اسلام آباد (سٹاف رپورٹر+ ایجنسیاں) پاکستان نے بھارتی فوج کے سربراہ دیپک کپور کے بیان کو بھارت کے مخاصمانہ اور توسیع پسندانہ عزائم کا عکاس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی کے تحفظ کیلئے مکمل تیار اور چوکس ہے‘ کسی کو بھی ہماری سلامتی کو درپیش مذموم مقاصد کو ناکام بنانے کیلئے ہماری صلاحیت اور عزم کے متعلق غلط انداز نہیں لگانا چاہئے۔ عالمی برادری اس طرح کے بیانات کا نوٹس لے‘ اتحادی فوج کو افغانستان چھوڑنے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہئے۔ امریکہ کے ساتھ ڈرون حملوں کے مسئلے پر اختلافات ہیں۔ جمعرات کے روز ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ عبدالباسط نے کہا کہ بھارتی آرمی چیف کا بیان سمجھ سے بالاتر ہے۔ امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ پر تحفظات ہیں۔ غیر ملکی افواج کو کسی بھی صورت پاکستان کی سرزمین پر آنے کی اجازت نہیں دینگے۔ انہوں نے لاہور میں گردوارہ کی اراضی کے متعلق بھارتی تشویش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا آئین اقلیتوں اور ان کے حقوق کے تحفظ کی مکمل ضمانت دیتا ہے‘ وزارت اقلیتی امور اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے۔ سی ٹی بی ٹی کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس پر غور نہیں کر رہا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات پر اخراجات کے بارے میں ترجمان نے بتایا کہ مجموعی طور پر 4 سے 5 ملین ڈالر اخراجات آئیں گے جن میں سے پاکستان 3 ملین ڈالر ادا کرے گا جبکہ باقی امریکہ اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک ادا کرینگے۔ کیری لوگربل کی پہلی قسط آئندہ ماہ پاکستان کو مل جائے گی۔ ترجمان نے کہا کہ امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کے حوالے سے پاکستان کو بعض تحفظات ہیں جن پر امریکہ کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے ان اطلاعات کی تردید کی کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھارت کے ساتھ کوئی بیک چینل ڈپلومیسی ہو رہی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت مذاکرات کیلئے آگے بڑھنے سے مسلسل انکار کر رہا ہے‘ اقوام متحدہ کے فوجی حکام سے ملنے کی درخواست موصول نہیں ہوئی۔ بھارت مسئلہ کشمیر کے حل میں سنجیدہ نظر نہیں آتا‘ مسائل کے حل میں پیشرفت کی گیند اب بھارت کے کورٹ میں ہے۔ بلوچستان اور وزیرستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت مناسب فوم پر پیش کئے جائینگے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کے قرار دادوں کے مطابق چاہتا ہے۔ اگر بھارت کو مسئلہ کشمیر پر معاملات آگے بڑھانے میں جلدی نہیں ہے تو پاکستان کو بھی نہیں ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا مسئلہ صدر بارک اوباما سمیت تمام اعلیٰ امریکی حکام کے سامنے اٹھایا گیا ہے۔
Post New Comment