ ایسے معاملات کی حساسیت کو سمجھتا ہے اور ایسے اقدامات سے امریکہ کو بھی تشویش ہے۔ پی ٹی اے کی طرف سے داخل کئے جانے والے جواب میں کہا گیا تھا کہ وہ پابندی نہیں لگاتے بلکہ وزیراعظم پاکستان نے 2006ءمیں ایک کمیٹی بنائی تھی جو کہ ایسی ویب سائٹس کے خلاف کارروائی کرتی ہیں۔ اس کمیٹی نے 19 اور 26 مئی کو دو میٹنگز کی تھیں اور فیس بک انتظامیہ سے بھی رابطہ کیا تھا جس نے حکومت پاکستان کو یقین دہانی کروائی ہے کہ لوگوں میں جو تشویش پائی جاتی ہے وہ پاکستان کے قوانین اور اس حوالے سے فیس بک پر کوئی بھی مواد پایا گیا تو فیس بک خود اس ویب سائٹ کو بلاک کر دے گی بلکہ اس کو استعمال کرنے والے صارف پر بھی پابندی عائد کر دی جائے گی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ فیس بک انتظامیہ نے جوائنٹ میٹنگ کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کر دی ہے جبکہ حکومت پاکستان فیس بک پر اب مستقل بنیادوں پر نظر رکھے گی اور دیگر ممالک کی حکومتوں اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں سے بھی رابطہ رکھا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسی کسی بھی صورتحال سے بچا جا سکے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions